اسماعیل سامانی: بخارا کو دارالحکومت بنانے والا امیر
وسطی ایشیا کے شہر بخارا کے ایک باغ میں پکی اینٹوں کی ایک چھوٹی سی مکعب نما عمارت کھڑی ہے، جس کی دیواروں پر اینٹوں کو اس طرح جوڑا گیا ہے کہ وہ ٹوکری کی بُنائی جیسی دکھائی دیتی ہیں۔…

وسطی ایشیا کے شہر بخارا کے ایک باغ میں پکی اینٹوں کی ایک چھوٹی سی مکعب نما عمارت کھڑی ہے، جس کی دیواروں پر اینٹوں کو اس طرح جوڑا گیا ہے کہ وہ ٹوکری کی بُنائی جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ عمارت اسماعیل سامانی کے مقبرے کے نام سے مشہور ہے۔ اسماعیل بن احمد سامانی (Isma'il ibn Ahmad) نے 892ء سے 907ء تک ماوراء النہر اور خراسان پر حکومت کی، اور انہی کے دور میں بخارا سامانی ریاست کا دارالحکومت بنا۔
سامانی خاندان
برٹانیکا کے مطابق سامانی خاندان (819ء–999ء) موجودہ مشرقی ایران اور ازبکستان کے علاقے میں ابھرا۔ خاندان کے بانی سامان خدا کے چار پوتوں کو عباسی خلیفہ کی خدمت کے صلے میں مختلف علاقوں کی حکومت ملی: نوح کو سمرقند، احمد کو فرغانہ، یحییٰ کو شاش (موجودہ تاشقند) اور الیاس کو ہرات۔ اسماعیل انہی احمد کے بیٹے تھے، اور ان کے بڑے بھائی نصر 875ء میں ماوراء النہر کے گورنر بنے۔
بخارا کے گورنر
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق اسماعیل 849ء میں پیدا ہوئے۔ تقریباً بیس برس، 874ء سے 892ء تک، وہ اپنے بھائی نصر کی طرف سے بخارا کے گورنر رہے، جبکہ نصر خود سمرقند میں رہتے تھے۔ ایرانیکا کے مطابق یہ دور خراسان اور ماوراء النہر میں بدامنی کا تھا، اور گورنر کی حیثیت سے اسماعیل کو بخارا کے دفاع کی ذمہ داری بھی سنبھالنی پڑی۔ دونوں بھائیوں کے درمیان بھی کچھ عرصہ اختلافات رہے۔
پوری ریاست کی حکومت
اگست 892ء میں نصر کا انتقال ہوا تو اسماعیل پورے ماوراء النہر کے حکمران بن گئے۔ ایرانیکا کے مطابق انہوں نے دارالحکومت سمرقند سے بخارا منتقل کر دیا، اور اس کے بعد سے بخارا سامانی امارت کا مرکز رہا۔ بغداد میں خلیفہ المعتضد نے انہیں ماوراء النہر کا گورنر تسلیم کر لیا۔
900ء میں بلخ کے قریب ایک جنگ میں انہوں نے صفاری حکمران عمرو بن لیث کو شکست دی۔ ایرانیکا کے مطابق اس کے بعد خلیفہ نے انہیں خراسان، سیستان، رے، طبرستان اور اصفہان کا گورنر بھی مقرر کر دیا، اگرچہ بعد کے سامانی امیر مستقل طور پر صرف خراسان اور ماوراء النہر ہی کو اپنے پاس رکھ سکے۔
عملی خودمختاری
ایرانیکا کے مطابق اسماعیل رسمی طور پر خلیفہ کی بالادستی تسلیم کرتے رہے، اور سکوں پر خلیفہ کا نام آتا رہا، مگر بغداد سے دوری اور اپنے بڑھتے ہوئے وقار کی وجہ سے وہ عملاً ایک خودمختار حکمران تھے۔ ایرانیکا یہ بھی لکھتا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے بغداد کو باقاعدہ خراج یا محصولات بھیجے ہوں۔
برٹانیکا کے مطابق سامانیوں کی حکومت نسبتاً غیر مرکزی تھی، جس میں مقامی امرا کو خاصا اختیار حاصل رہتا تھا۔ اسماعیل کے آخری برسوں میں ان کی ریاست مغرب میں رے اور قزوین تک پہنچ گئی، اور 904ء میں انہوں نے شمال کے میدانوں سے آنے والے ایک ترک حملے کو روکا۔
تجارت اور چاندی کے سکے
سامانی دور کی خوشحالی کا ایک بڑا سبب تجارت تھی۔ بخارا اور سمرقند شاہراہِ ریشم پر واقع تھے۔ برٹانیکا کے مطابق سامانی دور میں ماوراء النہر اور خراسان نے ترقی کی، صنعت اور تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا، اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ سامانی چاندی کے سکے پورے شمالی ایشیا میں کرنسی کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔
فن اور علم
برٹانیکا کے مطابق سامانی دور میں سمرقند اور بخارا ثقافتی مراکز بنے، فارسی ادب نے ترقی کی، اور فلسفہ اور تاریخ نویسی کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ فارسی کے بڑے شاعر رودکی اور فردوسی کا تعلق بھی اسی دور سے ہے، اگرچہ ان کی شاعری اسماعیل کے بعد کے زمانے میں سامنے آئی۔
برٹانیکا کے مطابق سامانی دور کا اسلامی فن میں سب سے اہم حصہ نیشاپور اور سمرقند میں بننے والے مٹی کے برتن ہیں۔ سامانی کمہاروں نے رنگوں کو گاڑھی مٹی (slip) میں ملا کر نقش بنانے کی تکنیک اپنائی، تاکہ پکاتے وقت نقش نہ پھیلیں۔ ان پیالوں اور پلیٹوں پر گھڑسوار، پرندے، شیر اور بیلوں کے سر جیسے نقوش ملتے ہیں۔ نیشاپور میں کانسی کی ڈھلائی اور دھات کاری کا فن بھی پھلا پھولا۔
مقبرۂ اسماعیل سامانی
سامانی دور کی بہت کم عمارتیں باقی بچی ہیں۔ ان میں سب سے مشہور بخارا کا وہ مقبرہ ہے جو اسماعیل سامانی سے منسوب ہے۔ برٹانیکا کے مطابق یہ مکمل طور پر متوازن (symmetrical) عمارت پوری کی پوری اینٹوں سے بنی ہے، اور اینٹوں ہی سے اس پر ابھرے ہوئے آرائشی نقش بنائے گئے ہیں؛ برٹانیکا یہ بھی بتاتا ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ قبریں ہیں۔ یونیسکو نے اسے اپنی "سادہ نفاست" کی وجہ سے متاثر کن اور پوری اسلامی دنیا میں دسویں صدی کے فنِ تعمیر کا بہترین محفوظ نمونہ قرار دیا ہے، اور یہ بخارا کے تاریخی مرکز کا حصہ ہے جو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔
ایرانیکا کے مطابق اگرچہ اس مقبرے کو اسماعیل کا مقبرہ کہا جاتا ہے، مگر بعض محققین کے خیال میں یہ سامانی دور کے کچھ بعد کے حصے کی تعمیر ہے۔
وفات
ایرانیکا کے مطابق اسماعیل کا انتقال نومبر 907ء میں ہوا اور ان کے بیٹے احمد ان کے جانشین بنے۔ ایرانیکا کے مطابق بعد کی تاریخی اور ادبی کتابوں میں ان کا ذکر انصاف پسند حکمران کے طور پر ملتا ہے، اور ماخذ میں انہیں "امیرِ ماضی" اور "امیرِ عادل" کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔
ورثہ
برٹانیکا کے مطابق سامانی ریاست دسویں صدی کے وسط سے کمزور ہونے لگی اور 999ء میں بخارا پر قراخانی ترکوں کا قبضہ ہو گیا۔ ایرانیکا اسماعیل کو سامانی امیروں میں سب سے بڑا قرار دیتا ہے، کیونکہ ان کے جانشینوں میں سے کوئی ان کے پائے کا نہیں تھا۔ ان کا سب سے دیرپا کام بخارا کو ایک ریاست کا مرکز بنانا تھا؛ یہ شہر اس کے بعد بھی صدیوں تک وسطی ایشیا کے بڑے علمی اور تجارتی مراکز میں شمار ہوتا رہا۔
ماخذ
- C. E. Bosworth, "Esmā'il b. Aḥmad b. Asad Sāmāni", Encyclopaedia Iranica, 1998. https://www.iranicaonline.org/articles/esmail-b-ahmad-b-asad-samani
- Encyclopaedia Britannica, "Samanid dynasty". https://www.britannica.com/topic/Samanid-dynasty
- UNESCO World Heritage Centre, "Historic Centre of Bukhara". https://whc.unesco.org/en/list/602/
- R. N. Frye, "The Sāmānids", in The Cambridge History of Iran, vol. 4, Cambridge University Press, 1975, pp. 136–161 (cited by Iranica for his reign).

