گوادر یوتھ ٹورزم سمٹ 2026: سیاحت کے فروغ اور نوجوانوں کی شمولیت پر زور

گوادر: ڈائریکٹوریٹ آف ٹورزم، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام گوادر یوتھ ٹورزم سمٹ 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں بلوچستان میں سیاحت کے فروغ، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ڈیجیٹل میڈیا کے موثر استعمال اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
تقریب سے ڈائریکٹر ٹورازم بلوچستان گہرام بخشی، رجسٹرار یونیورسٹی آف گوادر دولت خان، گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن اور آر سی ڈی سی کے صدر حاجی عبدالغنی نوازش نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ گوادر اپنے دلکش ساحلوں، منفرد ثقافت، سمندری ورثے، مقامی روایات اور مہمان نوازی کے باعث سیاحت کے شعبے میں غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قدرتی اور ثقافتی وسائل کو موثر انداز میں متعارف کرایا جائے اور نوجوانوں کو سیاحت کے فروغ کے لیے دستیاب مواقع سے بھرپور استفادے کی ترغیب دی جائے۔
پینل ڈسکشن
سمٹ کے دوران پینل ڈسکشن میں سیاحت، ای کامرس اور کاروباری شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی اور سیاحت کے فروغ کے امکانات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر اظہارِ خیال کیا۔ پینل میں ای کامرس ایکسپرٹ اور جامعہ گوادر کے پی سی ٹی وی آئی کے شعبہ ای کامرس کی فیکلٹی ممبر مرتسم اقبال، ٹورازم اسپیشلسٹ زلیخا طارق، انٹرپرینیور زہرہ خلیل اور ٹورازم اسپیشلسٹ عائشہ مراد بخش شریک تھیں۔ گراں ناز ہوت نے پینل ڈسکشن کی میزبانی اور نظامت کے فرائض انجام دیے۔
پینل ڈسکشن میں اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، فوٹوگرافی اور ویڈیو مواد کے ذریعے گوادر کے ساحلی مقامات، قدرتی مناظر، تاریخی ورثے اور ثقافتی روایات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر موثر انداز میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ نوجوان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ای کامرس کے ذریعے سیاحت سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، مقامی مصنوعات کی تشہیر اور سیاحوں کو گوادر کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چیلنجز اور حکمت عملی
مباحثے میں سیاحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، بالخصوص سیکیورٹی، سیاحوں کے تحفظ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سیاحتی مقامات کی موثر تشہیر پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ سیاحت کے پائیدار فروغ کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، نجی شعبے اور مقامی کمیونٹی کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔
مقررین اور پینلسٹس نے کہا کہ سیاحت کے شعبے کے لیے مناسب وسائل مختص کرنے، موثر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے، نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور مقامی کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی سے گوادر میں سیاحتی سرگرمیوں کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ علاقے کی معاشی ترقی میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔
سمٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ گوادر محض ایک ساحلی شہر نہیں بلکہ اپنی سمندری تاریخ، ثقافتی شناخت اور قدرتی حسن کے باعث پاکستان کے اہم سیاحتی مراکز میں شامل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ نوجوانوں کی فعال شمولیت، جدید ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے گوادر کو ملکی اور عالمی سطح پر ایک نمایاں سیاحتی مقام کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











