رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 15° صاف 22° / 11°فجر 05:22ظہر 12:16عصر 16:11مغرب 17:48عشا 19:09
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایس کے ہائینکس کا سہ ماہی منافع سات گنا بڑھنے کے بعد 75 ارب ڈالر شیئر ہولڈرز کو لوٹانے کا اعلانجسٹس عائشہ ملک نے ججوں کے لیے بینچ بک کی تقریبِ رونمائی میں اس تصور کو مسترد کر دیا کہ خواتین زیادتی کو “دعوت” دیتی ہیںڈی ایٹ کا 2030 تک رکن ممالک کی باہمی تجارت 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے، وفاقی وزیر تجارت کا دوحہ میں بیاناقوام متحدہ کے اداروں کی یوکرین پر حملوں، ایران میں رسائی کے فقدان اور کینیا میں ایتھوپیائی پناہ گزینوں پر انتباہات“دی پٹ” کے اسٹار نوآ وائلی 2026 کے لیے پیپل کے “سیکسی ترین مرد” قرارفن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں کی یوکرین جنگ پر پوٹن سے 90 منٹ طویل نادر ٹیلیفونک گفتگوآئی ایم ایف شرائط پر قانون سازی: حکومت اور پیپلز پارٹی میں اتفاقپیٹرول 1.54 روپے اور ڈیزل 2.16 روپے فی لیٹر مہنگا، نئی قیمتیں 27 اکتوبر سے نافذنیوزی لینڈ کے خلاف تیسرا ٹی ٹوئنٹی: ابھیشیک شرما کی سنچری، بھارت کی 3-0 سے برتریایرانی اسپیکر کا دعویٰ: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیںبلاول: سندھ اسمبلی نے نئے صوبے کے معاملے پر فل اسٹاپ لگا دیاٹرائنگولر سیریز: سری لنکا نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

افغانستان بے بنیاد الزامات چھوڑ کر دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے: طارق فضل چوہدری

افغانستان بے بنیاد الزامات چھوڑ کر دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے: طارق فضل چوہدری
فائل فوٹو: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری — تصویر: بشکریہ app.com.pk

اسلام آباد:

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ افغان حکام کی پاکستان کے خلاف الزام تراشی مسترد کرتے ہیں۔ افغانستان بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پر لگائے جانے والے افغان الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔ افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کی بات کی ہے، تاہم جب بھی پاکستان پر جارحیت مسلط کی گئی، اس کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج آج بھی ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو دراندازی اور دہشت گردی کے ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں۔ استنبول اور دوحہ مذاکرات کے دوران بھی افغان نمائندوں کے سامنے یہ ثبوت رکھے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا کوئی جواب نہیں تھا، مذاکرات کے باوجود افغان عبوری حکومت دراندازی روکنے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو پاکستان کو تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرے اور پاکستان میں دراندازی روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔