حکومت نے مزید 7 سے 10 دن مانگے، مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم الرحمان

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے 7 سے 10 دن مزید مانگے ہیں۔ اگر حکومت نے مطالبات نہ مانے تو جماعت اسلامی کا مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا اور اب اسے ملتوی نہیں کیا جائے گا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو حکومت ہوتی ہے بات اسی سے ہوتی ہے، وہ فارم 47 کے ہوں یا 48 کے، بات حکومت سے کرنی ہوتی ہے۔ ہائی جیکر جہاز ہائی جیک کرلیتا ہے تو بات اسی سے کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نومبر کے وسط میں اسلام آباد لانگ مارچ ہوگا، مارچ کی تیاری جاری رہے گی اور پورے ملک میں موبلائزیشن شروع ہو جائے گی۔ ہم حکومت سے مزید بات کریں گے لیکن نومبر کے وسط میں مارچ ہوگا۔
حکومت سے مطالبات
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت مارچ شروع ہونے سے پہلے پیکیج کا اعلان کرے اور مارچ سے پہلے لیوی کے خاتمے کا کوئی نظام بنائے۔ ان کے بقول لیوی بھتہ ختم ہونا چاہیے، جس کا بوجھ مڈل کلاس اور غریب لوگ اٹھا رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ریلیف ملے، ساتھ ساتھ لیوی بھی ختم ہو اور پیٹرول کی قیمت میں بھی ریلیف ملے۔
ریلیف پیکیج سے عوام کو زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا۔ اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف بڑھایا جا رہا ہے۔ ہم کہتے ہیں لیوی ختم کی جائے، وہ کہتے ہیں مرحلہ وار ریلیف دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 7 سے 10 دن مزید مانگے ہیں۔ اگر جماعت اسلامی احتجاج نہ کرتی تو کیا حکومت پیٹرول پر یہ ریلیف دیتی؟ انہوں نے تو 80 روپے کی لیوی 160 کر دینی تھی، ہم نے احتجاج کیا تو یہ پیچھے ہٹے۔
ہمارا دباؤ حکومت پر موجود ہے اور ہم اسے مزید بڑھائیں گے، ہو سکتا ہے سڑک پر بیٹھ کر بات کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ہر جماعت حکومت میں آنے سے پہلے آئی ایم ایف کا کشکول توڑنے کی بات کرتی ہے۔











