فضل محمود: اوول کا ہیرو اور پاکستان کا پہلا عظیم بولر
پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں ابتدائی کامیابیاں دلانے والوں کی فہرست بنائی جائے تو سب سے اوپر فضل محمود (Fazal Mahmood) کا نام آتا ہے۔ دراز قد، پُرکشش شخصیت اور گیند کو دونوں طرف موڑنے کے فن نے انہیں پچاس…

پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں ابتدائی کامیابیاں دلانے والوں کی فہرست بنائی جائے تو سب سے اوپر فضل محمود (Fazal Mahmood) کا نام آتا ہے۔ دراز قد، پُرکشش شخصیت اور گیند کو دونوں طرف موڑنے کے فن نے انہیں پچاس کی دہائی کا ایک ممتاز بولر بنا دیا۔ بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی پہلی ٹیسٹ فتوحات میں ان کا کردار مرکزی تھا، اور 1954ء میں لندن کے اوول (The Oval) میدان پر ان کی بولنگ آج بھی پاکستانی کرکٹ کی لوک کہانیوں کا حصہ ہے۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
فضل محمود 18 فروری 1927ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی، جہاں ان کے والد معاشیات کے استاد اور کالج کے کرکٹ کلب کے سربراہ تھے۔ والد نے بیٹے کے لیے صبح سویرے اٹھنے، میلوں پیدل چلنے اور دوڑنے کا سخت معمول مقرر کیا، اور یہی مشقت آگے چل کر ان کی طویل بولنگ کی طاقت بنی2۔
قیامِ پاکستان سے پہلے وہ رنجی ٹرافی میں ناردرن انڈیا کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے تھے، اور ان کی کارکردگی ایسی تھی کہ انہیں 1947ء-48ء میں آسٹریلیا جانے والی ہندوستانی ٹیم میں بھی منتخب کیا گیا۔ مگر آزادی کے بعد انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا، اور پھر نئے ملک کو ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ دلانے کی کوششوں میں ان کی بولنگ نے اہم کردار ادا کیا2۔
فضل دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم بولنگ کرتے تھے۔ ان کی اصل طاقت تیز رفتاری نہیں بلکہ درست لائن و لینتھ، سوئنگ، اور لیگ کٹر کا وہ ہتھیار تھا جو میٹ کی وکٹوں پر خاص طور پر خطرناک ثابت ہوتا تھا۔
پہلی سیریز اور لکھنؤ کی فتح
16 اکتوبر 1952ء کو دہلی میں پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا اور فضل محمود اس ٹیم کا حصہ تھے۔ اپنی پہلی اننگز میں انہوں نے 40 اوورز میں 92 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔ پاکستان یہ میچ ہار گیا، مگر صرف ایک ہفتے بعد لکھنؤ میں حالات بدل گئے۔ 23 اکتوبر 1952ء سے شروع ہونے والے اس ٹیسٹ میں فضل نے بھارت کی دوسری اننگز میں 42 رنز کے عوض 7 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے کیریئر کی بہترین اننگز بولنگ ہے1۔ یہ پاکستان کی پہلی ٹیسٹ فتح تھی2۔
اوول 1954ء: ایک یادگار دن
1954ء میں پاکستان پہلی مرتبہ انگلینڈ کے دورے پر گیا۔ فضل اس ٹیم کے نائب کپتان تھے۔ سیریز کا آخری ٹیسٹ 12 اگست 1954ء کو اوول میں شروع ہوا، اور پاکستان اس وقت سیریز میں ایک میچ سے پیچھے تھا۔ فضل نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں 30 اوورز میں 53 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں۔ دوسری اننگز میں انگلینڈ کو جیت کے لیے ایک معمولی ہدف ملا اور وہ آسانی سے منزل کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا تھا، مگر فضل نے ایک بار پھر 30 اوورز کا طویل اسپیل کیا اور 46 رنز کے عوض 6 وکٹیں لے کر میزبان ٹیم کی بیٹنگ بکھیر دی۔ یوں میچ میں ان کی وکٹوں کی تعداد 12 ہو گئی1، پاکستان نے یہ ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کر دی، اور کوئی ٹیم انگلینڈ کے اپنے پہلے ہی دورے پر وہاں ٹیسٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی2۔
اس کارکردگی کے اعتراف میں وزڈن نے 1955ء میں انہیں سال کے بہترین کرکٹرز میں شامل کیا، اور وہ یہ اعزاز پانے والے پہلے پاکستانی بنے2۔
کراچی 1956ء اور ویسٹ انڈیز کا دورہ
اکتوبر 1956ء میں آسٹریلیا کی ٹیم ایک ٹیسٹ کھیلنے کراچی آئی، جو پاکستان اور آسٹریلیا کا پہلا ٹیسٹ تھا۔ 11 اکتوبر کو شروع ہونے والے اس میچ میں فضل نے پہلی اننگز میں 34 رنز دے کر 6 وکٹیں اور دوسری اننگز میں 80 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔ میچ میں 114 رنز کے عوض 13 وکٹیں ان کے کیریئر کی بہترین میچ بولنگ ہے1، اور پاکستان نے یہ ٹیسٹ بھی جیت لیا2۔
1958ء کے ویسٹ انڈیز دورے میں بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹوں پر فضل کو بہت زیادہ بولنگ کرنی پڑی۔ اسی دورے میں 5 فروری 1958ء کو پورٹ آف اسپین میں انہوں نے بیٹنگ کرتے ہوئے 60 رنز بنائے، جو ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے۔ مارچ 1958ء میں اسی میدان پر انہوں نے پہلی اننگز میں 83 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں1، اور اس دورے کے آخری ٹیسٹ میں پاکستان کو فتح ملی2۔
کپتانی اور آخری برس
عبدالحفیظ کاردار (Abdul Hafeez Kardar) کے بعد فضل محمود پاکستان کے کپتان بنے اور 1959ء سے 1961ء تک 10 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کی۔ کپتانی کے دوران بھی ان کی بولنگ کی دھار کم نہیں ہوئی: ان میچوں میں انہوں نے 41 وکٹیں 19.14 کی اوسط سے حاصل کیں۔ مارچ 1959ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈھاکہ ٹیسٹ میں انہوں نے پہلی اننگز میں 34 رنز دے کر 6 اور دوسری اننگز میں 66 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں1، اور پاکستان نے یہ میچ جیت کر سیریز اپنے نام کی2۔
ان کا آخری ٹیسٹ 16 اگست 1962ء کو اسی اوول میدان پر انگلینڈ کے خلاف تھا1 جہاں آٹھ سال پہلے انہوں نے تاریخ رقم کی تھی۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 34 |
| وکٹیں | 139 |
| بہترین بولنگ (اننگز) | 7/42 |
| بہترین بولنگ (میچ) | 13/114 |
| اوسط (بولنگ) | 24.7 |
| اکانومی | 2.09 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 13 |
| میچ میں دس وکٹیں | 4 |
| رنز | 620 |
| بہترین اسکور | 60 |
| اوسط (بیٹنگ) | 14.09 |
| بطور کپتان میچ | 10 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
فضل محمود نے صرف 34 ٹیسٹ کھیلے مگر ان میں 139 وکٹیں حاصل کیں، 13 مرتبہ اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں لیں اور 4 مرتبہ میچ میں دس یا زیادہ وکٹیں حاصل کیں1۔ یہ اعداد اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوزائیدہ پاکستانی ٹیم ان کی بولنگ کے سہارے بڑی ٹیموں کا مقابلہ کرتی رہی۔ انہوں نے بعد میں آنے والے پاکستانی فاسٹ بولروں کے لیے وہ راستہ کھولا جس پر سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بولر چلے۔
حکومتِ پاکستان نے 1958ء میں انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا، اور 2012ء میں انہیں بعد از مرگ ہلالِ امتیاز دیا گیا۔ ان کی خود نوشت "From Dusk to Dawn" کے نام سے 2003ء میں شائع ہوئی۔ فضل محمود 30 مئی 2005ء کو لاہور میں انتقال کر گئے2۔ اوول کی وہ دوپہر، جب ایک نئی ٹیم نے کرکٹ کے گھر میں میزبانوں کو ہرا دیا، آج بھی ان کے نام کے ساتھ یاد کی جاتی ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Fazal Mahmood, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40092.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40092.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40092.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- Wikipedia, "Fazal Mahmood", https://en.wikipedia.org/wiki/Fazal_Mahmood (for biographical details only)







