رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° صاف 21° / 10°فجر 05:19ظہر 12:16عصر 16:15مغرب 17:53عشا 19:13
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، دہشت گردوں کے خلاف مہم جاری رکھنے کا اعلانعدالتیں مستقبل کے ممکنہ قوانین روکنے کے لیے پیشگی فیصلہ نہیں کر سکتیں: اسلام آباد ہائیکورٹپیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا جمعہ کو اسلام آباد میں اجلاسبلوچستان اسمبلی: سردار نظام کے خاتمے اور نواب، سردار کے الفاظ پر پابندی کی قرارداد آج پیش ہوگیشیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملے کی کوشش، ملبہ گرنے سے فلپائنی اور نیپالی کارکن ہلاک، پاکستانی اور انڈین زخمیپنجاب میں کیمرے والے سمارٹ گلاسز اور خفیہ ریکارڈنگ آلات پر 30 روزہ پابندی، مریم نواز کی سختی سے عمل کی ہدایتوزیراعظم کا پشاور میں اپیکس کمیٹی سے خطاب، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی “انتہائی مجبوری” میں نافذ کرنے کا دعویٰآئی ایم ایف کی پیش گوئی: خطے کی معیشت اس سال 1.3 فیصد سکڑے گی، 2027 میں 6.6 فیصد نموصدر زرداری تین روزہ دورے پر جرمنی روانہ، 23 برس بعد پاکستانی سربراہ مملکت کا پہلا دورہبنوں سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نسیم علی شاہ 30 روز کے لیے ایم پی او کے تحت نظر بندپشاور میں وزیراعظم کی صدارت میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس، خیبرپختونخوا پروگرام کے لیے 160 ارب روپے مختصراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغام

زرعی یونیورسٹی سوات میں پہاڑی زراعت پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

زرعی یونیورسٹی سوات میں پہاڑی زراعت پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر
فائل فوٹو: زرعی یونیورسٹی سوات کی عمارت — تصویر: بشکریہ uoas.edu.pk

سوات: جامعہ زراعت سوات میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ پہاڑی زراعت کے موضوع پر تین روزہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس 15 اکتوبر کو اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، محققین، اساتذہ، طلبہ، کسانوں، پالیسی سازوں اور ترقیاتی اداروں کے نمائندوں سمیت تقریباً 350 افراد نے آن لائن اور بالمشافہ شرکت کی، جبکہ مجموعی طور پر 107 تحقیقی خلاصے موصول ہوئے۔

13 سے 15 اکتوبر تک منعقدہ کانفرنس کا مقصد پہاڑی علاقوں میں زراعت کو موسمیاتی تبدیلیوں سے درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا اور پائیدار زرعی ترقی کے لیے جدید تحقیقی حل تلاش کرنا تھا۔

افتتاحی خطابات

وائس چانسلر جامعہ زراعت سوات پروفیسر ڈاکٹر داد جان نے افتتاحی خطاب میں سائنسی تحقیق کی اہمیت اجاگر کی۔ کانفرنس آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد جمال خان نے پروگرام کے اغراض و مقاصد اور پہاڑی زراعت کی ترقی کے لیے تحقیقی تعاون پر روشنی ڈالی۔

مہمان خصوصی کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اقبال حسین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر مبنی عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جامعہ زراعت سوات کو مسائل کے حل پر مبنی تحقیق کا مرکز بنانے کے لیے انتظامی اور ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

کانفرنس میں کرغزستان، تاجکستان، آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ، امریکہ، جرمنی، چین، ترکیہ، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام، اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت اور انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ مانٹین ڈیولپمنٹ سمیت مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

تین روزہ علمی سرگرمیوں کے دوران تحقیقی مقالے پیش کیے گئے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے زرعی طریقوں، زمین کی زرخیزی، مٹی اور پودوں کی صحت، پائیدار فصلوں کی پیداوار، آبی وسائل کے انتظام اور پہاڑی زرعی نظام کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کمشنر اقبال حسین نے آن لائن پریزنٹیشن بھی پیش کی، جس میں سیلاب سے پیدا ہونے والے مسائل، آبی وسائل کے انتظام اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

اختتامی تقریب

اختتامی تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر سوات محمد عامر خان، مجید اللہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد جمال خان نے کانفرنس کی سرگرمیوں اور کامیابیوں پر رپورٹ پیش کی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر داد جان نے شرکا، منتظمین اور معاون اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشترکہ تحقیق اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

تقریب کے اختتام پر نمایاں کردار ادا کرنے والے افراد میں اعزازی شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔

کانفرنس کے منتظمین کے مطابق اس علمی اجتماع کا مقصد تحقیق کو عملی اقدامات میں تبدیل کرکے پہاڑی علاقوں میں زرعی پیداوار، قدرتی وسائل کے تحفظ اور مقامی آبادیوں کی موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔