سرفراز بگٹی کا 21ویں نیشنل ورکشاپ سے خطاب: بلوچستان میں انسرجنسی نہیں، علیحدگی کی سوچ پھیلائی جا رہی ہے
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انسرجنسی نہیں بلکہ چند عناصر شناخت کی بنیاد پر علیحدگی کی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایسے عناصر پاکستان کو کیک کی طرح تقسیم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پاکستان کو توڑنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔
وہ کوئٹہ میں 21ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر رکن ایوان بالا سینیٹر دنیش کمار، معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون بھی موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس سے نہ بلوچستان کے نوجوانوں کو کچھ حاصل ہوگا اور نہ ہی صوبے کے مستقبل کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر متوازن ترقی اور پسماندگی کو بلوچستان میں بے امنی کی مرکزی وجہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ غیر متوازن ترقی کا مسئلہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں موجود ہے، تاہم ترقی کے لیے کہیں بندوق نہیں اٹھائی جاتی اور نہ ہی کہیں ناحق خون بہایا جاتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حقائق اور تصور میں فرق کو سمجھیں اور اپنے صوبے کی درست تاریخ سے آگاہی حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک بیٹھے پاکستان مخالف عناصر منظم پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، اس لیے نوجوان تعلیم، ترقی اور روشن مستقبل پر توجہ دیں اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔
میرٹ، اے آئی ٹیسٹنگ اور احتساب
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلیج کم کرنے کے لیے نوجوانوں کو ہر سطح پر سنا جا رہا ہے اور میرٹوکریسی کو فروغ دے کر ہی نوجوانوں کو ان کا جائز حق دیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ٹیسٹنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ملازمتوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ کوئی حق دار اپنے حق سے محروم نہیں رہے گا اور ملازمت صرف میرٹ پر دی جائے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران بلوچستان میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر سو فیصد پیش رفت ہوئی ہے۔ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو فعال کر دیا گیا ہے جبکہ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم بھی پوری طرح متحرک ہے، جس نے ترقیاتی پروگرامز کے معائنے کا آغاز ان کے اپنے حلقے سے کیا تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ احتساب کا عمل بلاامتیاز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے اور گرفتاریاں بھی عمل میں آ رہی ہیں، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شفافیت اور میرٹ یقینی بنانے کے لیے اداروں کو فعال کیا جا رہا ہے۔ صوبے میں اچھی طرز حکمرانی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اس کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ حکومت کا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں میرٹ، شفافیت، جوابدہی اور نوجوانوں کے لیے مواقع یقینی ہوں۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے بلوچستان سمیت ملک بھر سے آئے شرکاء کے سوالات کے جواب دیے اور بہترین کارکردگی دکھانے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں لیپ ٹاپ بھی دیے۔ ڈھائی گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے سوال و جواب کے سیشن میں میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے تاریخی حقائق، صوبے کی موجودہ صورتحال، حکومتی اقدامات اور گورننس سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











