حکمران اور سلاطین
50 تحریریں
دنیا اور اس خطے کے وہ فرماں روا جن کے فیصلوں نے تاریخ کا رخ بدلا، سکندر سے خوانینِ قلات تک۔
ابو جعفر المنصور: بغداد کا گول شہر بسانے والا عباسی خلیفہ
احمد بن طولون: مصر کا منتظم اور قاہرہ کی سرخ اینٹوں والی مسجد کا معمار
اسماعیل سامانی: بخارا کو دارالحکومت بنانے والا امیر
اشوک اعظم: کلنگا کی جنگ کے بعد پتھروں پر لکھے فرمان
الظاہر بیبرس: عین جالوت کا سپہ سالار اور مملوک سلطنت کا معمار
الپ ارسلان: سلجوق سلطنت کو یکجا کرنے والا سلطان
امیر تیمور: سمرقند کی عمارتیں اور تیموری دور کی ابتدا
اورخان: برصہ کو دارالحکومت بنانے والا عثمانی حکمران
اورنگزیب عالمگیر: نصف صدی کی حکمرانی اور مغلیہ سلطنت کی سب سے بڑی وسعت
جلال الدین محمد اکبر: تیرہ برس کا بادشاہ جس نے مغلیہ سلطنت کو مضبوط بنیادیں دیں
جلال الدین منکبرنی: دریائے سندھ میں چھلانگ لگانے والا سلطان
رضیہ سلطانہ: دہلی کے تخت پر بیٹھنے والی واحد خاتون سلطان
سلطان زین العابدین (بڈشاہ): کشمیر کے پُل، نہریں اور دستکاریاں
سلطان سنجر: مرو کا سلجوق سلطان اور اس کا گنبد
سلطان محمد فاتح: قسطنطنیہ کی فتح اور عثمانی سلطنت کی نئی بنیاد
سلیمان اعظم: قانونی کہلانے والا عثمانی سلطان
سکندر اعظم: مقدونیہ سے جہلم اور مکران کے صحرا تک
شاہ جہاں: وہ بادشاہ جس کا دور مغل فنِ تعمیر کا سنہری زمانہ کہلایا
شاہ دینیس: پرتگال کا کسان بادشاہ اور پہلی یونیورسٹی کا بانی
شمس الدین التتمش: دہلی کو دارالحکومت بنانے والا سلطان
شہاب الدین محمد غوری: غور کے پہاڑوں سے دہلی تک
شیر شاہ سوری: پانچ برس کی حکومت، صدیوں کا اثر
صلاح الدین ایوبی: حطین کا فاتح اور ایوبی سلطنت کا بانی
طغرل بیگ: سلجوق سلطنت کا بانی
ظہیر الدین محمد بابر: فرغانہ کا شہزادہ جس نے ہندوستان میں نئی سلطنت کی بنیاد رکھی
عبدالرحمٰن الداخل: قرطبہ کی جامع مسجد کی بنیاد رکھنے والا امیر
عبدالرحمٰن الناصر: قرطبہ کی خلافت اور مدینۃ الزہرا کا بانی
عبدالملک بن مروان: عربی دفاتر، نئے سکے اور آٹھ پہلو والی گنبد دار عمارت
علاء الدین خلجی: منڈیوں پر کنٹرول اور زمین کی پیمائش
عمر بن عبدالعزیز: ڈھائی برس کی خلافت جو صدیوں یاد رہی
غیاث الدین بلبن: نائبِ سلطنت سے سلطان تک
فیروز شاہ تغلق: نہریں، نئے شہر اور اشوک کی لاٹیں
قابوس بن وشمگیر: گرگان کا ادیب حکمران اور اس کا اینٹوں کا مینار
قطب الدین ایبک: غلام سے سلطان تک اور قطب مینار کا آغاز
محمد بن تغلق: نئے دارالحکومت اور نئی کرنسی کے تجربات
محمد پنجم: غرناطہ کا سلطان جس نے الحمرا کا شیروں والا محل بنوایا
محمود غزنوی: غزنی سے پنجاب تک پھیلی سلطنت
ملک شاہ اول: اصفہان، عمر خیام اور جلالی کیلنڈر کا دور
منسا موسیٰ: مالی کا بادشاہ جس کے سونے کی شہرت یورپ تک پہنچی
مہاراجہ رنجیت سنگھ: گوجرانوالہ کا سردار جس نے لاہور کو دارالحکومت بنایا
میر نصیر خان نوری: قلات کی ریاست کا منتظم اور سپہ سالار
نپولین بوناپارٹ: انقلاب کا جرنیل، فرانس کا شہنشاہ، سینٹ ہیلینا کا قیدی
ولید بن عبدالملک: دمشق کی جامع مسجد اور عنجر کا شہر بسانے والا خلیفہ
ٹیپو سلطان: میسور کا حکمران جس نے راکٹ کو جنگ کا ہتھیار بنایا
چارلس چہارم: پراگ کو سنوارنے والا بادشاہ اور وسطی یورپ کی پہلی یونیورسٹی
چنگیز خان: منگول قبائل کا سردار جس نے دنیا کی سب سے بڑی زمینی سلطنت کی بنیاد رکھی
کورش اعظم: ہخامنشی سلطنت کا بانی
ہارون الرشید: تاریخ کا خلیفہ اور داستانوں کا بادشاہ
ہشام بن عبدالملک: رصافہ کا خلیفہ، صحرائی محل اور منظم خزانہ
یوسف بن تاشفین: مراکش شہر کا بانی