علاء الدین خلجی: منڈیوں پر کنٹرول اور زمین کی پیمائش
قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں شاید ہی کسی حکمران نے بازار کی قیمتوں کو اتنی تفصیل سے منظم کرنے کی کوشش کی ہو جتنی علاء الدین خلجی (Alauddin Khalji) نے کی۔ انہوں نے 1296ء سے 1316ء تک دہلی پر حکومت…

قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں شاید ہی کسی حکمران نے بازار کی قیمتوں کو اتنی تفصیل سے منظم کرنے کی کوشش کی ہو جتنی علاء الدین خلجی (Alauddin Khalji) نے کی۔ انہوں نے 1296ء سے 1316ء تک دہلی پر حکومت کی۔ برٹانیکا کے مطابق ان کے دور میں سلطنتِ دہلی نے کچھ عرصے کے لیے ایک وسیع سلطنت کی حیثیت اختیار کی، اور ان کی اصلاحات کی وجہ سے سلطنت کا انتظام کسی بھی دوسرے دور کے مقابلے میں زیادہ متحد اور مؤثر رہا۔
تخت نشینی
علاء الدین خلجی خاندان کے بانی سلطان جلال الدین فیروز خلجی کے بھتیجے تھے۔ عام طور پر ان کی پیدائش 1266ء کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ برٹانیکا کے مطابق 1296ء میں وہ اپنے چچا کی جگہ سلطان بنے۔ برٹانیکا کے مطابق اس سے پہلے 1292ء اور 1296ء کی مہمات سے انہیں بڑی دولت ملی تھی، جس نے ان کی حکومت کے ابتدائی منصوبوں کو مالی بنیاد فراہم کی۔
زمین کا محصول اور پیمائش
برٹانیکا کے مطابق علاء الدین سے پہلے سلطان اور امرا کی آمدنی کا بڑا حصہ ماتحت حکمرانوں کے خراج پر منحصر تھا، اور سلطنت کی کوئی مستحکم معاشی بنیاد نہیں تھی؛ امرا اکثر دہلی کے ساہوکاروں کے مقروض رہتے تھے۔ علاء الدین نے اس صورتِ حال کو بنیادی طور پر بدل دیا۔
برٹانیکا کے مطابق انہوں نے ہر کسان کی زمین پر پیداوار کا نصف زمینی محصول (خراج) مقرر کیا، جس کے ساتھ گھر اور مویشیوں پر بھی محصول تھا۔ سلطان نے زمین کی پیمائش کرا کے ہر علاقے کی پیداوار کا تخمینہ تیار کرایا۔ اقطاع کے حاکم امرا کو اپنی آمدنی اور خرچ کا حساب دینا پڑتا اور بچت شاہی خزانے میں بھیجنی ہوتی تھی، اور ہر اقطاع میں ان سے الگ سرکاری اہلکار سلطان کا کنٹرول یقینی بناتے تھے۔ خالصہ، یعنی وہ علاقہ جس کی آمدنی براہِ راست شاہی خزانے میں آتی تھی، بہت بڑھا دیا گیا، جس سے سلطان اپنے سپاہیوں کو نقد تنخواہ دینے کے قابل ہوئے۔
منڈیوں کا نظام
علاء الدین کی سب سے مشہور اصلاح قیمتوں پر کنٹرول تھی۔ برطانوی مورخ اسٹینلے لین پول کے مطابق، جو اس دور کے مورخ ضیاء الدین برنی کے بیان پر انحصار کرتے ہیں، سپاہی کی تنخواہ 234 تنکے سالانہ مقرر تھی۔ اتنی تنخواہ میں سپاہی اپنا گھر چلا سکے اور گھوڑا اور ہتھیار رکھ سکے، اس کے لیے سلطان نے ضروری اشیا کی قیمتیں مقرر کر دیں۔
لین پول کے مطابق گندم، جو، چاول، دال اور دوسری اشیا کے نرخ ایک سرکاری فہرست میں درج کیے گئے، اور یہ نرخ علاء الدین کی زندگی بھر قائم رہے۔ اس فہرست میں سبزیاں، پھل، شکر، تیل، گھوڑے، ٹوپیاں، جوتے، کنگھیاں اور سوئیاں تک شامل تھیں۔
اناج کی فراہمی بڑھانے کے لیے، لین پول کے مطابق، دوآب کے شاہی دیہات کو محصول جنس کی صورت میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا، اور اس اناج سے دہلی میں بڑے ذخیرے بنائے گئے، جن سے قحط کے وقت مقررہ قیمت پر اناج فروخت ہوتا تھا۔ اناج لانے والے تاجروں کا اندراج کیا گیا، ذخیرہ اندوزی ممنوع تھی، اور منڈیوں پر نگران مقرر تھے۔ برٹانیکا کے مطابق ان اقدامات کے دو مقصد تھے: اناج لانے والوں کو کم قیمت پر رسد ملے، اور سرکاری گوداموں میں ہنگامی ذخیرہ موجود رہے۔ برٹانیکا کے مطابق علاء الدین نے دور دراز سے سامان دہلی لانے کے لیے ملتانی تاجروں کو ایک بڑا قرض بھی دیا۔
دفاع اور فوج
برٹانیکا کے مطابق افغانستان پر قبضے کے بعد چغتائی منگول پنجاب سے آگے تک آنے لگے تھے، اور 1303ء میں دہلی دو ماہ تک محاصرے میں رہا۔ 1297ء سے 1306ء کے درمیان علاء الدین نے کم از کم پانچ منگول حملوں کا مقابلہ کیا۔ لین پول کے مطابق اسی خطرے کے پیشِ نظر انہوں نے دہلی کے قلعوں کی مرمت اور توسیع کرائی، سامانِ جنگ جمع کیا، اور سامانہ اور دیپالپور کی سرحدی چوکیوں پر مضبوط دستے متعین کیے۔
برٹانیکا کے مطابق ان کے دور میں سلطنت کی حدود گجرات، راجستھان کے بڑے قلعوں اور جنوبی ہندوستان تک پہنچیں۔
سیری اور علائی دروازہ
لین پول کے مطابق علاء الدین نے دہلی کے مضافات میں ایک نیا محل نما قلعہ "سیری" (Siri) بنوایا اور وہیں قیام کیا۔ یہ دہلی کے ان شہروں میں سے ایک ہے جو مختلف ادوار میں بسے۔
ان کی سب سے خوبصورت عمارت قطب مینار کے احاطے میں علائی دروازہ (Alai Darwaza) ہے۔ یونیسکو کے مطابق یہ 1311ء میں بنا اور ہند اسلامی فن کا شاہکار ہے۔ عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ ان کا اپنا مقبرہ بھی قطب کے احاطے میں ہے۔
معیشت اور ٹیکنالوجی
برٹانیکا کے مطابق خلجی دور کی سیاسی توسیع کے ساتھ ساتھ معیشت اور ٹیکنالوجی میں بھی ترقی ہوئی۔ تیرہویں صدی میں دہلی اسلامی دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک بن گیا، اور ملتان، لاہور اور کھمبات جیسے شہر بڑے تجارتی مراکز بنے۔ کپڑے کی صنعت میں لکڑی کی روئی بیلنے کی مشین (چرخی) اور چرخہ آیا؛ تعمیر میں چونے کا گارا اور گنبد نما چھتیں عام ہوئیں؛ اور کاغذ کی تیاری سے سرکاری دفاتر میں ریکارڈ رکھنا اور ہنڈی (بِل آف ایکسچینج) کا استعمال بڑھا۔ برٹانیکا کے مطابق تیرہویں صدی کے وسط تک سونے اور چاندی کی قیمت کا ایک مستحکم تناسب قائم ہو چکا تھا، جس سے اعلیٰ معیار اور بڑی مقدار کے سکے جاری ہوئے۔
وفات
لین پول کے مطابق علاء الدین کا انتقال جنوری 1316ء میں ایک بیماری کے بعد ہوا؛ عام طور پر تاریخ 4 جنوری بتائی جاتی ہے۔ ان کے بعد خلجی خاندان زیادہ عرصہ قائم نہ رہا اور 1320ء میں تغلق خاندان برسرِ اقتدار آیا۔ لین پول کے مطابق ان کی وفات کے بعد مقررہ نرخ بھی جلد ختم ہو گئے اور قیمتیں پھر بڑھ گئیں۔
ورثہ
برٹانیکا کے مطابق علاء الدین کی اصلاحات کا نتیجہ یہ تھا کہ سلطنت تیزی سے پھیلی اور اس کا انتظام کسی بھی دوسرے دور کے مقابلے میں زیادہ متحد رہا۔ زمین کی پیمائش پر مبنی محصول، منڈیوں کا نظام اور علائی دروازہ ان کے دور کی سب سے نمایاں نشانیاں ہیں۔
ماخذ
- Encyclopaedia Britannica, "India: The Khaljīs". https://www.britannica.com/place/India/The-Khaljis
- Stanley Lane-Poole, Mediaeval India under Mohammedan Rule (A.D. 712–1764), G. P. Putnam's Sons, New York, and T. Fisher Unwin, London, 1903 (The Story of the Nations), ch. V. https://archive.org/details/cu31924024066668
- UNESCO World Heritage Centre, "Qutb Minar and its Monuments, Delhi". https://whc.unesco.org/en/list/233/
- Wikipedia, "Alauddin Khalji" (pointer only: birth about 1266, date of death, tomb in the Qutb complex). https://en.wikipedia.org/wiki/Alauddin_Khalji







