زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر ہو گئے، دسمبر تک 23 ارب اور جون 2027 تک 25 ارب ڈالر کا تخمینہ

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 21 ارب 50 کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں اور آنے والے مہینوں میں ان میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق دسمبر 2026 تک ذخائر 23 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ آئندہ سال یعنی جون 2027 تک یہ 25 ارب ڈالر تک جانے کا امکان ہے۔ گورنر نے کہا کہ ذخائر کی موجودہ سطح عالمی بینچ مارک کے برابر آ چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ذخائر کی صورت حال مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
میٹس گلوبل کے مطابق گورنر نے یہ بات پیر کو اس موقع پر کہی جب مرکزی بینک نے شرح سود 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دی۔ میٹس گلوبل کی رپورٹ کے مطابق گورنر نے بتایا کہ فروری 2023 میں ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی نیچے چلے گئے تھے، تاہم اس کے بعد ان میں بحالی ہوئی، اور اضافے کی بڑی وجہ مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری رہی۔
گورنر کے مطابق پاکستان کا غیر ملکی قرضہ اس وقت تقریباً 107 ارب ڈالر ہے۔ میٹس گلوبل کے مطابق انہوں نے کہا کہ چار برس میں بیرونی قرضے میں صرف 5 سے 6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، اور معاشی استحکام کے لیے ذخائر کا مسلسل بڑھتے رہنا اہم ہے۔
میٹس گلوبل کے مطابق گورنر نے معاشی نمو کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد لگایا۔ انہوں نے کہا کہ چینی، چاول اور مکئی کی فصلوں کے امکانات کپاس کے مقابلے میں بہتر ہیں، جبکہ مجموعی طور پر زرعی شعبے کا منظرنامہ بھی بہتر ہے اور مالی ذخائر پہلے سے مضبوط ہیں۔
میٹس گلوبل کے سروے میں 58.7 فیصد شرکا نے شرح سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی تھی، جبکہ 41.3 فیصد کا خیال تھا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ 44.4 فیصد نے خاص طور پر 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔











