حب: کمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء کا انسداد اسمگلنگ اجلاس، ڈیزل اور انڈین چھالیہ کی اسمگلنگ پر زیرو ٹالرنس

حب: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیرِ صدارت ضلع حب اور لسبیلہ میں امن و امان اور انسدادِ اسمگلنگ کے حوالے سے اہم اجلاس لیڈا کانفرنس روم میں منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج کریم بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر حب مہیم بلوچ، ایس پی حب مرزا بلال حسن، ایف سی 147 ونگ کے میجر یحییٰ، حساس اداروں، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور اے این ایف کے افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں امن و امان کی صورتحال اور سندھ بلوچستان سرحدی پٹی پر انڈین چھالیہ اور نان کسٹم اشیاء کی اسمگلنگ کے روٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت جامع منصوبوں پر کام کا فیصلہ کیا گیا۔ آر سی ڈی ہائی وے اور کوسٹل ہائی وے پر مسافر بسوں کے ذریعے ڈیزل اور نان کسٹم پیڈ اشیاء کی غیر قانونی اسمگلنگ روکنے، چیک پوسٹوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ٹیکنیکل سرویلنس کے ذریعے شاہراہوں کو محفوظ بنانے کا بھی فیصلہ ہوا۔
ایس پی حب، ایف سی 147 ونگ کے میجر یحییٰ، پاکستان کوسٹ گارڈ کے افسر، ڈائریکٹر ایکسائز سہیل احمد اور دیگر اداروں کے حکام نے انسدادِ منشیات و انسدادِ اسمگلنگ کے حوالے سے اپنی کارکردگی پر بریفنگ دی، جبکہ کسٹم کے افسران اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کے ماتحت تمام اداروں کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن میکانزم اور مقامی کمیونٹی کی معاونت سے سیکیورٹی ایس او پیز پر عملدرآمد پر بھی مشاورت کی گئی۔
لوگ چیک پوسٹوں کے عملے کو محافظ سمجھیں: کمشنر
کمشنر سائرہ عطاء نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام اور اسنیپ چیکنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت اور وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ چیک پوسٹوں پر تعینات عملہ ایسا رویہ اپنائے کہ لوگ انہیں دشمن نہیں محافظ سمجھیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے رویوں سے ریاست کا مثبت امیج پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا میکانزم بنایا جائے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بار بار چیک نہ کرنا پڑے اور سیکیورٹی اداروں کو ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھنا ہوگا۔
کمشنر نے کہا کہ واٹر ٹینکرز سے رشوت لے کر انہیں کراچی پار کروانے کی شکایات پر متعلقہ ذمہ داران سے باز پرس کی جائے گی۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے سیکیورٹی میکانزم کے تحت کام کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ منظم اور وسیع کرنے پر غور کیا گیا، جبکہ کمشنر نے گڈانی کسٹم کلکٹریٹ کے افسران کی غیر حاضری پر مجاز اتھارٹی کو خط لکھنے کے احکامات جاری کیے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











