قلات کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کی کھلی کچہری، ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری نے شکایات پر احکامات جاری کیے

قلات: تاریخی شہر قلات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری منعقد کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کھلی کچہری سے خطاب میں کہا کہ اس کا مقصد خواتین کے مسائل حل کرنا، ان کی شکایات کا ازالہ کرنا اور انہیں باعزت طریقے سے اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کا موقع دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ، فلاح و بہبود اور مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے خواتین سے کہا کہ وہ بلاجھجک اپنی شکایات پیش کریں، انتظامیہ ان کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی اور تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خواتین کی شکایات
خواتین نے جو مسائل پیش کیے ان میں دستکاری مرکز خیل کی ٹرینی طالبات کے دو سال سے بند وظائف، بیت المال کے تحت چلنے والے دستکاری مرکز کے لیے عمارت، طالبات کو لیپ ٹاپ اور ہنرمند خواتین کو سلائی مشینوں کی فراہمی، ستار نیچاری کے قاتلوں کی عدم گرفتاری، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے کوٹے میں اضافہ، رحیم آباد کوئنگ میں پینے کا پانی، قلات کِلی پندرانی کی واٹر سپلائی کے لیے انورٹر، محلہ شیشہ ڈغار میں بارش کے سیلابی پانی سے مشکلات اور طویل لوڈشیڈنگ سے طلبہ و طالبات کی پڑھائی میں خلل شامل تھے۔
ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری نے شکایات غور سے سنیں اور بعض مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کیے۔ کھلی کچہری میں ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) فرزانہ احمدزئی، گیاوان اینڈ کرافٹس بلوچستان کی سی ای او شازیہ اکبر زہری، مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان اور قلات و خالق آباد کی خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔


تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











