موسیٰ خیل: تعلیم میں غفلت پر زیرو ٹالرنس، غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں منہا کرنے کا حکم

موسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں میں اساتذہ اور عملے کی حاضری اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، اور فرائض سے غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف بلاامتیاز سخت محکمانہ کارروائی ہوگی۔
یہ بات انہوں نے اپنی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں تعلیمی اداروں کی صورتحال، تعلیمی شعبے کی بہتری، معیاری تعلیم کی فراہمی اور گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ غیر حاضر ملازمین کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ بلاجواز غیر حاضری کسی صورت قبول نہیں ہوگی اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کے ساتھ ان کی تنخواہیں بھی قواعد کے مطابق منہا کی جائیں۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ فرائض ایمانداری، ذمہ داری اور پابندیِ وقت سے انجام دیں۔ اساتذہ کی غیر حاضری کا براہِ راست اثر طلبہ کی تعلیم اور مستقبل پر پڑتا ہے۔ انہوں نے افسران کو اسکولوں کی باقاعدہ نگرانی، حاضری یقینی بنانے اور مسائل کی نشاندہی کر کے فوری حل کی ہدایت کی۔
عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ضلع کے بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول اور سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ صرف اجلاس منعقد کرنا کافی نہیں، فیصلوں پر عملدرآمد بھی نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں غفلت کے مرتکب افسران و ملازمین سے جواب طلبی ہوگی، اور تعلیم کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع موسیٰ خیل کے بچوں کا مستقبل سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











