ہشام بن عبدالملک: رصافہ کا خلیفہ، صحرائی محل اور منظم خزانہ
اموی خلافت کی تاریخ میں انیس برس کی ایک طویل اور نسبتاً پرسکون حکومت ہشام بن عبدالملک (Hisham ibn Abd al-Malik) کی ہے، جو 724ء سے 743ء تک خلیفہ رہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق وہ دسویں اموی خلیفہ تھے اور…

اموی خلافت کی تاریخ میں انیس برس کی ایک طویل اور نسبتاً پرسکون حکومت ہشام بن عبدالملک (Hisham ibn Abd al-Malik) کی ہے، جو 724ء سے 743ء تک خلیفہ رہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق وہ دسویں اموی خلیفہ تھے اور ان کا دور اموی خوشحالی اور شان کا آخری دور تھا۔ انہیں دو باتوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے: سرکاری آمدن اور خرچ کا کڑا حساب، اور شام کے صحرا کے کنارے بنوائے گئے محل، باغ اور آبپاشی کے نظام۔
ابتدائی زندگی
برٹانیکا کے مطابق ہشام 691ء میں دمشق میں پیدا ہوئے۔ وہ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے بیٹے اور سابق خلفا ولید، سلیمان اور یزید ثانی کے بھائی تھے۔ جرمن مورخ یولیوس ویلہاؤزن (Julius Wellhausen) کے مطابق ان کا نام ان کے نانا ہشام بن اسماعیل کے نام پر رکھا گیا، جو قریش کے خاندان بنو مخزوم سے تھے۔ برٹانیکا لکھتا ہے کہ خلافت سے پہلے ہشام اموی دربار میں ایک خاموش زندگی گزارتے رہے اور کسی اہم سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے۔
تخت نشینی
ویلہاؤزن کے مطابق ان کے بھائی یزید ثانی نے انہیں اپنا جانشین نامزد کیا تھا، اور جنوری 724ء میں یزید کی وفات کے بعد ہشام خلیفہ بنے۔
رصافہ: پسندیدہ رہائش گاہ
ویلہاؤزن کے مطابق ہشام کو خلافت کی علامتیں، یعنی عصا اور انگوٹھی، رصافہ (Rusafa) میں ملیں، اگرچہ قدیم مورخ طبری کی ایک روایت میں حمص کا نام آتا ہے۔ رصافہ شامی صحرا کے کنارے، رقہ سے کچھ فاصلے پر، رومی دور کی ایک بستی تھی جسے ہشام نے دوبارہ آباد کیا تھا۔ ویلہاؤزن لکھتے ہیں کہ وہ دمشق کی آب و ہوا کو صحت کے لیے اچھا نہیں سمجھتے تھے، اس لیے خلیفہ بننے کے بعد بھی رصافہ ہی میں رہنا پسند کرتے رہے، البتہ بیعت انہوں نے دارالحکومت دمشق میں لی۔ ویلہاؤزن کے مطابق ہشام عوامی نمود سے کتراتے تھے اور اکثر رصافہ کی تنہائی میں رہ کر کام کرتے تھے۔
انتظام اور خزانہ
برٹانیکا کے مطابق ہشام ایک محتاط اور کفایت شعار منتظم تھے، جنہوں نے سرکاری آمدن اور اخراجات پر بہت توجہ دی، اور بعض مآخذ انہیں زرعی محصولات کے پورے نظام کی اصلاح اور تنظیمِ نو کا سہرا دیتے ہیں۔ ان کی بڑی فکر یہ تھی کہ وراثت میں ملی ہوئی وسیع سلطنت پر انتظامی گرفت مضبوط ہو۔
ویلہاؤزن کے مطابق ہشام کا دیوان، یعنی خزانے کا دفتر، اس قدر منظم تھا کہ بعد میں عباسی خلیفہ منصور بھی اس کی تعریف کرتے تھے۔ ہشام نے یہ رواج ختم کیا کہ بااثر لوگوں کو فوجی وظیفہ محض رعایت کے طور پر مل جائے۔ ان کے دور میں یہ وظیفہ صرف اسی کو ملتا تھا جس نے خود جنگی خدمت انجام دی ہو یا اپنی جگہ کسی دوسرے کو بھیجا ہو، اور یہ اصول اموی شہزادوں پر بھی لاگو تھا۔ ویلہاؤزن کے مطابق ہشام نے اپنا حصہ اپنے آزاد کردہ ملازم یاقوت کو دے دیا، جو ان کی جگہ مہم پر جاتا تھا۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ہشام نے عمر بن عبدالعزیز کی کئی مالی اصلاحات بھی دوبارہ نافذ کیں، جنہیں ان کے پیش رو یزید ثانی نے ترک کر دیا تھا۔
زراعت اور آبپاشی
ہشام کے دور میں زرعی زمینوں کی آبادکاری پر بہت کام ہوا۔ ویلہاؤزن، بازنطینی مورخ تھیوفینیز (Theophanes) کے حوالے سے، لکھتے ہیں کہ ہشام نے دیہات اور شہروں میں محل بنوانے، باغات لگوانے اور پانی کے ذرائع تیار کروانے کا کام شروع کیا۔ ویلہاؤزن کے الفاظ میں اس زمانے میں "نہر ہی جاگیر تھی، اور محل اسی کا حصہ تھا"، یعنی زمین کی قدر اس تک پہنچنے والے پانی سے طے ہوتی تھی۔
ویلہاؤزن کے مطابق دجلہ اور فرات کے زیریں علاقے کی دلدلی زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کا کام، جو ساسانی دور کے آخر میں بند ٹوٹنے سے برباد ہو گئی تھیں، اموی دور میں خاص طور پر ولید اول اور ہشام کے زمانے میں آگے بڑھا۔ ویلہاؤزن کے مطابق ہشام خود بھی ولید کی طرح ایک بڑے زمیندار تھے، اور ان کی زرعی جاگیریں رصافہ اور رقہ کے آس پاس اور شمالی شام اور جزیرہ کے علاقے میں تھیں۔
صحرائی محل
برٹانیکا کے مطابق ہشام نے تعمیرات کی ایک بھرپور پالیسی اپنائی اور شام میں قلعوں اور محلوں کا ایک پورا سلسلہ تعمیر کروایا۔ برٹانیکا تقریباً 710ء سے 750ء کے دور کے اموی "صحرائی محلات" کی جو فہرست دیتا ہے، اس میں رصافہ کے ساتھ قصر الحیر الغربی اور قصر الحیر الشرقی بھی شامل ہیں۔
قصر الحیر الغربی (Qasr al-Hayr al-Gharbi) شام کے صحرا میں واقع ہے۔ اس کے داخلی دروازے پر لگے ایک کتبے کے مطابق اسے ہشام نے 727ء میں تعمیر کروایا۔ اس کمپلیکس میں محل کے ساتھ ایک حمام، غالباً ایک سرائے، زیتون کے تیل کے کارخانے اور ایک سیراب باغ تھا، جسے دور کے ایک بند سے آنے والا پانی ملتا تھا۔ اس محل کا نقش و نگار سے بھرا ہوا گچ کاری والا دروازہ بیسویں صدی میں اکھاڑ کر دمشق منتقل کیا گیا، جہاں اب یہ دمشق کے قومی عجائب گھر کا صدر دروازہ ہے۔
قصر الحیر الشرقی (Qasr al-Hayr al-Sharqi) اس سے مشرق میں صحرا کے اندر ہے اور اس کی تعمیر 728ء۔729ء کی بتائی جاتی ہے۔ امریکی ماہرِ فنِ اسلامی اولیگ گرابار (Oleg Grabar) نے 1964ء سے 1971ء تک یہاں کھدائی کی۔ اس کے کھنڈرات تین حصوں پر مشتمل ہیں، ایک چھوٹا احاطہ، ایک بڑا احاطہ اور ایک بیرونی احاطہ، جن کے گرد موٹی فصیلیں اور برج تھے۔ یہاں ایک استقبالیہ ہال، حمام، باغات اور زیتون کے باغ تھے۔ یہاں پانی تقریباً 5.7 کلومیٹر لمبی ایک نہر کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا۔
یونیسکو کے مطابق قصر الحیر کے دونوں محلوں کے کھنڈرات میں آج سجاوٹ کے بہت کم حصے اپنی جگہ باقی ہیں۔
وفات
ویلہاؤزن کے مطابق ہشام کا انتقال بدھ، 6 ربیع الثانی 125 ہجری، یعنی 6 فروری 743ء کو رصافہ میں ہوا، جبکہ برٹانیکا ان کی وفات کی جگہ دمشق لکھتا ہے۔ اس وقت ان کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ تھی۔ برٹانیکا کے مطابق ہشام چاہتے تھے کہ ان کا اپنا بیٹا ولی عہد بنے، مگر انہیں یزید ثانی کا نامزد کردہ ولی عہد قبول کرنا پڑا، چنانچہ ان کے بعد ان کے بھتیجے ولید بن یزید خلیفہ بنے۔
ورثہ
ہشام کے بعد اموی خلافت صرف سات برس اور چلی۔ ان کے دور کے منظم دیوان کا ذکر عباسی دور میں بھی ایک مثال کے طور پر ہوتا رہا۔ ان کی سب سے نمایاں جسمانی نشانیاں شام کے صحرا میں قصر الحیر کے دو محلوں کے کھنڈرات اور ان کے ساتھ بنے پانی کے نظام ہیں، جو بتاتے ہیں کہ آٹھویں صدی میں صحرا کے کنارے بارش کے پانی، بندوں اور نہروں کی مدد سے کھیتی باڑی کیسے کی جاتی تھی۔ قصر الحیر الغربی کا گچ کاری والا دروازہ آج دمشق میں ہر آنے والے کا استقبال کرتا ہے۔
ماخذ
- Britannica Editors, "Hishām ibn ʿAbd al-Malik", Encyclopaedia Britannica. https://www.britannica.com/biography/Hisham-ibn-Abd-al-Malik
- Britannica Editors, "Qaṣr al-Ḥayr East" (with the "Islamic arts: Palaces" entry listing the Umayyad desert palaces of c. 710–750), Encyclopaedia Britannica. https://www.britannica.com/place/Qasr-al-Hayr-East
- Julius Wellhausen, The Arab Kingdom and Its Fall, trans. Margaret Graham Weir, University of Calcutta, 1927 (chapter "The Later Marwanids"). https://archive.org/details/arabkingdomandit029490mbp
- UNESCO World Heritage Centre, "Quseir Amra" (no. 327; comparison with Qasr al-Hayr al-Sharqi and al-Gharbi). https://whc.unesco.org/en/list/327/
- Syed Muhammad Khan, "Umayyad Dynasty", World History Encyclopedia, 2020. https://www.worldhistory.org/Umayyad_Dynasty/
- Wikipedia, "Qasr al-Hayr al-Gharbi" and "Qasr al-Hayr al-Sharqi" (pointer only: 727 inscription after Fowden; estates around Rusafa and Raqqa after Müller-Wiener; estates around Rusafa and Raqqa after Müller-Wiener; 728–729 date, Grabar excavations 1964–1971 and canal length after Grabar et al., City in the Desert, 1978). https://en.wikipedia.org/wiki/Qasr_al-Hayr_al-Gharbi and https://en.wikipedia.org/wiki/Qasr_al-Hayr_al-Sharqi


