مصباح الحق: ٹھہراؤ اور قیادت کی مثال
مصباح الحق (Misbah-ul-Haq) کی کہانی دیر سے کھلنے والے پھول کی کہانی ہے۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں قدم 2001ء میں رکھا، مگر ٹیم میں جگہ پکی کرنے میں کئی برس لگے، اور جب وہ تیس کے پیٹے کے آخر…

مصباح الحق (Misbah-ul-Haq) کی کہانی دیر سے کھلنے والے پھول کی کہانی ہے۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں قدم 2001ء میں رکھا، مگر ٹیم میں جگہ پکی کرنے میں کئی برس لگے، اور جب وہ تیس کے پیٹے کے آخر میں پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بنے تو خبر رساں ادارے روئٹرز نے ان کی تقرری کو بورڈ کا ایک عارضی انتظام قرار دیا3۔ مگر یہی کپتان سات برس تک ٹیم کی قیادت کرتا رہا۔ بطور کپتان انہوں نے 56 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 51.39 کی اوسط سے 4,214 رنز بنائے1۔ ان کا پرسکون مزاج، بیٹنگ میں ٹھہراؤ اور مشکل حالات میں ٹیم کو جوڑے رکھنے کی صلاحیت انہیں پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ایک الگ مقام دیتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
مصباح الحق 28 مئی 1974ء کو پنجاب کے شہر میانوالی میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ سرگودھا، فیصل آباد اور سوئی ناردرن گیس کی ٹیموں سے کھیلے2۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر 8 مارچ 2001ء کو آکلینڈ میں نیوزی لینڈ کے خلاف شروع ہوا، جہاں پہلی اننگز میں انہوں نے 28 رنز بنائے۔ پہلا ون ڈے میچ انہوں نے 27 اپریل 2002ء کو لاہور میں نیوزی لینڈ ہی کے خلاف کھیلا1۔ ابتدائی برسوں میں وہ ٹیم کے اندر باہر ہوتے رہے اور مستقل جگہ نہ بنا سکے۔
نئی شروعات: 2007ء
مصباح کے کیریئر کا اصل موڑ 2007ء میں جنوبی افریقہ میں ہونے والا پہلا آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں ڈربن میں بھارت کے خلاف 53 اور جوہانسبرگ میں آسٹریلیا کے خلاف 66 ناٹ آؤٹ رنز کی اننگز نے انہیں نمایاں کر دیا1۔ پاکستان اس ٹورنامنٹ کے فائنل تک پہنچا اور رنر اپ رہا۔ دو برس بعد 2009ء میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں بھی وہ شامل تھے2۔
اسی برس کے آخر میں بھارت کے دورے پر انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی خود کو منوایا۔ 30 نومبر 2007ء کو کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں 161 ناٹ آؤٹ اور پھر 8 دسمبر کو بنگلور میں 133 ناٹ آؤٹ رنز بنا کر انہوں نے پہلی دو ٹیسٹ سنچریاں اسکور کیں۔ 161 ناٹ آؤٹ ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے1۔
کپتانی کا دور
2010ء میں مصباح الحق پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنے، اور یہ ذمہ داری 2017ء تک ان کے پاس رہی۔ اس دوران پاکستان نے اپنی زیادہ تر ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلیں، اور مصباح نے ابوظہبی، دبئی اور شارجہ کو ٹیم کا دوسرا گھر بنا دیا۔ ان کی دس ٹیسٹ سنچریوں میں سے آٹھ کپتانی کے دور میں بنیں1۔
ابوظہبی میں 31 دسمبر 2013ء کو سری لنکا کے خلاف 135 رنز کی اننگز ان کے کپتانی کے دور کا سب سے بڑا اسکور ہے۔ مگر سب سے زیادہ یاد کیا جانے والا میچ 30 اکتوبر 2014ء کو ابوظہبی میں آسٹریلیا کے خلاف شروع ہونے والا ٹیسٹ ہے۔ پہلی اننگز میں انہوں نے 168 گیندوں پر 101 رنز بنائے، اور دوسری اننگز میں تیز رفتاری سے کھیلتے ہوئے 101 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے؛ یوں ایک ہی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں ان کی سنچریاں بنیں۔ اس کے صرف دس دن بعد 9 نومبر 2014ء کو ابوظہبی ہی میں نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے 102 ناٹ آؤٹ رنز بنائے1۔
جولائی 2016ء میں لارڈز کے تاریخی میدان پر انگلینڈ کے خلاف 199 گیندوں پر 114 رنز ان کی آخری ٹیسٹ سنچری ثابت ہوئی۔ ان کا آخری ٹیسٹ 10 مئی 2017ء کو ڈومینیکا کے شہر روزو میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہوا، اسی میچ میں یونس خان نے بھی اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا1۔
ون ڈے کرکٹ میں بھی وہ 2008ء سے 2015ء تک 87 میچوں میں کپتان رہے اور اس دوران 44.82 کی اوسط سے 3,003 رنز بنائے۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے 2012ء کا ایشیا کپ جیتا، اور 2015ء کے عالمی کپ میں بھی ٹیم کی قیادت انہی کے پاس تھی2۔ ان کا آخری ون ڈے 20 مارچ 2015ء کو ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | ٹی ٹوئنٹی | |
|---|---|---|---|
| میچ | 75 | 162 | 39 |
| رنز | 5222 | 5122 | 788 |
| بہترین اسکور | 161 ناٹ آؤٹ | 96 ناٹ آؤٹ | 87 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 46.62 | 43.4 | 37.52 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 10 / 39 | 0 / 42 | 0 / 3 |
| اسٹرائیک ریٹ | 44.53 | 73.75 | 110.2 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
مصباح الحق کی سب سے بڑی پہچان ان کا ٹھہراؤ تھا۔ ون ڈے کرکٹ میں انہوں نے 42 نصف سنچریاں بنائیں مگر کوئی سنچری نہ بنا سکے؛ ان کا سب سے بڑا اسکور 96 ناٹ آؤٹ رہا۔ یہ اعداد ان کے انداز کی عکاسی کرتے ہیں: وہ اکثر اس وقت وکٹ پر آتے جب ٹیم مشکل میں ہوتی، اور ان کا پہلا مقصد اننگز کو سنبھالنا ہوتا تھا۔ اسی محتاط انداز پر ناقدین نے انہیں سست رفتار رکشے کی نسبت سے "ٹُک ٹُک" کا لقب بھی دیا4، مگر ضرورت پڑنے پر وہ بڑے شاٹ کھیلنا بھی جانتے تھے؛ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کے 81 چھکے اس کا ثبوت ہیں1۔
کپتان کے طور پر ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسی ٹیم کو، جو برسوں اپنے ملک سے باہر ہوم سیریز کھیلنے پر مجبور رہی، نظم و ضبط اور اعتماد دیا۔ وہ میدان میں کم بولتے، مگر ان کا پرسکون رویہ پورے ڈریسنگ روم میں سکون پھیلا دیتا تھا۔ یونس خان کے ساتھ مل کر انہوں نے کئی برس پاکستانی مڈل آرڈر کو تھامے رکھا، اور دونوں کا ایک ہی میچ میں رخصت ہونا ایک عہد کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ مصباح الحق کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ کھیل میں دیر سے ملنے والا موقع بھی بڑی کامیابی میں بدل سکتا ہے، اگر کھلاڑی صبر کا دامن نہ چھوڑے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Misbah-ul-Haq, Test, ODI and T20I batting career summaries (including as-captain rows) and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41378.html?class=1;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41378.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41378.html?class=2;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41378.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41378.html?class=3;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41378.html?class=3;template=results;type=batting;view=innings
- Wikipedia, "Misbah-ul-Haq", https://en.wikipedia.org/wiki/Misbah-ul-Haq (for biographical details only)
- Reuters, "Misbah Pakistan captain for SAfrica tests" (8 October 2010), as carried by Daily FT, 9 October 2010: https://www.ft.lk/Sports/misbah-pakistan-captain-for-safrica-tests/23-3045
- Dawn (AFP), "I am not the devil: Misbah" (24 March 2015): https://www.dawn.com/news/1171597







