بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات جاری، وزیر مملکت وجیہہ قمر کی ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد سے ملاقات

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پاکستان بچیوں کی تعلیم کے فروغ، اسکولوں سے باہر بچوں کی تعلیمی اداروں میں واپسی اور معیاری تعلیم تک مساوی رسائی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس نے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت میں ان سے ملاقات کی۔
وفد میں ڈبلیو ایف پی ہیڈکوارٹرز روم کی چیف آف پروگرام آپریشنز (جی پی آئی) احمرین کریم، ڈبلیو ایف پی پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش، سینئر پروگرام پالیسی آفیسر کویتا برہم بھٹ اور پارٹنرشپس آفیسر روبینہ ذوالقرنین شامل تھیں۔
ملاقات کے موضوعات
ملاقات میں بچیوں کی تعلیم کے فروغ، صنفی مساوات، جامع تعلیمی پالیسیوں، اسکولوں میں غذائی پروگراموں اور بچوں کے داخلوں اور حاضری کی شرح بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وجیہہ قمر نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم محض ایک تعلیمی ترجیح نہیں بلکہ پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی، خواتین کو بااختیار بنانے اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے تعلیمی ایمرجنسی وژن کے تحت بالخصوص پسماندہ اور دوردراز علاقوں میں بچیوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور اسکولوں سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر مملکت نے اسکولوں میں غذائی پروگراموں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ہوتے ہیں بلکہ داخلوں، باقاعدہ حاضری اور تعلیم جاری رکھنے کی شرح میں اضافے کا بھی موثر ذریعہ ہیں۔
ملاقات کے دوران پاکستان کے قومی و بین الاقوامی تعلیمی اہداف، صوبائی سطح پر تعلیمی پیش رفت، بچیوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں اور اسکول میلز پروگرام میں صنفی مساوات کے اصولوں کو مزید موثر انداز میں شامل کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔
وجیہہ قمر نے پاکستان میں تعلیم اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
دونوں جانب سے بچیوں کی تعلیم، تعلیمی شمولیت اور اسکولوں میں غذائی پروگراموں کے فروغ کے لیے باہمی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔











