مشتاق محمد: بلے اور گیند کا دھنی کپتان
پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں محمد خاندان کا ذکر ایک ایسے گھرانے کے طور پر ہوتا ہے جس نے ملک کو ایک نہیں، چار ٹیسٹ کرکٹر دیے۔ ان چار بھائیوں میں مشتاق محمد (Mushtaq Mohammad) وہ تھے جو بلے اور…

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں محمد خاندان کا ذکر ایک ایسے گھرانے کے طور پر ہوتا ہے جس نے ملک کو ایک نہیں، چار ٹیسٹ کرکٹر دیے۔ ان چار بھائیوں میں مشتاق محمد (Mushtaq Mohammad) وہ تھے جو بلے اور گیند دونوں سے میچ کا رخ بدل سکتے تھے۔ دائیں ہاتھ کے دلیر بلے باز اور کلائی سے گیند گھمانے والے لیگ اسپنر، انہوں نے 57 ٹیسٹ میچوں میں 3,643 رنز بنائے اور 79 وکٹیں لیں۔ بعد میں انہوں نے 19 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی بھی کی1۔ وہ پاکستان کے ابتدائی دور کے سب سے کامیاب آل راؤنڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
مشتاق محمد جوناگڑھ میں پیدا ہوئے اور بچپن کراچی میں گزارا۔ ان کے بڑے بھائی وزیر محمد (Wazir Mohammad) اور حنیف محمد (Hanif Mohammad) پہلے ہی پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے تھے، جبکہ چھوٹے بھائی صادق محمد (Sadiq Mohammad) بعد میں ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے۔ ایک اور بھائی رئیس محمد بھی کرکٹ سے وابستہ رہے، اور حنیف محمد کے بیٹے شعیب محمد نے بھی پاکستان کی نمائندگی کی2۔ ایسے گھرانے میں کرکٹ ان کے لیے کھیل سے زیادہ روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔
انہوں نے 26 مارچ 1959ء کو لاہور میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا، جب وہ ابھی نوعمر ہی تھے، اور پہلی اننگز میں 14 رنز بنائے۔ ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری فروری 1961ء میں دہلی میں بھارت کے خلاف آئی، جب انہوں نے 101 رنز بنائے۔ جولائی 1962ء میں ناٹنگھم میں انگلینڈ کے خلاف 100 ناٹ آؤٹ رنز نے ان کی صلاحیت پر مہر ثبت کی1۔
انگلش کاؤنٹی اور پختگی کا دور
1966ء سے 1977ء تک مشتاق محمد انگلینڈ کی کاؤنٹی نارتھمپٹن شائر (Northamptonshire) سے کھیلے۔ کاؤنٹی کرکٹ کی مسلسل مشق نے ان کے کھیل کو پختہ کیا۔ 1975ء سے 1977ء تک وہ اس کاؤنٹی کے کپتان رہے، اور 1976ء میں ان کی قیادت میں نارتھمپٹن شائر نے جیلیٹ کپ جیت کر اپنی تاریخ کا پہلا بڑا اعزاز حاصل کیا2۔
ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا بہترین دور 1970ء کی دہائی کے اوائل میں آیا۔ جون 1971ء میں برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف 100 رنز کے بعد، جنوری 1973ء میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے 276 گیندوں پر 121 رنز بنائے۔ اسی دورے کے بعد نیوزی لینڈ میں 7 فروری 1973ء کو شروع ہونے والا ڈنیڈن ٹیسٹ ان کے کیریئر کا سب سے یادگار میچ بنا۔ اس میچ میں انہوں نے 201 رنز کی اننگز کھیلی، جو ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے، اور گیند سے بھی 49 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ ایک ہی ٹیسٹ میں ڈبل سنچری اور اننگز میں پانچ وکٹیں ایک آل راؤنڈر کی مکمل کارکردگی کی تصویر ہے۔ چند ہفتے بعد مارچ 1973ء میں حیدرآباد (سندھ) میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 157 رنز بھی بنائے1۔
انہوں نے پاکستان کے ابتدائی ون ڈے میچوں میں بھی حصہ لیا۔ ان کا پہلا ون ڈے 11 فروری 1973ء کو کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف تھا۔ جون 1975ء میں برمنگھم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 55 رنز ان کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور ہے؛ یہ میچ پہلے عالمی کپ کا حصہ تھا12۔
کپتانی
1976ء میں مشتاق محمد پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنے اور 1979ء تک 19 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کی۔ کپتانی کا بوجھ ان کی بیٹنگ پر حاوی نہیں ہوا۔ اکتوبر 1976ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں انہوں نے حیدرآباد (سندھ) میں 101 اور کراچی میں 107 رنز کی اننگز کھیلیں1۔
بطور کپتان ان کی سب سے شاندار کارکردگی اپریل 1977ء میں پورٹ آف اسپین میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سامنے آئی۔ اس ٹیسٹ میں انہوں نے 121 رنز بنائے اور 10.5 اوورز میں صرف 28 رنز دے کر 5 وکٹیں بھی لیں۔ یہ ان کی بہترین ٹیسٹ بولنگ ہے، اور اس وقت کی طاقتور ویسٹ انڈین ٹیم کے خلاف ان کے اپنے میدان پر ایسی کارکردگی آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ ان کا آخری ٹیسٹ 24 مارچ 1979ء کو پرتھ کے واکا (W.A.C.A) گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف شروع ہوا، اور آخری ون ڈے 3 نومبر 1978ء کو ساہیوال میں بھارت کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 57 | 10 |
| رنز | 3643 | 209 |
| بہترین اسکور | 201 | 55 |
| اوسط (بیٹنگ) | 39.17 | 34.83 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 10 / 19 | 0 / 1 |
| اسٹرائیک ریٹ | – | 59.2 |
| وکٹیں | 79 | 0 |
| بہترین بولنگ | 5/28 | – |
| اوسط (بولنگ) | 29.22 | – |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 3 | 0 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
مشتاق محمد کی سب سے بڑی خوبی ان کی ہمہ جہتی تھی۔ ایک ایسے دور میں جب پاکستان کے پاس وسائل کم اور تجربہ محدود تھا، وہ ایک ہی کھلاڑی میں مڈل آرڈر کا بھروسے مند بلے باز اور وکٹ لینے والا اسپنر دونوں فراہم کرتے تھے۔ ان کی لیگ بریک، گوگلی اور فلپر نے کئی شراکتیں توڑیں، جبکہ ان کا بلا مشکل وقت میں ٹیم کا سہارا بنا2۔ ان کی بہترین میچ بولنگ 119 رنز کے عوض 9 وکٹیں رہی1۔
نارتھمپٹن شائر میں ان کی طویل خدمات نے انگلش کرکٹ میں بھی ان کا نام روشن کیا، اور وہ ان ابتدائی پاکستانی کھلاڑیوں میں سے تھے جنہوں نے کاؤنٹی کرکٹ کے تجربے کو قومی ٹیم کی طاقت بنایا۔ محمد خاندان کے اس ستارے نے یہ ثابت کیا کہ بڑے بھائیوں کے سائے میں رہ کر بھی اپنی الگ پہچان بنائی جا سکتی ہے۔ آج بھی جب پاکستان کے عظیم آل راؤنڈروں کی بات ہوتی ہے تو مشتاق محمد کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Mushtaq Mohammad, Test and ODI batting and bowling career summaries (including as-captain rows) and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41318.html?class=1;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41318.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41318.html?class=1;template=results;type=bowling , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41318.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41318.html?class=2;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41318.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings
- Wikipedia, "Mushtaq Mohammad", https://en.wikipedia.org/wiki/Mushtaq_Mohammad (for biographical details only)



