محسن خان: لارڈز سے میلبرن تک ایک خوش انداز اوپنر
1980ء کی دہائی کے آغاز میں پاکستان کو ایک ایسا اوپنر ملا جس کی بیٹنگ میں نفاست بھی تھی اور تیز وکٹوں پر حوصلہ بھی۔ یہ محسن خان (Mohsin Khan) تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ…

1980ء کی دہائی کے آغاز میں پاکستان کو ایک ایسا اوپنر ملا جس کی بیٹنگ میں نفاست بھی تھی اور تیز وکٹوں پر حوصلہ بھی۔ یہ محسن خان (Mohsin Khan) تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ اپنی بیٹنگ کے حسن کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، اور آسٹریلیا کی اضافی اچھال والی وکٹوں کو قابو کرنے میں وہ اپنے کسی بھی ہم وطن اوپنر سے زیادہ قریب پہنچے2۔ 48 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 37.1 کی اوسط سے 2709 رنز اور 7 سنچریاں بنائیں1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
محسن خان، جن کا پورا نام محسن حسن خان ہے، 15 مارچ 1955ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ اقبال خان ان کے بھائی ہیں۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے اور کبھی کبھار دائیں ہاتھ سے میڈیم پیس بولنگ بھی کر لیتے تھے۔ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1970ء-71ء سے 1985ء-86ء تک رہا، جس میں انہوں نے کراچی، سندھ، حبیب بینک، پاکستان ریلوے اور پاکستان یونیورسٹیز کی نمائندگی کی2۔
ان کا بین الاقوامی سفر ون ڈے کرکٹ سے شروع ہوا: 16 مارچ 1977ء کو البیون میں ویسٹ انڈیز کے خلاف انہوں نے پہلا ون ڈے کھیلا۔ ٹیسٹ کیریئر 18 جنوری 1978ء کو کراچی میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہوا، جہاں تیسرے نمبر پر انہوں نے 44 رنز بنائے1۔
1982ء: عروج کا سال
ان کی سات ٹیسٹ سنچریوں میں سے چار 1982ء میں بنیں۔ مارچ 1982ء میں سری لنکا کے خلاف فیصل آباد میں 74 رنز کے بعد، 22 مارچ کو لاہور میں انہوں نے 17 چوکوں کی مدد سے 129 رنز بنائے، جو ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی1۔
اسی سال 12 اگست کو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف ان کی سب سے یادگار اننگز آئی۔ اوپنر کے طور پر انہوں نے 495 منٹ کریز پر گزارے اور 386 گیندوں پر 23 چوکوں کی مدد سے 200 رنز بنائے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ لارڈز میں ٹیسٹ ڈبل سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی تھے2۔ یہ میچ پاکستان نے جیتا1۔
وطن واپسی پر آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں انہوں نے کراچی میں 58، فیصل آباد میں 76 اور 14 اکتوبر 1982ء کو لاہور میں 135 رنز بنائے۔ کراچی کی اس اننگز کا اختتام کرکٹ کے ایک نایاب انداز میں ہوا: 22 ستمبر 1982ء کو شروع ہونے والے اس ٹیسٹ میں وہ 58 رنز پر "ہینڈلڈ دی بال"، یعنی گیند کو ہاتھ لگانے کی وجہ سے آؤٹ قرار پائے1۔ ای ایس پی این کرک انفو کی ریکارڈ فہرست میں یہ آؤٹ ٹیسٹ کرکٹ کے غیر معمولی آؤٹس میں درج ہے3۔
دسمبر 1982ء میں لاہور میں بھارت کے خلاف انہوں نے پہلی اننگز میں 94 اور دوسری اننگز میں 101 رنز ناٹ آؤٹ بنائے1۔ ای ایس پی این کرک انفو کی ریکارڈ فہرست میں یہ ٹیسٹ ایک میچ میں سنچری اور نوے کی دہائی کے اسکور کی مثالوں میں شامل ہے3۔
آسٹریلیا کی اچھال پر
1983ء-84ء کا دورۂ آسٹریلیا محسن خان کی مہارت کا امتحان تھا۔ 9 دسمبر 1983ء کو ایڈیلیڈ میں انہوں نے 393 منٹ کی اننگز میں 16 چوکوں کی مدد سے 149 رنز بنائے، اور اگلے ہی ٹیسٹ میں، 26 دسمبر 1983ء کو میلبرن میں، 18 چوکوں اور ایک چھکے کے ساتھ 152 رنز کی اننگز کھیلی۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق انہی دو مسلسل سنچریوں کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ آسٹریلوی وکٹوں کو وہ پاکستان کے کسی بھی اوپنر سے بہتر سمجھ سکے2۔ آسٹریلیا کے خلاف 11 ٹیسٹ میچوں میں ان کی اوسط 43.66 اور سنچریاں 3 رہیں1۔
اس کے بعد 1984ء میں لاہور میں انگلینڈ کے خلاف چوتھی اننگز میں 104 رنز ان کی ساتویں اور آخری ٹیسٹ سنچری تھی۔ ان کا آخری ٹیسٹ 20 نومبر 1986ء کو کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہوا1۔
ون ڈے کرکٹ
ون ڈے کرکٹ میں محسن خان نے 75 میچوں میں 1877 رنز اور 2 سنچریاں بنائیں۔ 20 ستمبر 1982ء کو حیدرآباد (سندھ) میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے 101 گیندوں پر 104 رنز بنائے، اور 17 دسمبر 1982ء کو ملتان میں بھارت کے خلاف 117 رنز ناٹ آؤٹ ان کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور ہے1۔
9 جون 1983ء کو سوانسی میں سری لنکا کے خلاف انہوں نے 82 رنز بنائے، اور 22 جون 1983ء کو اوول میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 176 گیندوں پر 70 رنز کی اننگز کھیلی۔ ای ایس پی این کرک انفو کی ریکارڈ فہرست میں 176 گیندوں کی یہ اننگز ون ڈے کرکٹ کی طویل ترین اننگز (گیندوں کے لحاظ سے) میں شامل ہے3۔ ان کا آخری ون ڈے 2 دسمبر 1986ء کو شارجہ میں سری لنکا کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 48 | 75 |
| رنز | 2709 | 1877 |
| بہترین اسکور | 200 | 117 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 37.1 | 26.81 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 7 / 9 | 2 / 8 |
| اسٹرائیک ریٹ | – | 55.64 |
| وکٹیں | 0 | 1 |
| بہترین بولنگ | – | 1/2 |
| اوسط (بولنگ) | – | 5 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 | 0 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
محسن خان کی ساتوں ٹیسٹ سنچریاں مارچ 1982ء سے مارچ 1984ء کے درمیان بنیں۔ جن ٹیسٹ میچوں میں پاکستان جیتا، ان میں ان کی اوسط 43.61 رہی1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے الفاظ میں ان میں کریز کا ستارہ بننے کی پوری صلاحیت تھی2۔
کھیل چھوڑنے کے بعد بھی ان کا تعلق کرکٹ سے رہا: مارچ 2010ء میں وہ پاکستان کے چیف سلیکٹر مقرر ہوئے، نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں بلے بازوں کی کوچنگ کی، اور 2011ء میں دورۂ زمبابوے کے بعد عبوری قومی کوچ بھی رہے2۔
لارڈز کی ڈبل سنچری اور آسٹریلیا کی دو مسلسل سنچریاں محسن خان کا اصل تعارف ہیں: ایک ایسا اوپنر جو خوب صورتی سے کھیلتا تھا اور مشکل وکٹوں پر بھی ٹھہر سکتا تھا۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Mohsin Khan, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41303.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41303.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41303.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41303.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41303.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41303.html?class=2;template=results;type=bowling
- ESPNcricinfo player profile, Mohsin Khan (archived copy; profile essay by Scyld Berry): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/41303.html
- ESPNcricinfo player profile, Mohsin Khan (archived 2025 copy, including its records list): https://web.archive.org/web/20250814200308/https://www.espncricinfo.com/cricketers/mohsin-khan-41303



