رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روزنامہ جنگ کے صفحے سے خبر کا متن دستیاب نہ ہو سکاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریفتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاساُستا محمد: مارکیٹ کمیٹی کا اجلاس، اناج منڈی فعال بنانے اور خرید و فروخت جلد شروع کرنے پر غور

فیروز شاہ تغلق: نہریں، نئے شہر اور اشوک کی لاٹیں

دہلی میں جمنا کے کنارے ایک پرانے قلعے کے کھنڈرات ہیں جسے فیروز شاہ کوٹلہ کہا جاتا ہے۔ اس کی سب سے اوپر کی منزل پر پتھر کی ایک صاف چکنی لاٹ کھڑی ہے جو دو ہزار برس سے بھی…

فیروز شاہ تغلق: نہریں، نئے شہر اور اشوک کی لاٹیں
علامتی تصویر

دہلی میں جمنا کے کنارے ایک پرانے قلعے کے کھنڈرات ہیں جسے فیروز شاہ کوٹلہ کہا جاتا ہے۔ اس کی سب سے اوپر کی منزل پر پتھر کی ایک صاف چکنی لاٹ کھڑی ہے جو دو ہزار برس سے بھی زیادہ پرانی ہے، کیونکہ یہ موریہ شہنشاہ اشوک کے دور کی ہے۔ اسے یہاں چودھویں صدی میں سلطان فیروز شاہ تغلق (Firuz Shah Tughlaq) نے نصب کرایا تھا، جنہوں نے 1351ء سے 1388ء تک حکومت کی۔ فیروز شاہ کو ان کی جنگوں سے زیادہ ان کی نہروں، نئے شہروں، باغات اور عمارتوں کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

تخت نشینی

1351ء میں محمد بن تغلق کا سندھ میں انتقال ہوا تو ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ برطانوی مورخ اسٹینلے لین پول کے مطابق سندھ میں موجود فوج کے سرداروں نے ان کے چچا زاد فیروز شاہ کو فوراً سلطان منتخب کر لیا۔ اس وقت فیروز کی عمر تقریباً پینتالیس برس تھی۔ لین پول کے مطابق انہوں نے کئی برس محمد بن تغلق کے ساتھ بیٹے کی طرح رہ کر حکمرانی کی تربیت پائی تھی۔

لین پول کے مطابق فیروز شاہ کے سینتیس سالہ دور میں ایک بھی بغاوت نہیں ہوئی۔ وہ جنگ سے گریز کرتے تھے، اور دکن اور بنگال کے جو علاقے پہلے الگ ہو چکے تھے، انہیں واپس لانے کی بڑی کوشش نہیں کی۔

وزیر خانِ جہاں

فیروز شاہ کی حکومت کا ایک بڑا ستون ان کے وزیر خانِ جہاں مقبول تھے۔ لین پول کے مطابق مقبول تلنگانہ کے ایک معزز خاندان سے تھے اور محمد بن تغلق کے دور میں بھی اعلیٰ عہدوں پر رہ چکے تھے۔ سلطان کی طویل غیر حاضریوں میں وہی سلطنت چلاتے تھے، اور لین پول کے مطابق انہوں نے غیر معمولی مہارت سے انتظام کیا۔ ان کا انتقال 1371ء میں ہوا۔

کسانوں کو راحت

برٹانیکا کے مطابق محمد بن تغلق نے قحط کے بعد کسانوں کو جو قرضے دیے تھے، فیروز شاہ نے وہ معاف کر دیے۔ لین پول کے مطابق وزیر کے مشورے پر ان قرضوں کے سرکاری کاغذات سلطان کی موجودگی میں تلف کر دیے گئے۔ برٹانیکا کے مطابق فیروز نے محصول کی ایک مقررہ شرح نافذ کی، اور لین پول کے مطابق سرکاری اہلکاروں کی زیادتیوں پر سختی سے روک لگائی گئی۔

نہروں کا جال

فیروز شاہ کا سب سے دیرپا کام آبپاشی کا نظام ہے۔ برٹانیکا کے مطابق انہوں نے قبل از جدید ہندوستان میں نہروں کا سب سے بڑا جال بنایا۔ لین پول کے مطابق 1355ء میں اپنے نئے شہر حصار فیروزہ کو پانی پہنچانے کے لیے انہوں نے جمنا اور ستلج سے نہروں کا دوہرا نظام بنوایا۔ ان میں سے ایک، "پرانی جمنا نہر"، لین پول کے زمانے (1903ء) میں بھی تقریباً دو سو میل تک علاقے کو سیراب کر رہی تھی۔

لین پول کے مطابق بہتر آبپاشی کی وجہ سے کسان سال میں ایک کے بجائے دو فصلیں اٹھانے لگے۔ نہروں کی نگرانی ماہر انجینئروں کے سپرد تھی، جو برسات اور سیلاب کے دنوں میں کناروں کا معائنہ کر کے رپورٹ دیتے تھے، اور اس سہولت کے بدلے پانی پر دس فیصد محصول لیا جاتا تھا۔

نئے شہر

لین پول کے مطابق فیروز شاہ کو شہر بسانے اور ان کے نام رکھنے کا شوق تھا۔ انہوں نے فتح آباد، حصار فیروزہ اور جونپور جیسے شہر بسائے؛ برٹانیکا کے مطابق حصار کی بنیاد 1356ء میں رکھی گئی۔ دہلی سے تقریباً دس میل دور جمنا کے کنارے انہوں نے فیروز آباد کے نام سے ایک نیا شہر بسایا، جہاں وہ زیادہ تر رہتے تھے۔ لین پول کے مطابق یہ شہر دریا کے کنارے چھ میل تک پھیلا ہوا تھا اور دہلی کے لوگ چھٹی کے دن یہاں سیر کو آتے تھے۔

برٹانیکا کے مطابق فیروز شاہ کوٹلہ، جو 1354ء سے 1370ء کے درمیان بنا اور جس میں محلات اور دوسری عمارتیں تھیں، آج کھنڈر ہے مگر فیروز شاہ کی بڑی تعمیراتی سرگرمی کی نمائندگی کرتا ہے۔ لین پول کے مطابق ان کے مشہور معمار ملک غازی شحنہ اور عبدالحق تھے، جن کے تحت ہنرمندوں کا ایک بڑا عملہ کام کرتا تھا اور سب کو خزانے سے باقاعدہ اجرت ملتی تھی۔

اشوک کی لاٹیں

فیروز شاہ کی ایک انوکھی دلچسپی قدیم یادگاریں تھیں۔ لین پول کے مطابق انہوں نے اشوک کے دور کی دو پتھر کی لاٹیں ان کی اصل جگہوں سے اکھاڑ کر دہلی منتقل کرائیں، اور ان میں سے ایک فیروز آباد میں نصب کی گئی۔ برٹانیکا کے مطابق یہ لاٹ ان کے محل کی چھت پر ایک نمایاں جگہ رکھی گئی۔ برٹانیکا یہ بھی بتاتا ہے کہ فیروز شاہ کو ہندوستانی ثقافت سے گہری دلچسپی تھی اور انہوں نے سنسکرت کی کئی اہم کتابوں کے فارسی ترجمے کرائے۔

باغات اور فلاحی کام

لین پول کے مطابق فیروز شاہ نے دہلی کے قریب بارہ سو باغ لگوائے، جن میں انگور کی سات قسمیں اگائی جاتی تھیں اور جن کی پیداوار سے خزانے کو آمدنی ہوتی تھی۔ انہوں نے بے روزگاروں کے لیے کام کا بندوبست کیا، بیماروں کے لیے سرکاری شفاخانے بنوائے، اور بوڑھے اہلکاروں کو برطرف کرنے کے بجائے ان کے بیٹوں کو ان کی جگہ کام کرنے دیا۔

لین پول کے مطابق بعد کے مورخ فرشتہ نے فیروز شاہ سے کم از کم 845 عوامی تعمیرات منسوب کی ہیں: نہریں، بند، تالاب، پل، حمام، قلعے، مدارس اور مسافر خانے۔ انہوں نے پرانی عمارتوں، جیسے قطب مینار، کی مرمت بھی کرائی۔

وفات

لین پول کے مطابق 1374ء میں ولی عہد فتح خان کی وفات نے بوڑھے سلطان کو شدید صدمہ پہنچایا۔ آخری برسوں میں انہوں نے حکومت کا کام دوسروں کے سپرد کر دیا، اور ستمبر 1388ء میں ان کا انتقال ہوا۔ لین پول ان کی عمر نوے برس بتاتا ہے، اگرچہ تخت نشینی کے وقت پینتالیس برس کی عمر کے حساب سے یہ اسی کے قریب بنتی ہے۔ ان کا مقبرہ دہلی میں ہے۔

ورثہ

لین پول کے مطابق ان کے دور کے مورخین متفق ہیں کہ فیروز شاہ اپنی رعایا میں بہت مقبول تھے۔ ان کی بنوائی ہوئی نہریں صدیوں تک کھیتوں کو سیراب کرتی رہیں، ان کے بسائے ہوئے شہر آج بھی آباد ہیں، اور اشوک کی وہ لاٹ آج بھی فیروز شاہ کوٹلہ میں کھڑی ہے جسے انہوں نے اس کی اصل جگہ سے منگوایا تھا۔

ماخذ

  1. Stanley Lane-Poole, Mediaeval India under Mohammedan Rule (A.D. 712–1764), G. P. Putnam's Sons, New York, and T. Fisher Unwin, London, 1903 (The Story of the Nations), ch. VI. https://archive.org/details/cu31924024066668
  2. Encyclopaedia Britannica, "India: The Tughluqs". https://www.britannica.com/place/India/The-Tughluqs
  3. Encyclopaedia Britannica, "Fīrūz Shah Tughluq" (with its related entries on the Kotla Firuz Shah and Hisar). https://www.britannica.com/biography/Firuz-Shah-Tughluq

حکمران اور سلاطین: تمام تحریریں ←