کوئٹہ پولیس نے اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث مبینہ گروہ کے 3 ملزمان گرفتار کر لیے
کوئٹہ: کوئٹہ پولیس نے مالی جرائم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اے ٹی ایم فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے 45 اے ٹی ایم کارڈز، 5 لاکھ روپے نقدی، تین موبائل فونز اور ٹویوٹا آلٹو گاڑی برآمد کی گئی، جس پر جعلی سرکاری اور سندھ ہائی کورٹ کے وکیل کی نمبر پلیٹیں لگی تھیں۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کوئٹہ عمران شوکت اور ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ ضیا الحق مندوخیل کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت غلام محمد، ذوالفقار اور عارف علی کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق حیدرآباد سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف کوئٹہ کے مختلف تھانوں میں فراڈ کے مقدمات درج ہیں۔
بارہ سال سے وارداتوں کا انکشاف
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر گزشتہ 12 سال سے اے ٹی ایم فراڈ کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان کا تعلق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی 30 سے زائد زیرِ تفتیش انکوائریوں سے بھی بتایا جا رہا ہے۔
ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ مزید شواہد اکٹھے کرنے اور ممکنہ برآمدگیوں کے لیے بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
کوئٹہ پولیس کے مطابق شہریوں کے مالی تحفظ کو یقینی بنانے اور مالی جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔











