آغا خان ایگزامینیشن بورڈ کی تقریب، 124 نمایاں طلبہ کو اعزازات

کراچی: آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ نے 2026 میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے اعزاز میں «اندر کی روشنی» کے عنوان سے تقریب منعقد کی۔ ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 124 قومی اور علاقائی سطح کے نمایاں طلبہ کو اعزازات دیے گئے۔
ان میں ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح کے دو قومی پوزیشن ہولڈرز بھی شامل تھے، جبکہ 450 سے زائد طلبہ کو انفرادی مضامین میں شاندار کارکردگی پر سراہا گیا۔
تقریب بورڈ کے 2027 میں سلور جوبلی کی جانب سفر کے تناظر میں منعقد ہوئی۔ بورڈ آئندہ سال تعلیمی معیار بہتر بنانے، امتحانی نظام کو مضبوط کرنے اور ملک بھر کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانے کے 25 سال مکمل کرے گا۔ رواں سال 26 ہزار سے زائد طلبہ نے بورڈ کے امتحانات میں شرکت کی۔
تقریب میں بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نوید یوسف، مہمانِ خصوصی ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی اور مہمانِ اعزازی انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر غلام علی ملاح سمیت عطیہ دہندگان، اساتذہ، والدین اور طلبہ نے شرکت کی۔
مہمانوں اور طلبہ کے خیالات
پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ نہ صرف اپنی تعلیمی کامیابیوں بلکہ اسکول سے آگے زندگی میں کامیابی کے لیے حاصل کردہ مہارتوں کے باعث بھی قابلِ تحسین ہیں۔ ان کے مطابق یہ نوجوان اگلے تعلیمی مرحلے کے لیے تیار ہیں اور مستقبل کے مواقع اور چیلنجز کا مؤثر انداز میں سامنا کرسکتے ہیں۔
آئی بی اے کمیونٹی کالج خیرپور سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ ثانوی سطح کی قومی پوزیشن ہولڈر طالبہ حفصہ بگٹی نے کہا کہ اندرونِ سندھ میں بے شمار باصلاحیت نوجوان موجود ہیں۔ معیاری تعلیمی اداروں تک بہتر رسائی اور اعلیٰ معیار برقرار رکھنے والا امتحانی نظام ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، میرٹ پر مبنی مواقع بڑھانے اور انہیں عالمی سطح پر اعتماد کے ساتھ مقابلے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
بورڈ کے اعداد و شمار
بورڈ کے سالانہ جامعات میں داخلوں سے متعلق سروے کے مطابق اعلیٰ ثانوی سطح کے 90 فیصد فارغ التحصیل طلبہ جامعات میں داخلہ حاصل کرتے ہیں۔ بورڈ کے فارغ التحصیل طلبہ 200 سے زائد بین الاقوامی جامعات تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ تقریباً نصف پاکستان کے نمایاں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔
صرف 2026 میں بورڈ نے ملک بھر میں میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر 540 وظائف فراہم کیے، جن سے طلبہ کو معیاری تعلیم کے حصول میں مدد ملی۔
ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ پاکستان اور بیرونِ ملک معتبر امتحانی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور معیار پر مبنی جانچ کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی نظام تعلیمی بہتری میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ امتحانات میں جن صلاحیتوں کو اہمیت دی جاتی ہے، وہی تدریس اور سیکھنے کے انداز پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امتحانی بورڈ کی اصل اہمیت امیدواروں کی تعداد کے بجائے جانچ کے معیار، اعتبار اور تعلیمی افادیت میں ہوتی ہے۔ رٹنے کے بجائے تصورات کی سمجھ، تنقیدی سوچ اور علم کے عملی استعمال کو ترجیح دے کر بورڈ ملک کے تعلیمی نظام کے لیے قابلِ تقلید مثال پیش کررہا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی نے 2002 میں اس بورڈ کی بنیاد رکھی تھی۔ بورڈ کا تعلیمی طریقہ کار رٹنے کے بجائے تصورات کی سمجھ، تنقیدی سوچ اور علم کے عملی اطلاق کو فروغ دینے پر مرکوز ہے، تاکہ طلبہ اعلیٰ تعلیم اور عملی زندگی کے چیلنجز کے لیے بہتر طور پر تیار ہوسکیں۔
ڈاکٹر نوید یوسف نے کہا کہ طلبہ کی کامیابیوں کا جشن منانے کے ساتھ معیاری تعلیم تک رسائی بڑھانا اور نوجوانوں کو معاشرے میں بامعنی کردار ادا کرنے کے قابل بنانا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کی کامیابیاں باعثِ فخر ہیں اور اس امر کی عکاس ہیں کہ بامقصد تعلیم اور صلاحیتوں کی درست نشوونما سے نوجوانوں کے لیے ترقی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔











