رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 21° صاف 22° / 11°فجر 05:22ظہر 12:16عصر 16:11مغرب 17:48عشا 19:09
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
اسلام آباد میں پاک چین انفارمیشن کوریڈور کا آغاز، میڈیا اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کا اعلاناسرائیلی انتخابات میں تعطل، نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں کا حکومت بنانے کا دعویٰامریکا کی خلیجی ممالک کو مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید مہم کے امکان سے خبردار رہنے کی ہدایتپاکستان کا سلامتی کونسل میں ویٹو کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیوں کا مطالبہایس کے ہائینکس کا سہ ماہی منافع سات گنا بڑھنے کے بعد 75 ارب ڈالر شیئر ہولڈرز کو لوٹانے کا اعلانجسٹس عائشہ ملک نے ججوں کے لیے بینچ بک کی تقریبِ رونمائی میں اس تصور کو مسترد کر دیا کہ خواتین زیادتی کو “دعوت” دیتی ہیںڈی ایٹ کا 2030 تک رکن ممالک کی باہمی تجارت 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے، وفاقی وزیر تجارت کا دوحہ میں بیاناقوام متحدہ کے اداروں کی یوکرین پر حملوں، ایران میں رسائی کے فقدان اور کینیا میں ایتھوپیائی پناہ گزینوں پر انتباہات“دی پٹ” کے اسٹار نوآ وائلی 2026 کے لیے پیپل کے “سیکسی ترین مرد” قرارفن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں کی یوکرین جنگ پر پوٹن سے 90 منٹ طویل نادر ٹیلیفونک گفتگوآئی ایم ایف شرائط پر قانون سازی: حکومت اور پیپلز پارٹی میں اتفاقپیٹرول 1.54 روپے اور ڈیزل 2.16 روپے فی لیٹر مہنگا، نئی قیمتیں 27 اکتوبر سے نافذ
مارکیٹ
KSE-100164,539▲0.04%KMI-30236,064▲0.18%ڈالر277.05روپےیورو308.71روپےپاؤنڈ368.89روپےریال73.88روپےدرہم75.44روپےسونا فی تولہ419,021روپےسونا4,033$/اونسچاندی53.96$/اونسبٹ کوائن80,914$▲0.01%

آئی ایم ایف کا معاشی اصلاحات میں تاخیر پر تحفظات، زرعی آمدن پر ٹیکس پر زور

آئی ایم ایف کا معاشی اصلاحات میں تاخیر پر تحفظات، زرعی آمدن پر ٹیکس پر زور
فائل فوٹو: آئی ایم ایف کا صدر دفتر — تصویر: بشکریہ bloomberg.com

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں بعض معاشی اصلاحات میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی ادارہ زرعی آمدن پر ٹیکس اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں سست روی پر ناخوش ہے۔ ملک میں غیر رسمی معیشت کا حجم بہت زیادہ ہے، اور صرف دکانداروں پر دباؤ ڈالنا ناکافی ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں زرعی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے رجسٹریشن میں ناکام رہیں، اور مالی سال 2025-26 کے دوران زرعی شعبے میں ٹیکس گوشواروں کا ہدف پورا نہیں ہو سکا۔

آئی ایم ایف نے زرعی شعبے میں ٹیکس چھوٹ اور استثنا برقرار رکھنے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کم از کم 15 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

عالمی ادارے نے صحت اور تعلیم سمیت انسانی وسائل کی ترقی پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ٹیکس اصلاحات میں پیش رفت کو بھی غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ گزشتہ کئی سال سے محدود ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں پھنسی ہوئی ہے۔ مضبوط ریاستی نظام کے لیے ٹیکس بیس میں اضافہ ضروری ہے۔

آئی ایم ایف نے مختلف ذرائع پر ٹیکس کی شرح میں یکسانیت یقینی بنانے پر زور دیا ہے، اور زراعت و ریٹیل سیکٹر میں اصلاحات کی رفتار کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔

موضوعات: