بلوچستان میں دو سال کے دوران 1100 دہشت گرد ہلاک، 450 گرفتار: ضیاء اللہ لانگو کی پریس کانفرنس

کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن بیانات دیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کی صورتحال کا خیبر پختونخوا سے موازنہ کرنا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے لیے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے مولانا فضل الرحمان کے بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز سے متعلق بیان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ریاست کے ساتھ کھڑی ہوں تاکہ ملک کو درپیش مشکلات سے نکالا جا سکے۔
فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل
صوبائی وزیر داخلہ نے کوئٹہ میں معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خود بھی ایک مشکل دور سے گزر چکے ہیں اور ان کی جماعت بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتی رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے بلوچستان کی صورتحال اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے متعلق بیانات دیتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو حکومت کی مکمل معاونت درکار ہوتی ہے۔ ان کے بقول اگر خیبر پختونخوا حکومت قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرتی تو ہنگامی اقدامات کی ضرورت پیش نہ آتی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ منظور نہ ہونے کی وجہ سے حکومت ختم ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس عمل میں اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
شاہد رند نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز پر تنقید درست نہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین کی منظوری کے لیے کابینہ کے ساتھ صوبائی اسمبلی کا فورم بھی استعمال کیا، جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی صورتحال کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی کوششوں کو بھی ایک ممکنہ وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے اس نوعیت کے مارچ کی بات نہیں کی۔
دو سال کی کارروائیوں کی تفصیلات
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے گزشتہ دو سال کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے اقدامات اور کارروائیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 18 قوانین اور 17 محکمے قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق فیس لیس کورٹ بھی قائم کی گئی ہے جہاں 90 افراد کے کیسز درج کیے گئے ہیں۔
حمزہ شفقات نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں مختلف علاقوں میں 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، چھاپے اور دیگر کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں 450 دہشت گرد گرفتار اور 1100 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پولیس سمیت سیکیورٹی فورسز کے 300 سے زائد افسران اور اہلکار شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 551 بے گناہ شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس اپنے ملک بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ آمدورفت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ داخلہ کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے اور اسلحہ لائسنسوں کا نظام بھی ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری امور کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور متعلقہ نظام میں بہتری لانا ہے۔
پریس کانفرنس میں تینوں حکام نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، قانون سازی اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گی۔











