حکومت 2035 تک سالانہ برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے پرعزم: رانا احسان افضل

اسلام آباد: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان نے کہا ہے کہ حکومت سالانہ برآمدات 2035 تک 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے تجارتی اصلاحات، عالمی منڈیوں تک رسائی، صنعتی مسابقت میں اضافے اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) اسلام آباد میں پاکستان سوسائٹی آف ڈویلپمنٹ اکنامسٹس کے 39ویں سالانہ اجلاس اور بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
دو روزہ کانفرنس کا عنوان «مشن 100 ارب ڈالر برآمدات پر مبنی پائیدار خوشحالی کے لیے قومی جدوجہد» تھا۔ اس میں پالیسی سازوں، ماہرینِ معیشت، محققین اور کاروباری نمائندوں نے برآمدات بڑھانے کی تجاویز پر غور کیا۔
اہداف اور ٹیرف اصلاحات
رانا احسان افضل خان نے بتایا کہ حکومت نے درمیانی مدت کے لیے برآمدات کا ہدف 60 ارب ڈالر مقرر کیا ہے، جبکہ 2035 تک سالانہ برآمدات 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے معیشت کو برآمدات پر مبنی بنانے، صنعتی پیداوار بڑھانے اور برآمدی شعبوں میں تنوع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت تقریباً 7,500 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ ریگولیٹری اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز میں بتدریج کمی کی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد تک لانے کا ہدف ہے تاکہ ملکی صنعت کی مسابقتی صلاحیت بڑھ سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروباری سرگرمیاں آسان بنانے کے لیے تقریباً 500 ضابطہ جاتی تقاضوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے غیر ضروری سرٹیفکیشن اور معائنے کے طریقہ کار میں بھی کمی کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کی منظوری سے قائم کیا گیا ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے، برآمدی ترسیل آسان کرنے اور بندرگاہوں سے متعلق اخراجات کم کرنے میں مدد دے گا۔
ایس ایم ایز، بجٹ اور عالمی تجارت
رانا احسان افضل خان نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے مالی معاونت ایک کھرب روپے سے بڑھا کر دو کھرب روپے کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ برآمد کنندگان کو ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ذریعے رعایتی مالی سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں برآمدی آمدن پر ٹیکس کی شرح دو فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے، جس کا مقصد برآمد کنندگان پر مالی دباؤ کم کرنا ہے۔
عالمی تجارت کے حوالے سے انہوں نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس نظام، پاکستان برطانیہ تجارتی مذاکرات اور مختلف ممالک کے ساتھ موجود تجارتی معاہدوں کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق ویتنام، جنوبی کوریا، کمبوڈیا، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک کے ساتھ روابط اور مذاکرات کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ 16 سینیٹری اینڈ فائٹوسینیٹری پروٹوکولز کے ذریعے پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات کے مزید مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) بین الاقوامی تجارتی نمائشوں اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کی عالمی سطح پر تشہیر کر رہی ہے۔ انہوں نے کراچی میں ہونے والی آئندہ فوڈ ایگ 2026 نمائش کو زرعی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کا اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سنگل ونڈو نظام کے ذریعے ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زیادہ تاجروں کو 32 سرکاری اداروں سے منسلک کیا جا چکا ہے، جبکہ 19 شعبہ جاتی کونسلیں تجارتی پالیسی سازی میں نجی شعبے کی شمولیت یقینی بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی)، زراعت، معدنیات، سیاحت، بلیو اکانومی اور تخلیقی صنعتوں میں پاکستان کی برآمدات بڑھانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔
کانفرنس کی سفارشات اور ایوارڈز
پائیڈ کے ڈین پالیسی اور پی ایس ڈی ای کے سیکریٹری ڈاکٹر فہیم جہانگیر نے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پالیسیوں میں عدم تسلسل، تجارتی اخراجات میں اضافہ، برآمدات میں محدود تنوع اور سرمایہ کاروں کا کمزور اعتماد برآمدی ترقی کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے پالیسیوں کے تسلسل، برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری، ہنرمندی کے فروغ، صنعتی ترقی اور تحفظ پسندی کے بجائے پیداواری صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔
کانفرنس کے دوران پینل مباحثے، تکنیکی نشستیں، تحقیقی مقالوں کی پیشکشیں اور پی ایچ ڈی سمپوزیم منعقد ہوئے۔ اختتامی تقریب میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے محققین کو بہترین تحقیقی مقالوں اور پوسٹرز کے ایوارڈز دیے گئے۔
تحقیقی مقالوں کے مقابلے میں ڈاکٹر جمشید الرحمن نے پہلی پوزیشن حاصل کر کے تین لاکھ روپے کا انعام جیتا۔ ڈاکٹر محمد علی دوسرے نمبر پر رہے اور دو لاکھ روپے حاصل کیے، جبکہ ڈاکٹر فاطمہ اعجاز تیسری پوزیشن پر ایک لاکھ روپے کی حقدار ٹھہریں۔ بہترین تحقیقی پوسٹرز کی پہلی اور دوسری پوزیشن کے لیے بالترتیب ڈیڑھ لاکھ اور ایک لاکھ روپے کے انعامات کا اعلان بھی کیا گیا۔
پائیڈ کے وائس چانسلر اور پی ایس ڈی ای کے صدر ڈاکٹر ندیم جاوید نے اختتامی خطاب میں کہا کہ پاکستان کا معاشی استحکام برآمدات میں مسلسل اضافے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی سے وابستہ ہے۔ انہوں نے نوجوان محققین پر زور دیا کہ وہ ملکی معاشی مسائل کا مطالعہ جاری رکھیں اور اپنی تحقیق کو عملی پالیسیوں میں بدلنے میں کردار ادا کریں۔
رانا احسان افضل خان نے یقین دہانی کرائی کہ کانفرنس کی سفارشات کا حکومت کے جاری تجارتی اصلاحاتی ایجنڈے میں شمولیت کے لیے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل اصلاحات، حکومت اور نجی شعبے کے مؤثر تعاون اور پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے سے 2035 تک سالانہ برآمدات کا 100 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کیا جا سکے گا۔











