لین ہٹن: اوول کے 364 رنز اور انگلینڈ کے پہلے پیشہ ور کپتان
اگست 1938ء میں لندن کے اوول گراؤنڈ پر ایک 22 سالہ نوجوان نے تیرہ گھنٹے سے زیادہ بیٹنگ کی اور ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور اپنے نام کر لیا۔ یہ یارکشائر کے لین ہٹن (Len Hutton) تھے۔…

اگست 1938ء میں لندن کے اوول گراؤنڈ پر ایک 22 سالہ نوجوان نے تیرہ گھنٹے سے زیادہ بیٹنگ کی اور ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور اپنے نام کر لیا۔ یہ یارکشائر کے لین ہٹن (Len Hutton) تھے۔ انہوں نے 79 ٹیسٹ میچوں میں 56.67 کی اوسط سے 6971 رنز اور 19 سنچریاں بنائیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق انہیں دوسری عالمی جنگ کے بعد انگلینڈ کا سب سے عمدہ اور تکنیکی طور پر سب سے درست بلے باز مانا جاتا ہے، اور وہ انگلینڈ کے پہلے پیشہ ور کپتان بھی تھے2۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
لیونارڈ ہٹن 23 جون 1916ء کو یارکشائر میں پڈسی کے قریب فلنیک میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانا کرکٹ کا شوقین تھا؛ 12 برس کی عمر میں وہ پڈسی سینٹ لارنس کلب میں شامل ہوئے، جہاں سے ہربرٹ سٹکلف (Herbert Sutcliffe) جیسے کھلاڑی نکلے تھے۔ وزڈن کے مطابق یارکشائر کے مشہور کھلاڑی جارج ہرسٹ (George Hirst) نے انہیں دیکھ کر کہا تھا کہ انہیں سکھانے کو کچھ باقی نہیں2۔
انگلستان میں ڈومیسٹک کرکٹ "کاؤنٹی" ٹیموں کے درمیان کھیلی جاتی ہے، یعنی مختلف علاقوں کی نمائندہ ٹیمیں۔ 1934ء میں صرف 17 برس کی عمر میں انہوں نے یارکشائر کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کی اور ورسیسٹر شائر کے خلاف 196 رنز بنا کر سب کی توجہ حاصل کر لی۔ 1937ء میں انہوں نے سیزن میں 2888 رنز بنائے2۔
ٹیسٹ کیریئر کا آغاز مایوس کن تھا: 26 جون 1937ء کو لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے صفر اور 1 رن بنایا۔ مگر اگلے ہی ٹیسٹ میں، جولائی 1937ء میں مانچسٹر میں، انہوں نے 100 رنز بنا ڈالے1۔
اوول 1938ء: 364 رنز
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی ٹیسٹ سیریز "ایشز" (Ashes) کہلاتی ہے۔ 20 اگست 1938ء کو اوول میں اس سیریز کا آخری ٹیسٹ شروع ہوا۔ اوپنر ہٹن نے 797 منٹ کریز پر گزارے، 847 گیندوں کا سامنا کیا اور 35 چوکوں کی مدد سے 364 رنز بنائے1۔ یہ ان کا صرف چھٹا ٹیسٹ تھا، اور انہوں نے اپنے ہی کپتان والی ہیمنڈ (Wally Hammond) کا ریکارڈ توڑا۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 14 برس کی عمر میں ہٹن نے لیڈز میں بریڈمین کو 334 رنز بناتے دیکھا تھا، اور اب وہ اس سے آگے نکل گئے۔ اس اننگز میں موریس لیلینڈ (Maurice Leyland) کے ساتھ ان کی 382 رنز کی شراکت انگلینڈ کے لیے کسی بھی وکٹ کی ریکارڈ شراکت بنی، اور انگلینڈ نے یہ میچ ایک اننگز اور 579 رنز سے جیتا2۔ آئی سی سی کے مطابق ان کا یہ اسکور تقریباً بیس برس تک ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور رہا3۔
1939ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف انہوں نے لارڈز میں 196 اور اوول میں 165 رنز ناٹ آؤٹ بنائے1۔ پھر جنگ نے کھیل روک دیا۔ وزڈن کے مطابق 1941ء میں کمانڈو تربیت کے دوران جمنازیم میں ان کا بایاں بازو بری طرح ٹوٹ گیا، تین بار ہڈی کی پیوندکاری کرنی پڑی اور بازو دوسرے سے چھوٹا رہ گیا2۔ اس کے باوجود انہوں نے محنت سے اپنی بیٹنگ بحال کی۔
جنگ کے بعد: انگلینڈ کی بیٹنگ کا ستون
1949ء میں انہوں نے سیزن میں 3429 رنز بنائے، اور صرف جون کے مہینے میں 1294 رنز بنا کر ایک ماہ کا ریکارڈ قائم کیا۔ 1948ء-49ء کے دورۂ جنوبی افریقہ میں جوہانسبرگ کے ایلس پارک میں سرل واش بروک (Cyril Washbrook) کے ساتھ 359 رنز کی شراکت اس وقت ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی وکٹ کا ریکارڈ تھی2۔ اسی دورے میں جوہانسبرگ ہی میں انہوں نے 158 اور 123 رنز کی اننگز بھی کھیلیں1۔
انہوں نے دو بار پوری اننگز میں آؤٹ ہوئے بغیر بیٹنگ کی، یعنی اوپنر کے طور پر آ کر آخر تک ناٹ آؤٹ رہے: اگست 1950ء میں اوول میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 202 رنز ناٹ آؤٹ اور فروری 1951ء میں ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف 156 رنز ناٹ آؤٹ1۔ وزڈن کے مطابق 1950ء-51ء کی سیریز میں ان کی اوسط 88.83 رہی۔ 1951ء میں اوول میں جنوبی افریقہ کے خلاف وہ ٹیسٹ کرکٹ کے پہلے کھلاڑی بنے جنہیں "فیلڈ میں رکاوٹ ڈالنے" (obstructing the field) پر آؤٹ دیا گیا2۔
کپتانی: ایشز کی واپسی
1952ء میں بھارت کے خلاف سیریز میں ہٹن انگلینڈ کے پہلے پیشہ ور کپتان بنے۔ اس سیریز میں انہوں نے لارڈز میں 150 اور مانچسٹر میں 104 رنز بنائے۔ 1953ء میں ان کی کپتانی میں انگلینڈ نے آسٹریلیا سے ایشز واپس جیتی؛ لارڈز میں ان کے 145 رنز کو وزڈن نے بیٹنگ کے فن کا تقریباً کامل مظاہرہ قرار دیا12۔
1953ء-54ء میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر انگلینڈ پہلے دو ٹیسٹ ہار گیا، مگر ہٹن نے جارج ٹاؤن میں 169 اور کنگسٹن میں 205 رنز بنا کر سیریز 2-2 سے برابر کرا دی۔ 1954ء میں انہوں نے پاکستان کے خلاف بھی دو ٹیسٹ کھیلے۔ 1954ء-55ء میں آسٹریلیا میں انگلینڈ نے ایشز اپنے پاس رکھی، اور ایڈیلیڈ میں ان کے 80 رنز فیصلہ کن فتح کی بنیاد بنے۔ مجموعی طور پر انہوں نے 23 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی قیادت کی، جن میں 11 جیتے، 8 برابر رہے اور صرف 4 ہارے2۔ ان کا آخری ٹیسٹ 25 مارچ 1955ء کو آکلینڈ میں شروع ہوا، جس میں انہوں نے 53 رنز بنائے1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 79 |
| رنز | 6971 |
| بہترین اسکور | 364 |
| اوسط (بیٹنگ) | 56.67 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 19 / 33 |
| وکٹیں | 3 |
| بہترین بولنگ | 1/2 |
| اوسط (بولنگ) | 77.33 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 |
| بطور کپتان میچ | 23 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
1955ء میں مسلسل خراب صحت کے باعث ہٹن نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کی کپتانی کی پیشکش قبول نہ کی اور 1956ء کے آغاز میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، اور اسی برس جون میں انہیں کرکٹ کے لیے خدمات پر "سر" کا خطاب ملا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں انہوں نے 55.51 کی اوسط سے 40,140 رنز اور 129 سنچریاں بنائیں۔ بعد میں وہ 1975ء اور 1976ء میں انگلینڈ کے سلیکٹر رہے اور یارکشائر کے صدر بھی بنے2۔
6 ستمبر 1990ء کو کنگسٹن اپان ٹیمز کے ایک ہسپتال میں ان کا انتقال ہوا۔ وزڈن کے تعزیتی مضمون کے مطابق وہ جیک ہابز کے ساتھ انگلینڈ کے دو سب سے کامل پیشہ ور بلے بازوں میں سے ایک تھے2۔ 2009ء میں آئی سی سی نے انہیں کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا3۔ اوول کے 364 رنز سے لے کر آسٹریلیا میں ایشز کی حفاظت تک، لین ہٹن کا کیریئر صبر، تکنیک اور قیادت کی ایک مکمل داستان ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Len Hutton, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/14334.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/14334.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/14334.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/14334.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Len Hutton (archived copy; Wisden Cricketers' Almanack obituary, timeline and best performances): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/14334.html
- ICC Cricket Hall of Fame, Len Hutton (archived copy, Feb 2025): https://web.archive.org/web/20250212163543/https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame/hall-of-famers/hall-of-famer-len-hutton



