محمد یوسف: رنز کا سنہرا سال
پاکستان نے دنیا کو کئی بڑے بیٹسمین دیے ہیں، لیکن ایک کیلنڈر سال میں جس تسلسل سے محمد یوسف (Mohammad Yousuf) نے رنز بنائے، اس کی مثال کم ملتی ہے۔ 2006ء میں انہوں نے گیارہ ٹیسٹ میچوں میں 1788 رنز…

پاکستان نے دنیا کو کئی بڑے بیٹسمین دیے ہیں، لیکن ایک کیلنڈر سال میں جس تسلسل سے محمد یوسف (Mohammad Yousuf) نے رنز بنائے، اس کی مثال کم ملتی ہے۔ 2006ء میں انہوں نے گیارہ ٹیسٹ میچوں میں 1788 رنز بنائے اور نو سنچریاں اسکور کیں۔ یہ ایک سال کا قصہ نہیں تھا؛ بارہ برس کے بین الاقوامی کیریئر میں انہوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں میں ملا کر سترہ ہزار سے زیادہ رنز بنائے اور ٹیسٹ کرکٹ میں 52.29 کی اوسط کے ساتھ رخصت ہوئے1۔ نفیس تکنیک، متوازن قدموں اور پُرسکون مزاج کے ساتھ وہ اپنی نسل کے سب سے قابلِ اعتماد مڈل آرڈر بیٹسمینوں میں شمار ہوتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
محمد یوسف 27 اگست 1974ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے لاہور کی گلیوں اور مقامی میدانوں میں کرکٹ سیکھی اور ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے بعد قومی ٹیم تک پہنچے2۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر 26 فروری 1998ء کو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں شروع ہوا، جہاں پہلی اننگز میں وہ صرف پانچ رنز بنا سکے۔ ایک ماہ بعد، 28 مارچ 1998ء کو ہرارے میں زمبابوے کے خلاف اپنے پہلے ہی ون ڈے میں انہوں نے 59 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر بتا دیا کہ وہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں۔ اسی سال دسمبر میں لاہور میں زمبابوے کے خلاف 120 ناٹ آؤٹ ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی1۔
ٹیسٹ کرکٹ میں عروج
2000ء کے دورۂ ویسٹ انڈیز میں انہوں نے برج ٹاؤن میں 115 اور سینٹ جانز میں 103 ناٹ آؤٹ رنز بنائے۔ مارچ 2001ء میں کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 429 گیندوں پر 203 رنز ان کی پہلی ڈبل سنچری تھی، اور اگلے سال جنوری میں چٹاگانگ میں بنگلہ دیش کے خلاف 204 ناٹ آؤٹ کی اننگز آئی۔ 26 دسمبر 2004ء کو میلبرن کے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف ان کے 111 رنز مشکل حالات میں ایک یادگار اننگز تھی12۔
نومبر 2005ء میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 373 گیندوں پر 223 رنز بنائے، جو ان کے ٹیسٹ کیریئر کا سب سے بڑا اسکور ہے1۔ مگر اصل کہانی ابھی شروع ہونی تھی۔
2006ء: ایک سنہرا سال
2006ء کا آغاز بھارت کے خلاف گھریلو سیریز سے ہوا۔ جنوری میں لاہور میں 173 اور فیصل آباد میں 126 رنز بنا کر یوسف نے سال کا رخ متعین کر دیا۔ گرمیوں میں انگلستان کا دورہ ہوا تو لارڈز میں 202، لیڈز میں 192 اور اوول میں 128 رنز کی اننگز آئیں1۔ انگلش کنڈیشنز میں، جہاں ایشیائی بیٹسمینوں کو عموماً مشکل پیش آتی ہے، اس طرح کی مستقل مزاجی نے سب کو حیران کر دیا۔
سال کے آخر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان آئی اور یوسف کا بیٹ پہلے سے بھی زیادہ چلا۔ لاہور میں 192، ملتان میں 191، اور پھر کراچی ٹیسٹ میں دونوں اننگز میں سنچریاں: پہلی اننگز میں 102 اور دوسری میں 1241۔
اسٹیٹس گرو کی اننگز وار فہرست کے مطابق 2006ء میں انہوں نے گیارہ ٹیسٹ میچوں کی 19 اننگز میں 1788 رنز بنائے، صرف ایک بار ناٹ آؤٹ رہے، اوسط 99.33 رہی اور سنچریوں کی تعداد نو تھی1۔ اس شاندار سال کے اعتراف میں وزڈن نے انہیں سال کے بہترین کرکٹرز میں شامل کیا اور آئی سی سی نے انہیں 2007ء کا ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر قرار دیا2۔
بعد کے برسوں میں بھی وہ ٹیم کا ستون رہے۔ جولائی 2009ء میں گال میں سری لنکا کے خلاف 112 رنز ان کی 24ویں اور آخری ٹیسٹ سنچری ثابت ہوئی۔ انہوں نے نو ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی بھی کی۔ ان کا آخری ٹیسٹ 26 اگست 2010ء کو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف تھا1۔
ون ڈے کرکٹ
ٹیسٹ کی طرح ون ڈے کرکٹ میں بھی یوسف پاکستان کے مڈل آرڈر کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ 288 میچوں میں انہوں نے 9720 رنز بنائے، اوسط 41.71 رہی اور پندرہ سنچریاں اسکور کیں۔ 1999ء کے عالمی کپ میں فائنل تک پہنچنے والی پاکستانی ٹیم کا وہ حصہ تھے2۔ ان کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور نومبر 2002ء میں بلاوایو میں زمبابوے کے خلاف 147 گیندوں پر 141 ناٹ آؤٹ ہے۔ 2002ء ان کے لیے ون ڈے میں خاص سال تھا، جس میں شارجہ میں سری لنکا کے خلاف 129 اور کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف 125 رنز کی اننگز بھی شامل ہیں1۔
انہوں نے تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بھی کھیلے، جن میں پہلا 28 اگست 2006ء کو برسٹل میں انگلینڈ کے خلاف تھا۔ ان کا آخری ون ڈے 8 نومبر 2010ء کو دبئی میں جنوبی افریقہ کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | ٹی ٹوئنٹی | |
|---|---|---|---|
| میچ | 90 | 288 | 3 |
| رنز | 7530 | 9720 | 50 |
| بہترین اسکور | 223 | 141 ناٹ آؤٹ | 26 |
| اوسط (بیٹنگ) | 52.29 | 41.71 | 16.66 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 24 / 33 | 15 / 64 | 0 / 0 |
| اسٹرائیک ریٹ | 52.39 | 75.1 | 116.27 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
محمد یوسف کی بیٹنگ کی پہچان اس کی خوبصورتی اور سادگی تھی۔ وہ طاقت کے بجائے ٹائمنگ پر بھروسا کرتے تھے، گیند کو دیر سے کھیلتے اور فیلڈ کے خالی حصوں میں رنز نکالنے کا ہنر رکھتے تھے۔ وکٹوں کے درمیان تیز دوڑ ان کے کھیل کا ایک اور اہم پہلو تھی2۔
ٹیسٹ کرکٹ میں 52 سے زیادہ کی اوسط انہیں پاکستان کے کامیاب ترین بیٹسمینوں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔ نوے کی دہائی کے آخر سے دو ہزار دس تک، جب پاکستان کی بیٹنگ کئی تبدیلیوں سے گزری، یوسف وہ نام تھا جس پر کپتان اور شائقین دونوں بھروسا کرتے تھے۔ اور 2006ء کا سال، جس میں ان کا بیٹ جیسے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے سنہرے ابواب میں ہمیشہ شامل رہے گا۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Mohammad Yousuf, Test, ODI and T20I batting career summaries and Test innings list: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43650.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43650.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43650.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43650.html?class=3;template=results;type=batting
- Wikipedia, "Mohammad Yousuf (cricketer)", https://en.wikipedia.org/wiki/Mohammad_Yousuf_(cricketer) (for biographical details only)







