رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° صاف 22° / 9°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:14مغرب 17:51عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
تربت: سبزی منڈی سری کہن منتقل کرنے کے لیے دکانداروں کو چھ ماہ کی مہلتکوئٹہ ڈویژن: کمشنر ذیشان لاشاری کی صدارت میں پولیو ٹاسک فورس کا آن لائن جائزہ اجلاستربت: گھنہ مزاری کہن میں متنازعہ اراضی کے معاملات، اسسٹنٹ کمشنر کا دورہصوبائی وزیر خزانہ کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا پروگریسو جائزہ اجلاسربابہ خان بلیدی کی نیپا، بی ایس سی اے اور نیوٹیک کے حکام سے ملاقات، نصیرآباد میں تربیت پر غورنصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں پر مشیر ترقی نسواں کی ملاقاتکوئٹہ: نئے ایکسائز انسپکٹرز کے لیے تربیتی پروگرام، انسدادِ منشیات کے قوانین پر نشستچمن: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول محلہ شہسوار کا اچانک دورہاوستہ محمد: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ریویو اجلاس، شکایات کے پائیدار حل کی ہدایتجعفرآباد: ڈپٹی کمشنر خالد خان کی صدارت میں امن و امان کے تین اجلاسموسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ جج کا تحصیل درگ جوڈیشل کمپلیکس کا دورہنصیرآباد: 309 ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کا جائزہ، ٹرانسفارمر واپسی پر نوٹسز کی ہدایت

پنجاب بھر میں 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ، 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی

پنجاب بھر میں 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ، 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی

لاہور (اعتماد ڈیسک): محکمہ داخلہ پنجاب نے دہشت گردی کے خطرات کی اطلاعات پر صوبے بھر میں 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس، ریلی، جلسے اور دھرنے پر پابندی ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی ہوگی، جبکہ غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانا یا ترغیب دینا بھی ممنوع ہوگا۔

پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔ عدالتیں، سرکاری ادارے، باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات، قانون نافذ کرنے والے ادارے، انٹیلیجنس ایجنسیاں اور ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی اہلکار بھی مستثنیٰ ہوں گے۔

حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے فوری نوعیت کے خطرات کی اطلاع دی تھی اور رپورٹس میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کے منصوبے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات دہشت گرد حملوں کا آسان ہدف بن سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔