رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 15° صاف 21° / 8°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:15مغرب 17:52عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
تربت: سبزی منڈی سری کہن منتقل کرنے کے لیے دکانداروں کو چھ ماہ کی مہلتکوئٹہ ڈویژن: کمشنر ذیشان لاشاری کی صدارت میں پولیو ٹاسک فورس کا آن لائن جائزہ اجلاستربت: گھنہ مزاری کہن میں متنازعہ اراضی کے معاملات، اسسٹنٹ کمشنر کا دورہصوبائی وزیر خزانہ کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا پروگریسو جائزہ اجلاسربابہ خان بلیدی کی نیپا، بی ایس سی اے اور نیوٹیک کے حکام سے ملاقات، نصیرآباد میں تربیت پر غورنصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں پر مشیر ترقی نسواں کی ملاقاتکوئٹہ: نئے ایکسائز انسپکٹرز کے لیے تربیتی پروگرام، انسدادِ منشیات کے قوانین پر نشستچمن: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول محلہ شہسوار کا اچانک دورہاوستہ محمد: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ریویو اجلاس، شکایات کے پائیدار حل کی ہدایتجعفرآباد: ڈپٹی کمشنر خالد خان کی صدارت میں امن و امان کے تین اجلاسموسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ جج کا تحصیل درگ جوڈیشل کمپلیکس کا دورہنصیرآباد: 309 ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کا جائزہ، ٹرانسفارمر واپسی پر نوٹسز کی ہدایت
صفحہ اول› بلوچستان ›موسیٰ خیل

موسیٰ خیل: تعلیم میں غفلت پر زیرو ٹالرنس، غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں منہا کرنے کا حکم

موسیٰ خیل: تعلیم میں غفلت پر زیرو ٹالرنس، غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں منہا کرنے کا حکم
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

موسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ضلع میں تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں میں اساتذہ اور عملے کی حاضری اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، اور فرائض سے غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف بلاامتیاز سخت محکمانہ کارروائی ہوگی۔

یہ بات انہوں نے اپنی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں تعلیمی اداروں کی صورتحال، تعلیمی شعبے کی بہتری، معیاری تعلیم کی فراہمی اور گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ غیر حاضر ملازمین کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ بلاجواز غیر حاضری کسی صورت قبول نہیں ہوگی اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کے ساتھ ان کی تنخواہیں بھی قواعد کے مطابق منہا کی جائیں۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ فرائض ایمانداری، ذمہ داری اور پابندیِ وقت سے انجام دیں۔ اساتذہ کی غیر حاضری کا براہِ راست اثر طلبہ کی تعلیم اور مستقبل پر پڑتا ہے۔ انہوں نے افسران کو اسکولوں کی باقاعدہ نگرانی، حاضری یقینی بنانے اور مسائل کی نشاندہی کر کے فوری حل کی ہدایت کی۔

عبدالرزاق خان خجک نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ضلع کے بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول اور سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ صرف اجلاس منعقد کرنا کافی نہیں، فیصلوں پر عملدرآمد بھی نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں غفلت کے مرتکب افسران و ملازمین سے جواب طلبی ہوگی، اور تعلیم کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع موسیٰ خیل کے بچوں کا مستقبل سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان