کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان کی قیادت میں صنعتکاروں کے وفد کی چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات

کراچی: کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر شیخ عمر ریحان کی قیادت میں وفد نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال سے ملاقات کی۔ ملاقات میں برآمدات کے فروغ، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، ڈیجیٹل انوائسنگ، اسمگلنگ کی روک تھام اور مختلف صنعتی شعبوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد میں سینئر نائب صدر فرخ قندھاری، نائب صدر ناصر شیخ، کائیٹ لمیٹڈ کے چیئرمین زاہد سعید، سی ای او سلیم الزماں، کاٹی کے سابق صدور مسعود نقی، طارق ملک، احتشام الدین، راشد احمد صدیقی، پاکستان وناسپتی مینو فیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین نوید احمد، رشید جان محمد، عفیف راشد، ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال، ممبر کسٹمز آپریشنز واجد علی سمیت دیگر نمائندگان شامل تھے۔
چیئرمین ایف بی آر کا مؤقف
راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے ایکسپورٹرز عالمی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں اضافہ کریں اور دستیاب وسائل بھرپور انداز میں استعمال کریں۔ ایف بی آر بڑے برآمد کنندگان کے ساتھ جلد ملاقاتیں کرے گا، جن میں ان کے مسائل اور برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے اور خودکار طریقہ کار کے ذریعے نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے واٹس ایپ گروپ تشکیل دیے جائیں تاکہ صنعتکار اپنے مسائل اور تجاویز بروقت متعلقہ حکام تک پہنچا سکیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کو مقامی صنعت کے تحفظ اور قانونی کاروبار کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے وفد کے تحفظات سنے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال کو ہدایت کی کہ وہ کاٹی سمیت گھی اور آئل کے صنعتکاروں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل کا جائزہ لیں اور حل کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
صدر کاٹی کے مطالبات
شیخ عمر ریحان نے کہا کہ ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم ڈیجیٹل انوائسنگ پر عمل درآمد کے دوران صنعتوں کو درپیش عملی مشکلات دور کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری اداروں کو مناسب رہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر رابطہ کاری یقینی بنائے، تاکہ ٹیکس نظام میں شفافیت کے ساتھ صنعتی و تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر نہ ہوں۔
صدر کاٹی نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ایسے تمام افراد اور کاروباری اداروں کو نظام میں شامل کیا جائے جو ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جائے جو ٹیکس ادا نہیں کرتے اور ایسے تمام متعلقہ طبقات پر ٹیکس قوانین کا یکساں اطلاق کیا جائے۔
شیخ عمر ریحان نے کہا کہ ٹیکس طریقہ کار کو آسان اور شفاف بنانے سے کاروباری لاگت کم کرنے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کورنگی انڈسٹریل زون سمیت گھی اور آئل کی صنعت کو ٹیکسوں اور ڈیوٹیز سے متعلق درپیش مسائل بھی اجاگر کیے۔
صدر کاٹی نے غیر ضروری ایس آر اوز اور پیچیدہ ریگولیٹری تقاضوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے قواعد و ضوابط جو کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، انہیں سادہ اور قابل عمل بنایا جائے تاکہ مقامی صنعت کی مسابقت بہتر ہو اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کو فروغ ملے۔
ملاقات میں ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل شعبوں کے مسائل بھی پیش کیے گئے۔ شیخ عمر ریحان نے کہا کہ صنعتکاروں اور ایف بی آر کے درمیان براہ راست مشاورت سے ٹیکس پالیسیوں پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکتی ہیں۔ کاروباری برادری کے تحفظات پر بروقت کارروائی سے حکومتی اداروں اور صنعتکاروں کے درمیان اعتماد بڑھے گا اور صنعت، تجارت اور برآمدات کو فروغ ملے گا۔
زاہد سعید، مسعود نقی، احتشام الدین، راشد صدیقی اور دیگر نے فارما، ٹیکسٹائل، پیکجنگ، پلاسٹک اور دیگر صنعتوں کو درپیش مسائل پر بھی اظہار خیال کیا۔











