بین الاقوامی سافٹ ڈرنکس کی مضبوط طلب، کوکا کولا نے 2026 کے لیے منافع کا تخمینہ بڑھا دیا

نیویارک: کوکا کولا نے منگل کو سالانہ منافع کا تخمینہ بڑھا دیا، جس کی وجہ بھارت اور برازیل جیسی منڈیوں میں سافٹ ڈرنکس کی طلب بتائی گئی ہے۔ فیئر لائف دودھ جیسے مہنگے مشروبات کی زیادہ فروخت نے شمالی امریکا میں خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت کی تلافی میں مدد دی۔
کمپنی کو اب توقع ہے کہ 2026 میں تقابلی کرنسی نیوٹرل فی شیئر آمدن میں کم از کم 9 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس سے قبل اس کا تخمینہ 7 سے 8 فیصد اضافے کا تھا۔
کمپنی نے سالانہ نامیاتی آمدن میں کم از کم 5 فیصد اضافے کا ہدف بھی رکھا ہے۔ اس سے پہلے اس کا اندازہ تقریباً 5 فیصد تھا۔
کمپنی کے مطابق تیسری سہ ماہی میں عالمی یونٹ کیس والیوم میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی وجہ بھارت، چین، میکسیکو اور برازیل میں نمو رہی۔ شمالی امریکا میں والیوم برقرار رہا، تاہم وہاں اس کے ٹریڈ مارک سوڈاز میں اضافہ ہوا۔
ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق 2 اکتوبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی کی آمدن 13.38 ارب ڈالر رہی۔ تجزیہ کاروں کا اندازہ 12.92 ارب ڈالر تھا۔ ایڈجسٹڈ آمدن 91 سینٹ فی شیئر رہی، جبکہ اندازہ 88 سینٹ تھا۔
تیسری سہ ماہی کی آمدن میں 7.4 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے آپریٹنگ مارجن بڑھ کر 33.4 فیصد ہو گیا۔
کوکا کولا نے امریکا میں زیادہ محتاط انتخاب کرنے والے صارفین کو چھوٹے اور سستے پیکس کے ذریعے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے کوکا کولا چیری فلوٹ اور ٹوپو چیکو اور فیئر لائف کی نئی اقسام سمیت مہنگی مصنوعات بھی متعارف کرائی ہیں۔
دیگر اشیائے صرف بنانے والی کمپنیوں کی طرح کوکا کولا کو بھی پیکجنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا ہے، کیونکہ ایران میں امریکی جنگ اجناس کی قیمتیں بڑھا رہی ہے۔ جولائی میں کمپنی نے کہا تھا کہ اس سال ایلومینیم اور پی ای ٹی کی لاگت توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
اس کے نتائج حریف کمپنی پیپسی کو کے برعکس ہیں، جسے امریکا میں اسنیکس کی کمزور طلب کا سامنا رہا ہے۔
جیفریز کے تجزیہ کار کومل گجراوالا نے کہا: ’’کوک اور اس کے ہم عصروں کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ جب مارکیٹ قیمتوں میں اضافے پر بحث کر رہی ہے تو والیوم میں اضافہ دکھانے والوں کی کارکردگی بہتر رہنی چاہیے۔‘‘
آر بی سی کیپٹل مارکیٹس کے تجزیہ کار نک مودی نے کہا کہ کچھ سرمایہ کار اہداف میں مزید بڑے اضافے کے خواہاں ہو سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میکرو اکنامک ماحول کے پیش نظر احتیاط قابل فہم ہے۔
رائٹرز کے مطابق پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں کوکا کولا کے شیئرز میں بڑی حد تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ 2026 میں اسٹاک تقریباً 33 فیصد بڑھ چکا ہے۔ صارفین کے کمزور اخراجات اور ایران جنگ سے جڑے مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے باوجود یہ مسلسل تیسرے سال اضافے کی راہ پر ہے۔











