رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 15° صاف 21° / 8°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:15مغرب 17:52عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
تربت: سبزی منڈی سری کہن منتقل کرنے کے لیے دکانداروں کو چھ ماہ کی مہلتکوئٹہ ڈویژن: کمشنر ذیشان لاشاری کی صدارت میں پولیو ٹاسک فورس کا آن لائن جائزہ اجلاستربت: گھنہ مزاری کہن میں متنازعہ اراضی کے معاملات، اسسٹنٹ کمشنر کا دورہصوبائی وزیر خزانہ کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا پروگریسو جائزہ اجلاسربابہ خان بلیدی کی نیپا، بی ایس سی اے اور نیوٹیک کے حکام سے ملاقات، نصیرآباد میں تربیت پر غورنصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں پر مشیر ترقی نسواں کی ملاقاتکوئٹہ: نئے ایکسائز انسپکٹرز کے لیے تربیتی پروگرام، انسدادِ منشیات کے قوانین پر نشستچمن: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول محلہ شہسوار کا اچانک دورہاوستہ محمد: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ریویو اجلاس، شکایات کے پائیدار حل کی ہدایتجعفرآباد: ڈپٹی کمشنر خالد خان کی صدارت میں امن و امان کے تین اجلاسموسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ جج کا تحصیل درگ جوڈیشل کمپلیکس کا دورہنصیرآباد: 309 ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کا جائزہ، ٹرانسفارمر واپسی پر نوٹسز کی ہدایت

بلوچستان میں غیر رسمی تعلیم کا بڑا منصوبہ: 9 سے 16 سال کے 18 لاکھ بچوں کو دوبارہ تعلیم کا موقع

بلوچستان میں غیر رسمی تعلیم کا بڑا منصوبہ: 9 سے 16 سال کے 18 لاکھ بچوں کو دوبارہ تعلیم کا موقع
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں صوبائی حکومت نے غیر رسمی تعلیم کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ 9 تا 16 سال کے 18 لاکھ بچے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر رسمی تعلیمی نظام سے محروم رہ گئے، انہیں دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اب مرکزی توجہ 9 سے 16 سال عمر کے بچوں کی پڑھائی پر مرکوز کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسمی تعلیم میں حکومتی اقدامات 5 سے 9 سال کے بچوں کے لیے مرکوز تھے، جس کے قابلِ ستائش نتائج سامنے آئے، تاہم اس مرحلے میں 9 تا 16 سال کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اسی مقصد کے لیے صوبائی حکومت ایک اہم منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے۔

8 ارب روپے، پانچ سالہ منصوبہ

اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ محکمہ سماجی بہبود کی زیرِ نگرانی چلایا جائے گا۔ مالی سال 2026-27 میں اسکیم کے لیے کل 8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور منصوبہ پانچ سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 2 لاکھ بچوں کو تعلیم دلائی جائے گی۔

منصوبے کے تحت 9 تا 16 سال کے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ وہ بنیادی خواندگی حاصل کر سکیں اور بعد ازاں باقاعدہ اسکولنگ یا پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی حاصل کریں۔

چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ دو ہفتوں کے اندر منصوبے کا پی سی ون (PC1) تیار کیا جائے تاکہ ستمبر میں اس کا باقاعدہ آغاز ممکن ہو سکے۔ انہوں نے منصوبے کو عوام تک پہنچانے کے لیے ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر گاؤں میں آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت دی تاکہ اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے بچے آسانی سے رجسٹر ہو سکیں۔

غیر رسمی تعلیم کا الگ ایکٹ

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محروم بچے جب تعلیم حاصل کریں گے تو وہ قومی ترقی میں مؤثر حصہ ڈال سکیں گے، غربت میں کمی آئے گی اور سماجی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔

صوبائی محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت دی گئی کہ وہ مختص فنڈز کی شفاف تقسیم، تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی، مقامی زبانوں سمیت نصاب کی مطابقت اور ڈیٹا بیس کی تیاری پر فوری کام شروع کرے۔ اجلاس میں غیر رسمی تعلیم کا اپنا ایکٹ بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ذاہد سلیم، سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی سید فیصل احمد، سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریش، سیکرٹری سکولز لعل جان جعفر اور دیگر بھی موجود تھے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان