سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر میں کوتاہی برداشت نہیں ہوگی: کمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء کو این آر ایس پی کی بریفنگ

حب: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے منظور شدہ پراجیکٹ میں شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے تحت پراجیکٹ کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے لیڈا کانفرنس ہال میں نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (این آر ایس پی) کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔
کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے کہا کہ 2022 کے سیلاب میں جن متاثرین کے گھر سیلاب کی نذر ہوئے، ان کے گھروں کی بحالی کے پراجیکٹ میں کسی بھی سطح پر کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ گڈ گورننس کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان کا وژن واضح ہے۔
6200 گھروں کی منظوری، 3300 تعمیر
ڈسٹرکٹ منیجر این آر ایس پی جہانگیر بلوچ نے کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے 18815 سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مستند فہرستیں فراہم کی گئیں۔ پہلے مرحلے (فیز ون) میں 6200 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ لسبیلہ میں منصوبے کے تحت اب تک 3300 سنگل کمروں کے گھر تعمیر کیے گئے ہیں، جبکہ آواران میں منظور شدہ 527 ہاؤسز میں سے 300 سنگل کمروں کے گھر تعمیر کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ این آر ایس پی 2225 کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز کے اشتراک سے ڈسٹرکٹ لسبیلہ میں کام کر رہی ہے اور 22 یونین کونسلز میں 21 وومن ریسورس سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔ لسبیلہ ڈویژن میں کمیونٹی انسٹی ٹیوشن پلاننگ اینڈ کیپسٹی بلڈنگ پر بھی نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کام کر رہا ہے۔
مال مویشی، ہنر اور صاف پانی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گرانٹ این ایڈ کے تحت پست معیار زندگی گزارنے والے 6730 خاندانوں کو مال مویشی کی فراہمی کے لیے مالی امداد دی گئی ہے۔ بزنس آئیڈیاز کے تحت 1100 خواتین کو ہنرمند بنانے کے لیے حکومت بلوچستان نے بی ٹیوٹا کے توسط سے zebtic میں اسکل ڈیولپمنٹ کی ٹریننگ دی ہے، جو ہنرمند ہو کر اپنے خاندانوں کی معاشی کفالت کر رہی ہیں۔
ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر نے بتایا کہ این آر ایس پی 534 کمیونٹی واٹر سپلائی اسکیمات کی سولرائزیشن پر کمیونٹی کے تعاون سے کام کر رہی ہے، جبکہ 22 یونین کونسلوں میں 211 ویلیج ڈیولپمنٹ منصوبے پلان کیے گئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی کوآرڈینیشن سے آئی سی سی ایم پراجیکٹ کے تحت لسبیلہ ڈویژن کے پہاڑی علاقوں کی دس یونین کونسلز کو منتخب کیا گیا ہے، جہاں ہیلتھ سیکٹر میں لوگوں کو سرکاری مراکز صحت تک رسائی میں مشکلات درپیش تھیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام بی ایچ یوز کو ملیریا اسکریننگ کٹس اور ادویات ضرورت کی بنیاد پر مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈسٹرکٹ منیجر این آر ایس پی لسبیلہ ریجن نے ملٹی میڈیا بریفنگ میں مختلف پراجیکٹس پر پیش رفت سے کمشنر کو آگاہ کیا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











