کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی: درجنوں غیر قانونی کنکشن منقطع، گیارہ افراد پر مقدمہ

نصیرآباد: کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ڈیرہ مراد جمالی میں غیر قانونی واٹر کنکشن لگانے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے درجنوں غیر قانونی کنکشن منقطع کر دیے گئے اور گیارہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔
ایگزیکٹو انجینئر کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم انجینئر ذاکر حسین جمالی کی قیادت اور جونیئر انجینئر محمد ایوب بھٹو کی نگرانی میں پی ایچ ای کے عملے نے درجنوں غیر قانونی کنکشن کاٹ کر سیل کر دیے اور پائپ ضبط کر لیے۔ تین انچ، دو انچ، ڈیڑھ انچ اور ایک انچ قطر کے یہ کنکشن ربی صدر پولیس تھانے کی حدود میں عزیز آباد، عرفان کوٹ، بلال کالونی، پرکانی آباد، وحید آباد مینگل اور دیگر علاقوں میں لگائے گئے تھے۔
ایف آئی آر درج، گرفتاریوں کے لیے کوششیں تیز
غیر قانونی طریقے سے اور خفیہ و گنجان علاقے میں پائپ لائن توڑ کر آبادی کرنے پر ایک بااثر شخص سمیت گیارہ افراد کے خلاف ایکسین ذاکر حسن جمالی کی مدعیت میں صدر پولیس تھانہ ڈیرہ مراد جمالی میں ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ پولیس نے سرکاری مراسلے پر ایف آئی آر نمبر ایس ڈی ار 9/24/2026.81 زیر دفعہ 430 ت پ اور 427 ت پ کے تحت درج کرکے نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ایکسین ذاکر حسین جمالی نے کہا کہ اسکیم سے غیر قانونی واٹر کنکشن لگانے اور پانی زرعی آبادی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور ملوث افراد کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے ایسے عناصر کو غیر قانونی کنکشن لگانے اور پائپ لائن توڑنے سے اجتناب کی تنبیہ کی۔
انہوں نے بتایا کہ پائپ لائن کی نگرانی، مانیٹرنگ اور پٹرولنگ کے لیے مزید سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور پی ایچ ای کے عملے پر مشتمل ٹیمیں ڈیرہ مراد جمالی سے ربی، نوتال، بختیار آباد، بھاگ اور لانڈھی تک پائپ لائن کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اسکیم سے نوتال، لانڈھی، بختیار آباد، بھاگ، ٹنگوٹی، چھلگری اور دیگر کثیر آبادی کو روزانہ پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











