جی ایس پی پلس کے تحت یورپ کو پاکستانی برآمدات 108 فیصد سے زائد بڑھیں: عاطف اکرام شیخ

کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کا اہم تجارتی اور ترقیاتی شراکت دار ہے، جبکہ جی ایس پی پلس کے تحت یورپی منڈیوں تک ترجیحی رسائی ملکی برآمدات اور معاشی استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے یہ بات پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس کے کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے مرکزی دفتر کے دورے کے موقع پر کہی۔ ملاقات میں تجارتی مواقع بڑھانے، صنعتی روابط مضبوط بنانے اور جی ایس پی پلس کے آئندہ مرحلے کے لیے نجی شعبے کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عاطف اکرام شیخ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ترجیحی تجارتی سہولتوں کے باعث یورپی منڈیوں میں پاکستان کی برآمدات میں 108 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
آئندہ مرحلے کی تیاری
انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعت کو انسانی حقوق، مزدوروں کی فلاح و بہبود، ماحولیاتی تحفظ اور اچھی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف پی سی سی آئی قابل تجدید توانائی، ڈیجیٹل خدمات، اعلیٰ معیار کی ٹیکسٹائل مصنوعات اور زرعی اجناس کی پراسیسنگ سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور یورپی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے گی۔ کوشش ہوگی کہ روایتی خرید و فروخت کے تعلقات کو طویل مدتی کاروباری شراکت داری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے تجارتی سرگرمیوں اور پالیسی اقدامات کے درمیان روابط قائم کرنے میں ایف پی سی سی آئی کے کردار کو سراہا اور پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے یورپی یونین کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس اقتصادی ترقی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے، تاہم پاکستانی برآمد کنندگان کو روایتی ٹیکسٹائل کے علاوہ انجینئرنگ کی قدر افزا مصنوعات، اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی خدمات، چمڑے کی مصنوعات اور غذائی اشیا سمیت دیگر شعبوں میں بھی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے انسانی حقوق اور مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ پاکستانی صنعت کو تجارتی معاہدوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور عالمی رسدی زنجیروں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عملی معاشی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یورپی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے تجارتی سہولتوں میں بہتری، ضابطوں میں ہم آہنگی اور کاروباری اخراجات میں کمی ناگزیر ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے پاک۔ یورپی یونین بزنس فورم کے سربراہ زبیر باویجہ نے کاروباری اداروں کے درمیان دیرپا روابط اور براہِ راست کاروباری شراکت داری کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق فورم کا قیام یورپی خریداروں اور پاکستانی برآمد کنندگان کے درمیان مؤثر اور عملی روابط قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔











