رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
انڈر 17 ون ڈے: پاکستان نے سری لنکا کو پانچ وکٹوں سے ہرا دیا، سیریز میں 1-2 کی برترییوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے: ٹرمپ، اوسلو مذاکرات کے بعد ایلچی وٹکوف روس میںٹیلر سوئفٹ نیلے لباس میں سنڈریلا لک کی وجہ سے مداحوں کی توجہ کا مرکزخلیجی کشیدگی کے پیش نظر مانیٹری پالیسی میں شرح سود نہ بڑھائی جائے: فیصل معیز خاناسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 26 اکتوبر کو، شرح سود میں اضافے کا امکانپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا دوحہ میں «بدر» دفاعی مفاہمتی یادداشت پر دستخطخیبرپختونخوا اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی کے ساتھ متحد ہیں: بیرسٹر گوہرجامعہ تربت کے شعبہ تعلیم کے بورڈ آف اسٹڈیز کا چھٹا اجلاس، ایم فل ایجوکیشن نصاب کا جائزہاسلام آباد: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا قومی مباحثے میں مؤقف، بلوچستان کو مزید انتظامی یونٹس اور مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورتکوئٹہ: گورنر جعفرخان مندوخیل سے میر سلیم احمد کھوسہ کی ملاقات، انفراسٹرکچر کی ترقی پر تبادلہ خیالبلوچستان کو مزید انتظامی یونٹس، مؤثر بلدیاتی نظام اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے: سرفراز بگٹیمحسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا

وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو: مذاکرات سے انکار نہیں، مگر بندوق کے زور پر بات چیت نہیں ہوگی

وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو: مذاکرات سے انکار نہیں، مگر بندوق کے زور پر بات چیت نہیں ہوگی
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ ہمیں تشدد کے بجائے قلم، تباہی کے بجائے ترقی اور نفرت کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم بندوق کے زور پر مذاکرات کسی صورت نہیں ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں اب اس بحث سے نکلنا ہوگا کہ مذاکرات کس سے ہونے چاہئیں اور کس سے نہیں، بلکہ اپنی توجہ بلوچستان اور پاکستان کی ترقی، امن، خوشحالی اور عوام کے بہتر مستقبل پر مرکوز کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر دہشت گردی، تشدد اور نفرت کو مسترد کرنا ہوگا۔ جو عناصر ہمارے امن کو تباہ، عوام کو تقسیم اور معصوم جانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہماری اصل طاقت اتحاد، تعلیم، محنت، شعور اور اپنے وطن سے محبت ہے۔

میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ قلم کو اپنا ہتھیار بنائیں، تعلیم حاصل کریں اور پارلیمانی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے ملک اور قوم کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

آئین تسلیم کرنے والوں کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں جہاں عوام اپنی ریاست اور آئینی اداروں کے ساتھ کھڑے ہو کر ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں ریاست اور آئین کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے سامنے ریاستی نظام کو کمزور کیا گیا ہو۔

صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات کے دروازے ان لوگوں کے لیے کھلے ہیں جو پاکستان کے آئین اور ریاستی نظام کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم بندوق، دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے اپنی بات منوانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا بلوچستان اور پاکستان تشکیل دینا ہوگا جہاں امن، تعلیم، روزگار، ترقی اور خوشحالی ہو۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان