امریکا میں خسرے کے کیسز 4,410 ہو گئے، پنسلوانیا میں وبا مزید سنگین

لاس اینجلس: امریکا میں خسرے سے متاثرہ افراد کی تعداد 4,400 سے تجاوز کر گئی جبکہ ریاست پنسلوانیا میں وبا کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق ملک میں خسرے کے 4,410 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد 2025 میں رپورٹ ہونے والے کل 2,289 کیسز کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال کیسز کی تعداد 1991 کے بعد سب سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
سی ڈی سی کے اعداد و شمار
سی ڈی سی کے مطابق ان کیسز میں سے 4,392 کیسز 47 مختلف علاقوں سے رپورٹ ہوئے، جبکہ 18 کیسز امریکا آنے والے بین الاقوامی سیاحوں میں پائے گئے۔
متاثرین میں سب سے بڑی تعداد 5 سے 19 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ہے، جو کل متاثرین کا 42 فیصد یعنی 1,856 ہے۔
کل 451 مریضوں، یعنی تمام تصدیق شدہ کیسز کے تقریباً 10 فیصد کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ تقریباً 96 فیصد کیسز ایسے افراد میں سامنے آئے جنہیں ویکسین نہیں لگی تھی یا جن کی ویکسی نیشن کی حیثیت معلوم نہیں تھی۔
پنسلوانیا کی صورتحال
پنسلوانیا کے محکمہ صحت نے بتایا کہ اس سال اب تک ریاست کی 43 کاؤنٹیوں میں خسرے کے 1,260 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان میں سے 238 مریضوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا اور 5 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں ریاست میں 38 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ محکمہ فرینکلن کاؤنٹی میں حال ہی میں ہونے والی ایک موت کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔
سی ڈی سی وبا سے نمٹنے میں مدد کے لیے اپنے ایک سائنسدان کو پنسلوانیا بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ترجمان کے مطابق ادارہ پنسلوانیا کے محکمہ صحت کے حکام کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے درکار مہارت اور معاونت فراہم کی جا سکے۔
سی ڈی سی نے خسرہ، کن پیڑے اور روبیلا سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی دو خوراکیں لینے کی سفارش کی ہے، جو خسرے کے خلاف بہترین تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
ادارے کا کہنا تھا کہ جب کسی کمیونٹی میں 95 فیصد سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہو تو کمیونٹی امیونٹی، جسے ہرڈ امیونٹی یا اجتماعی قوتِ مدافعت بھی کہا جاتا ہے، پیدا ہوتی ہے، جو مزید لوگوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔











