سنگداس پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ بھتہ خوری، ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کا نوٹس لینے کا مطالبہ
کوئٹہ: آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے سنگداس پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ بھتہ خوری اور ٹرانسپورٹرز کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر قلات سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر ٹرانسپورٹرز اور عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ چیک پوسٹ پر تعینات وہاب اور اسماعیل نامی اہلکاروں نے تیل بردار گاڑیوں سمیت ہر قسم کی گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں، جہاں مبینہ طور پر فی گاڑی تین ہزار روپے زبردستی وصول کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مبینہ بھتہ خوری کے باعث ٹرانسپورٹرز شدید پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور سفری مشکلات نے پہلے ہی ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کسی بھی چیک پوسٹ پر قانون کی آڑ میں ٹرانسپورٹرز کو مبینہ طور پر لوٹنا اور ان سے زبردستی رقم وصول کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ عوام اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کریں اور سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ بھتہ خوری کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، نامزد اہلکاروں کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ٹرانسپورٹرز کو اس مبینہ لوٹ مار سے نجات دلائی جائے، تاکہ وہ بلا خوف و ہراس اپنی تجارتی اور سفری سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔











