سوئی سدرن گیس کا سندھ کے 46 دیہات میں 1.922 ارب روپے کے گیس منصوبوں کا فیصلہ

اسلام آباد: سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) نے رواں مالی سال 2026-27ء کے دوران سندھ کے 46 دیہات اور قصبوں تک قدرتی گیس کے بنیادی ڈھانچے کو توسیع دینے کا منصوبہ بنایا ہے، جس پر 1.922 ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ضلع سانگھڑ کے 31 اور ضلع شکارپور کے 15 دیہات اور قصبوں کو گیس فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 178.52 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن نیٹ ورک بچھایا جائے گا، جس سے 2,710 ممکنہ صارفین مستفید ہو سکیں گے۔
یہ منصوبے سوئی سدرن کے گیس فراہمی پروگرام کے چھٹے مرحلے کا حصہ ہیں، جس کے تحت گیس پیدا کرنے والے فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع آبادیوں کو گیس کی سہولت دی جا رہی ہے۔
سانگھڑ اور شکارپور کے منصوبے
ضلع سانگھڑ میں بوبی گیس فیلڈ کے اردگرد واقع 31 دیہات اور قصبوں کو تقریباً 1.503 ارب روپے کی لاگت سے گیس فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ اس منصوبے میں 1,767 ممکنہ صارفین کے لیے 132.40 کلومیٹر طویل پائپ لائنیں بچھانا شامل ہے۔
ضلع شکارپور میں حسن گیس فیلڈ کے قریب 15 دیہات اور قصبوں کے لیے تقریباً 418.99 ملین روپے کی لاگت سے الگ منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے تحت 943 ممکنہ صارفین کے لیے 46.12 کلومیٹر طویل پائپ لائن نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔
مالی معاونت
لاگت میں شراکت کے مقررہ معیار کے تحت سوئی سدرن گیس کمپنی دونوں منصوبوں کے لیے 146.34 ملین روپے فراہم کرے گی، جبکہ حکومت 1.776 ارب روپے دے گی۔
بوبی گیس فیلڈ کے منصوبے میں سوئی سدرن کا حصہ 95.418 ملین روپے ہے، جبکہ حکومت 1.408 ارب روپے فراہم کرے گی۔ حسن گیس فیلڈ کے منصوبے کے لیے کمپنی 50.922 ملین روپے اور حکومت 368.071 ملین روپے دے گی۔
یہ پروگرام وزیراعظم کی ہدایات اور سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کے عمل درآمد بینچ کے احکامات کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد گیس پیدا کرنے والے فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع آبادیوں کو گیس کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی عمل درآمد کے چوتھے سال تک 404 دیہات اور قصبوں کو گیس فراہم کرنے کی سکیمیں مکمل کر چکی ہے۔ ان میں سندھ اور بلوچستان کے مختلف گیس فیلڈز کے اردگرد واقع آبادیاں شامل تھیں، جن میں بدین، ٹنڈو محمد خان اور سانگھڑ کے اضلاع بھی شامل ہیں۔
آئندہ دو مالی سال
مالی سال 2027-28ء کے دوران سوئی سدرن مزید 67 دیہات اور قصبوں تک گیس کے بنیادی ڈھانچے کو توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے، جس پر تقریباً 1.831 ارب روپے لاگت آئے گی۔ ان سکیموں کے تحت 2,281 ممکنہ صارفین کے لیے 171.97 کلومیٹر طویل پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔
مالی سال 2028-29ء میں مزید 60 دیہات اور قصبوں کو تقریباً 1.796 ارب روپے کی لاگت سے گیس فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ اس مقصد کے لیے 1,620 ممکنہ صارفین کے لیے 155.02 کلومیٹر طویل پائپ لائن نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔
مجموعی طور پر پروگرام کے چھٹے سے آٹھویں مرحلے کے دوران 173 دیہات اور قصبوں کو گیس فراہم کرنے کی سکیمیں تجویز کی گئی ہیں، جن کے تحت 505.51 کلومیٹر طویل پائپ لائن نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔ ان پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 5.549 ارب روپے ہے۔
اس رقم میں سوئی سدرن گیس کمپنی کا مجوزہ حصہ 356.994 ملین روپے، جبکہ حکومت کا حصہ 5.192 ارب روپے لگایا گیا ہے۔











