لورالائی کے قدیم مندر کی جائیداد کی مبینہ غیر قانونی فروخت، پریم کمار بوری وال کا نوٹس لینے کا مطالبہ

لورالائی: سابق اقلیتی کونسلر پریم کمار بوری وال نے کہا ہے کہ لورالائی میں واقع قدیم مندر، جو متروکہ وقف بورڈ کے زیرِ انتظام ہے، کی اراضی اور جائیداد کے حوالے سے بعض مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
ان کے مطابق مندر کے احاطے میں واقع بعض جائیدادیں مندر کمیٹی کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے فروخت کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خریدوفروخت کے معاملے میں متروکہ وقف بورڈ کے بجائے میونسپل کمیٹی بھی ملوث ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
مندر کا استعمال
پریم کمار بوری وال نے کہا کہ مندر ایک مقدس عبادت گاہ ہے، جسے مذہبی عبادات اور اقلیتی برادری کی مذہبی ضروریات کے لیے مخصوص رہنا چاہیے۔ تاہم ان کے بقول مندر کے بعض حصوں کو عبادت کے بجائے رہائشی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو قابلِ توجہ معاملہ ہے۔
تحقیقات کا مطالبہ
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ مندر کی جائیداد کی مبینہ فروخت، اس کے قانونی ریکارڈ اور موجودہ استعمال کا جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی ممکنہ غیر قانونی اقدام کی روک تھام کی جا سکے۔
سابق اقلیتی کونسلر نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر لورالائی کو باقاعدہ درخواست بھی دی ہے۔ ان کے مطابق معاملے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔











