گورنر مندوخیل کا اقوام متحدہ میں یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ سے خطاب: جامعہ بلوچستان میں اے آئی کا بی ایس پروگرام شروع

نیویارک: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا عالمی سربراہی اجلاس موجودہ وقت کے دو متعین کرداروں، نوجوانوں اور مصنوعی ذہانت، پر مرکوز ہے۔ نوجوان پوری انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس چوتھے صنعتی انقلاب کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں «یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ» کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔
گورنر نے کہا: «آج اس شاندار گلوبل سمٹ میں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں کہ بلوچستان نے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔» انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بی ایس پروگرام شروع کیا گیا ہے اور اسی یونیورسٹی کو مکمل طور پر پیپرلیس ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جو ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید تعلیم کی جانب اہم قدم ہے۔ اگلا قدم بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروگرام اور پیپرلیس یونیورسٹی ماڈل کو دیگر تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تک وسعت دینا ہے۔
اس گلوبل سمٹ میں 186 ممالک کے مندوبین شریک ہیں، جبکہ امریکہ میں مقیم ممتاز پاکستانی بزنس مین تنویر احمد اور میکسم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عذیر حسن بھی اس سے خطاب کریں گے۔
گیارہ سرکاری جامعات میں ڈیجیٹل تبدیلی
گورنر مندوخیل نے کہا کہ دنیا تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ محض تکنیکی رجحان نہیں بلکہ ایک متعین قوت ہے جو ہماری مستقبل کی ترقی اور بقا کو بھی تشکیل دے رہی ہے، اور تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، مالیات اور پبلک گورننس سمیت تمام کلیدی شعبوں میں انقلاب برپا کر رہی ہے۔ انہی تبدیلیوں کے پیش نظر بلوچستان کی تمام گیارہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کی مضبوط بنیادیں رکھی جا رہی ہیں تاکہ طلبہ کو فلسفیانہ تجسس، سائنسی علم اور بین الاقوامی معیار کی جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے بااختیار بنانے کے لیے تعاون اور فکری رہنمائی کے سلسلے میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان خطے کے کم عمر ترین آبادی والے ممالک میں سے ہے جس کی تقریباً 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ نوجوانوں والا صوبہ ہے۔ ہمارے نوجوان ٹیلنٹ اور عزم میں کسی سے پیچھے نہیں، اس لیے انہیں مواقع اور رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔
«جو وقت پر اڑنا نہیں سیکھتے، رینگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں»
گورنر نے کہا کہ ہمیں تھیوری اور لیکچر پر مبنی کلاسوں سے اپلائیڈ ریسرچ اور عملی حل کی جانب بڑھنا ہوگا تاکہ معاشی، زرعی اور سماجی چیلنجوں کا دیرپا حل ڈھونڈا جا سکے۔ نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت انہیں ملازمت کے متلاشیوں سے سرکاری اور نجی شعبوں میں روزگار فراہم کرنے والوں میں بدل دے گی اور فارغ التحصیل افراد ایسے کاروباری بن سکیں گے جو دوسروں کے لیے روزگار پیدا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نمائندوں کے طور پر ہم عالمی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ ایک ذمہ دار، سب کو شامل کرنے والا اور کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے والا اے آئی پر مبنی مستقبل تشکیل دیا جا سکے۔ «جو لوگ وقت پر اڑنا نہیں سیکھتے، وہ ساری زندگی رینگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم آج جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز بالخصوص آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو اپنانے میں ناکام رہے تو انسانی ترقی کے ہر شعبے میں پیچھے رہ جائیں گے۔»
گورنر جعفر خان مندوخیل نے یوتھ انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام کامیاب گلوبل سمٹ پر تمام منتظمین اور شرکاء کو مبارکباد پیش کی۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











