بارکھان: بی ایچ یو رکھنی میں ڈاکٹر کی عدم موجودگی پر احتجاج، ڈپٹی کمشنر نے انکوائری کا حکم دے دیا

بارکھان: سب تحصیل بغاؤ میں گزشتہ شب دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں رمیانی برادری کے دو افراد زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے بی ایچ یو رکھنی منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بی ایچ یو رکھنی میں ڈاکٹر کی عدم موجودگی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے پر لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے لاش رکھنی بائی پاس، این-70 پر رکھ دی، جس کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
اسسٹنٹ کمشنر کا دورہ، شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم
اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر تحصیل رکھنی فہد حسین عمرانی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے بی ایچ یو رکھنی کا دورہ کیا اور مرکزِ صحت میں ڈاکٹرز و طبی عملے کی حاضری، ڈیوٹی روسٹر اور زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ، ڈی این پی پی ایچ آئی اور ڈی ایچ او بارکھان کی جانب سے غیر حاضر ڈاکٹرز اور متعلقہ طبی عملے کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے احکامات دیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے زخمی افراد کی آمد کے وقت عملے کی مبینہ غیر موجودگی سے متعلق شکایت پر باقاعدہ انکوائری کا حکم دیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی کو انکوائری افسر مقرر کیا اور انہیں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اگلے روز تک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری مراکزِ صحت میں عوام کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ غفلت یا کوتاہی کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ کے مطابق انکوائری رپورٹ کی روشنی میں حقائق سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی نے کہا کہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انکوائری کے دوران جس اہلکار کی ڈیوٹی سے غیر حاضری یا غفلت ثابت ہوئی، اس کے خلاف قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی ہوگی، اور سرکاری مراکزِ صحت میں ہنگامی صورتحال کے دوران فوری طبی امداد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
انتظامیہ کی جانب سے فوری کارروائی اور ذمہ داران کے تعین کی یقین دہانی پر لواحقین نے احتجاج ختم کر دیا، جس کے بعد رکھنی بائی پاس، این-70 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











