کوئٹہ: سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں پریس کلب کے سامنے شمعیں روشن

کوئٹہ: پیپلز لیبر بیورو کے زیراہتمام اتوار کی رات کوئٹہ پریس کلب کے سامنے سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب سے وزیراعلیٰ بلوچستان کے فوکل پرسن و مرکزی رہنما سید اقبال شاہ، پیپلز پارٹی کے صوبائی نائب صدر اول میر ریاض شاہوانی، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات حیات خان اچکزئی، ثناء اللہ جتک، اختر بلوچ، پیپلز لیبر بیورو کے صدر شاہجہان گجر، عزیز لانگو، کوئٹہ سٹی کے جنرل سیکرٹری نعمت لالا، سید ایوب آغا، اکرم گل، مٹھا خان عمرانی اور دیگر نے خطاب کیا۔
مقررین نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور جمہوریت کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ کارساز پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المناک واقعہ ہے، جس نے جمہوریت سے وابستگی، سیاسی استقامت اور قومی عزم کی ایسی داستان رقم کی جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ شہدا کا لہو جمہوری اقدار کے استحکام کی جدوجہد کا روشن باب ہے۔
18 اکتوبر کا دن
مقررین نے کہا کہ 18 اکتوبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے، جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر دہشت گردی کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم قوم کی عظیم رہنما کو نہ ڈرایا جا سکا اور نہ جھکایا جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ شہدائے کارساز نے جمہوریت کی بحالی اور استحکام کے لیے تاریخ ساز قربانیاں دیں، جنہیں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ان شہدا نے جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جانیں دیں اور آمریت کے راستے میں رکاوٹ بنے۔
مقررین کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت سے کارکنوں تک جمہوریت کے لیے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی گئی ہے۔ سانحہ کارساز کے 19 سال بعد بھی شہدا کی یاد تازہ ہے اور آمریت کے خلاف جدوجہد تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ دھماکوں اور جانی نقصان کے باوجود جیالوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا مشن عوام کی حکمرانی، مساوات، سماجی انصاف اور پرامن، خوشحال و ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر ہے، جسے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آگے بڑھا رہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ سانحہ کارساز کے شہدا کی قربانیاں اس عزم کی یاد دہانی ہیں کہ عوام کی حکمرانی اور جمہوری نظام کے تحفظ کی جدوجہد جاری رہے گی۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی جدوجہد میں جانیں دینے والوں کی قربانیاں اجتماعی ذمہ داری کو یاد دلاتی ہیں۔
اس موقع پر شہدا کے درجات کی بلندی اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔











