محمد حفیظ: بلے اور گیند کا اٹھارہ سالہ سفر
2003ء سے 2021ء تک پاکستان کی ٹیم میں ایک ایسا کھلاڑی آتا جاتا رہا جو اوپننگ بھی کرتا تھا، نئی گیند سے آف اسپن بھی کرتا تھا اور پوائنٹ پر عمدہ فیلڈنگ بھی۔ یہ محمد حفیظ (Mohammad Hafeez) تھے۔ ای…

2003ء سے 2021ء تک پاکستان کی ٹیم میں ایک ایسا کھلاڑی آتا جاتا رہا جو اوپننگ بھی کرتا تھا، نئی گیند سے آف اسپن بھی کرتا تھا اور پوائنٹ پر عمدہ فیلڈنگ بھی۔ یہ محمد حفیظ (Mohammad Hafeez) تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 2011ء میں انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں ایک ہی کیلنڈر سال میں ہزار سے زیادہ رنز اور تیس سے زیادہ وکٹیں لیں، اور سنتھ جے سوریا اور ژاک کیلس کے بعد ایسا کرنے والے تیسرے کھلاڑی بنے3۔ تینوں طرز کی کرکٹ میں انہوں نے 392 بین الاقوامی میچ کھیلے اور 12780 رنز بنائے1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
محمد حفیظ 17 اکتوبر 1980ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ کے بلے باز اور آف بریک بولر تھے، اور ڈومیسٹک کرکٹ میں سرگودھا، فیصل آباد اور سوئی ناردرن گیس کی نمائندگی کی2۔
ان کا پہلا ون ڈے 3 اپریل 2003ء کو شارجہ میں زمبابوے کے خلاف تھا، اور اگلے ہی دن سری لنکا کے خلاف انہوں نے 50 رنز بنائے۔ 20 اگست 2003ء کو کراچی میں بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 50 رنز بنانے کے بعد، پشاور میں اگلے ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں انہوں نے 102 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ نومبر 2006ء میں کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 104 رنز ان کی دوسری ٹیسٹ سنچری تھی1۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ابتدائی سات برسوں میں وہ مستقل جگہ نہ بنا سکے، کیونکہ اچھے آغاز کو بڑی اننگز میں نہیں بدل پاتے تھے؛ ان کی اننگز میں کور ڈرائیو کی خوبصورتی تو ہوتی، مگر بڑے اسکور کم آتے3۔
2011ء: سب کچھ بدل گیا
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق تبدیلی نومبر 2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز سے شروع ہوئی اور 2011ء میں انہوں نے ٹیسٹ میں دو اور ون ڈے میں تین سنچریاں بنائیں، اور اسی سال دس بار مین آف دی میچ قرار پائے۔ ستمبر 2011ء میں بولاوایو ٹیسٹ میں انہوں نے 119 رنز بنائے اور 31 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں، اور ہرارے میں زمبابوے کے خلاف 139 رنز ناٹ آؤٹ کی ون ڈے اننگز کھیلی1۔ اسی پروفائل کے مطابق توفیق عمر کے ساتھ ان کی اوپننگ جوڑی پاکستان کی سب سے مستحکم ٹیسٹ اوپننگ بنی، جس میں حفیظ کی جارحیت توفیق کے دفاعی انداز کا توازن تھی3۔
ان کی بڑی ٹیسٹ اننگز اس کے بعد آئیں: جون 2012ء میں کولمبو میں سری لنکا کے خلاف 196، نومبر 2014ء میں ابوظہبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک ہی ٹیسٹ میں 96 اور 101 ناٹ آؤٹ، اسی ماہ شارجہ میں 197، اور 28 اپریل 2015ء کو کھلنا میں بنگلہ دیش کے خلاف 224 رنز، جو ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے۔ نومبر 2015ء میں شارجہ میں انگلینڈ کے خلاف 151 رنز بھی ان کی یادگار اننگز ہے1۔
ون ڈے: سنچریاں اور چیمپئنز ٹرافی
مارچ 2012ء میں ڈھاکہ کے میرپور اسٹیڈیم میں بھارت کے خلاف انہوں نے 105 رنز بنائے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق دسمبر 2013ء میں سری لنکا کے خلاف انہوں نے چار میچوں میں تین سنچریاں بنائیں3: 18 دسمبر کو شارجہ میں 122، 22 دسمبر کو شارجہ میں 140 ناٹ آؤٹ، جو ان کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور ہے، اور 25 دسمبر کو ابوظہبی میں 113 ناٹ آؤٹ۔ 11 جولائی 2015ء کو دمبولا میں سری لنکا کے خلاف انہوں نے ایک ہی میچ میں 103 رنز بنائے اور 41 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں، جو ون ڈے میں ان کی بہترین بولنگ ہے1۔
18 جون 2017ء کو اوول میں بھارت کے خلاف چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں انہوں نے پانچویں نمبر پر صرف 37 گیندوں پر 57 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق شاید یہی ان کی سب سے مشہور اننگز ہے، جس نے پاکستان کو وہ مجموعہ دیا جس کے قریب بھارت نہ پہنچ سکا3۔ 3 جون 2019ء کو ناٹنگھم میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 62 گیندوں پر 84 رنز بنائے، اور 5 جولائی 2019ء کو لارڈز میں بنگلہ دیش کے خلاف ان کا آخری ون ڈے تھا1۔
ٹی ٹوئنٹی اور کپتانی
28 اگست 2006ء کو برسٹل میں انگلینڈ کے خلاف اپنے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں انہوں نے 46 رنز بنائے۔ 2007ء کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں وہ عمران نذیر کے ساتھ اوپننگ کرتے رہے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی میں کئی بار بولنگ کا آغاز بھی کرتے تھے3۔ 2012ء سے 2014ء تک انہوں نے 29 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی، جن میں دو ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ شامل تھے14۔
کیریئر کے آخری برسوں میں ٹی ٹوئنٹی میں ان کا بلا اور زیادہ چلا۔ ستمبر 2020ء میں مانچسٹر میں انگلینڈ کے خلاف 52 گیندوں پر 86 رنز ناٹ آؤٹ، اور 20 دسمبر 2020ء کو ہیملٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف 57 گیندوں پر 99 رنز ناٹ آؤٹ ان کا سب سے بڑا ٹی ٹوئنٹی اسکور ہے۔ ان کا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل 11 نومبر 2021ء کو دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | ٹی ٹوئنٹی | |
|---|---|---|---|
| میچ | 55 | 218 | 119 |
| رنز | 3652 | 6614 | 2514 |
| بہترین اسکور | 224 | 140 ناٹ آؤٹ | 99 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 37.64 | 32.9 | 26.46 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 10 / 12 | 11 / 38 | 0 / 14 |
| اسٹرائیک ریٹ | 56.01 | 76.61 | 122.03 |
| وکٹیں | 53 | 139 | 61 |
| بہترین بولنگ | 4/16 | 4/41 | 4/10 |
| اوسط (بولنگ) | 34.11 | 38.84 | 22.75 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 | 0 | 0 |
| بطور کپتان میچ | 1 | 2 | 29 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
ون ڈے میں پاکستان کے جیتے ہوئے 107 میچوں میں حفیظ نے 40.9 کی اوسط سے 3804 رنز بنائے، جن میں 8 سنچریاں شامل ہیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ ٹیم کو بہت سے راستے دیتے تھے: ضرورت ہو تو جارحانہ، ضرورت ہو تو دفاعی بیٹنگ، اور لائن و لینتھ پر ایسا قابو کہ کپتان انہیں اننگز کے کسی بھی مرحلے پر بولنگ دے سکتا تھا3۔
2023ء کے ون ڈے عالمی کپ کے بعد انہیں پاکستان ٹیم کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوروں میں وہ ہیڈ کوچ بھی رہے5۔ آف سائیڈ پر بلے کے پورے چہرے سے لگائی گئی ان کی ڈرائیوز اور 2017ء کے فائنل کی وہ تیز اننگز، محمد حفیظ کو پاکستانی شائقین کی یادوں میں زندہ رکھتی ہیں۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Mohammad Hafeez, Test, ODI and T20I batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=2;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=2;template=results;type=bowling;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=3;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=3;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=3;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41434.html?class=3;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Mohammad Hafeez (archived copy; profile essay by S Rajesh): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/41434.html
- ESPNcricinfo player profile, Mohammad Hafeez (archived 2024 copy; profile essay by S Rajesh and Danyal Rasool): https://web.archive.org/web/20241227152243/https://www.espncricinfo.com/cricketers/mohammad-hafeez-41434
- Hassan Cheema, "The ideal T20 team today looks like Pakistan's 2007 and 2009 World Cup sides", ESPNcricinfo (archived copy): https://web.archive.org/web/20241213151149/https://www.espncricinfo.com/story/t20-world-cup-2022-the-ideal-t20-team-today-looks-like-pakistans-2007-and-2009-world-cup-sides-1342734
- ESPNcricinfo, "Umar Gul and Saeed Ajmal appointed as Pakistan bowling coaches" (archived copy): https://web.archive.org/web/20240926150458/https://www.espncricinfo.com/story/umar-gul-and-saeed-ajmal-appointed-as-pakistan-bowling-coaches-1409934



