رائز پروگرام: تربت میں ضلع کیچ کے 250 مستحق افراد میں انکم جنریٹنگ گرانٹس تقسیم

تربت: بی آر ایس پی کیچ کے زیرِ اہتمام حکومت بلوچستان کے رائز (RISE) پروگرام کے تحت ضلع کیچ کے 250 مستحق نوجوانوں اور افراد میں انکم جنریٹنگ گرانٹس (IGG) کی تقسیم کے حوالے سے تقریب عطاشاد ڈگری کالج تربت میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی تھے۔
تقریب میں رائز پروگرام کے لیڈ ڈائریکٹر سید قاہر خان آغا، سوشل نیٹ ورک کے چیئرمین یوسف بلوچ، جویریہ اختر، تربت یونیورسٹی کے ذمہ داران، عطاشاد ڈگری کالج کے طلبہ، گرلز ڈگری کالج کی طالبات اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ رائز پروگرام حکومت بلوچستان کے ان اہم اقدامات میں شامل ہے جن کا مقصد مالی مشکلات سے دوچار افراد اور نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ بلوچستان میں بے روزگاری ایک اہم چیلنج ہے، تاہم ایسے پروگراموں کے ذریعے مستحق افراد کو اپنے علاقوں میں چھوٹے کاروبار شروع کر کے مستقل آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے مواقع دیے جا رہے ہیں، اور ضلعی انتظامیہ عوامی آگاہی اور مستحقین تک ثمرات پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستحقین کے انتخاب میں میرٹ اور شفافیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے رائز ٹیم کو تفصیلی سروے اور انتخاب پر مبارکباد دی اور کہا کہ اگر کسی کو میرٹ کی خلاف ورزی سے متعلق شکایت یا تحفظات ہوں تو وہ متعلقہ حکام سے رجوع کر سکتا ہے تاکہ معاملے کی شفاف جانچ ہو سکے۔
چھ اضلاع میں معاونت، 6 ہزار افراد کی تربیت
لیڈ ڈائریکٹر سید قاہر خان آغا نے کہا کہ انکم جنریٹنگ گرانٹس کا بنیادی مقصد خاندانوں اور بالخصوص نوجوانوں کو معاشی طور پر مستحکم اور خودمختار بنانا ہے۔ رائز پروگرام کے تحت کیچ، گوادر، پنجگور، آواران، خاران اور واشک سمیت بلوچستان کے چھ اضلاع میں نوجوان مرد و خواتین کو مالی اور پیشہ ورانہ معاونت دی جا رہی ہے، اور مستحقین کو ان کے رجحان، مقامی مارکیٹ کی طلب اور دستیاب معاشی مواقع کے مطابق چھوٹے کاروبار کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے مختلف پروگراموں میں نوجوانوں کو آئی ٹی، ای کامرس، مارکیٹنگ اور دیگر شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے اور تقریباً 6 ہزار مرد و خواتین ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔ تربیت مکمل کرنے والوں کو مہارت کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز پروگرام کے تحت پہلے سے چھوٹا کاروبار کرنے والوں کو توسیع کے لیے 5 لاکھ روپے سے 2 کروڑ روپے تک مالی معاونت کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
سید قاہر خان آغا کے مطابق رائز پروگرام کے سوشل پروجیکٹ کے تحت لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز (LSOs) کے ذریعے مختلف یونین کونسلوں کی سطح پر تقریباً 20، 20 لاکھ روپے تک کی گرانٹس بھی دی جا رہی ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں کے لیے کھیلوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
تقریب سے یوسف بلوچ، جویریہ اختر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت یلان زامرانی نے حاصل کی، انتظام کاری کے فرائض ماہ نور شاہ اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صائمہ بلوچ نے انجام دیے۔
اختتام پر ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی اور سید قاہر خان آغا نے مستحقین میں انکم جنریٹنگ گرانٹس اور مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کیں۔ مقررین نے امید ظاہر کی کہ اس معاونت سے مستحق خاندانوں کے لیے آمدنی کے مستقل ذرائع پیدا ہوں گے، نوجوانوں کے لیے خود روزگاری کے مواقع بڑھیں گے اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











