طغرل بیگ: سلجوق سلطنت کا بانی
گیارہویں صدی کے آغاز میں وسطی ایشیا کے میدانوں سے ترکمان قبائل کا ایک گروہ جنوب کی طرف بڑھا، جس کی قیادت دو بھائیوں کے ہاتھ میں تھی۔ ان میں سے ایک طغرل بیگ (Tughril Beg) تھے، جنہوں نے چند…

گیارہویں صدی کے آغاز میں وسطی ایشیا کے میدانوں سے ترکمان قبائل کا ایک گروہ جنوب کی طرف بڑھا، جس کی قیادت دو بھائیوں کے ہاتھ میں تھی۔ ان میں سے ایک طغرل بیگ (Tughril Beg) تھے، جنہوں نے چند دہائیوں میں ایران کے بڑے حصے پر حکومت قائم کی اور سلجوق سلطنت کی بنیاد رکھی۔ برٹانیکا کے مطابق یہ خاندان گیارہویں سے چودھویں صدی تک ایران، عراق، شام اور اناطولیہ پر حکومت کرتا رہا۔ طغرل کا دورِ حکومت عام طور پر 1037ء سے 1063ء تک شمار کیا جاتا ہے۔
خاندانی پس منظر
برٹانیکا کے مطابق طغرل تقریباً 990ء میں پیدا ہوئے۔ وہ سلجوق کے پوتے تھے، جو دریائے سیحون (Syr Darya) کے کنارے جند کے علاقے میں اوغوز (Oghuz) ترک قبائل کے سردار تھے۔ اسی سلجوق کے نام پر یہ خاندان سلجوقی کہلایا۔
طغرل اور ان کے بھائی چغری بیگ 1016ء سے کچھ پہلے ماوراء النہر میں داخل ہوئے۔ برٹانیکا کے مطابق 1025ء میں دونوں بھائی اور ان کے چچا ارسلان بخارا کے قراخانی ترک حکمران کی ملازمت میں آئے۔ اسی سال غزنی کے سلطان محمود سے شکست کے بعد دونوں بھائیوں نے دریائے آمو کے دہانے کے قریب خوارزم میں پناہ لی۔
خراسان
اس کے بعد طغرل اور چغری خراسان میں داخل ہوئے، جہاں ان کی حکومت کی بنیاد پڑی۔ برٹانیکا کے مطابق انہوں نے بڑے شہروں کے معتبر حلقوں سے قریبی تعلقات قائم کیے اور مرو اور نیشاپور ان کی اطاعت میں آ گئے؛ برٹانیکا اس کا زمانہ 1028ء–1029ء بتاتا ہے، جبکہ دوسرے ماخذ نیشاپور میں طغرل کے داخلے کو 1037ء–1038ء کا واقعہ لکھتے ہیں۔ انہی ماخذ کے مطابق 1037ء میں سلجوق سرداروں نے طغرل کو اپنا سلطان تسلیم کیا اور جمعہ کے خطبے میں ان کا نام لیا جانے لگا۔
1040ء میں دندانقان (Dandanqan) کے مقام پر سلجوقوں نے غزنوی سلطان مسعود کو شکست دی۔ برٹانیکا کے مطابق اس کے بعد خراسان کو چغری بیگ کی الگ عملداری بنا دیا گیا، اور طغرل ایران کی سطح مرتفع کی طرف بڑھنے کے لیے آزاد ہو گئے۔ دونوں بھائیوں کی یہ تقسیم سلجوق حکومت کی ایک نمایاں خصوصیت رہی: خاندان کے مختلف افراد الگ الگ علاقوں کے منتظم ہوتے تھے۔
منظم حکمران
برٹانیکا طغرل کو ایک "باضابطہ اور منظم" حکمران قرار دیتا ہے، جس نے سوچی سمجھی منصوبہ بندی سے سلطنت قائم کی۔ برٹانیکا کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ نئے علاقوں میں پہلے ترکمان دستے، ان کے منہ بولے بھائی ابراہیم ینال کی قیادت میں، داخل ہوتے، اور پھر طغرل خود وہاں پہنچ کر ان علاقوں کا انتظام سنبھالتے۔
اسی طرح 1040ء اور 1044ء کے درمیان انہوں نے خراسان کے کیسپین سے ملحق علاقوں، رے (Rayy) اور ہمدان پر قبضہ کیا اور اصفہان پر اپنی بالادستی قائم کی۔ رے، جو موجودہ تہران کے جنوب میں ایک قدیم شہر تھا، ان کا مرکز بنا، اور یہیں ان کا انتقال ہوا۔
بغداد اور سلطان کا لقب
برٹانیکا کے مطابق 1055ء میں، عراق کے مشرق اور شمال کی ریاستوں کو زیر کرنے کے بعد، طغرل بغداد میں داخل ہوئے۔ برٹانیکا کے الفاظ میں اس کے بعد سلجوقوں نے بغداد کی عباسی خلافت پر "سیاسی بالادستی" قائم کر لی۔ ان کے القاب میں "رکن الدولہ" اور "ملک المشرق و المغرب" (مشرق و مغرب کا بادشاہ) شامل تھے۔
اپنی زندگی کے آخری برس انہوں نے شمال مغربی ایران کے چھوٹے حکمرانوں کو زیر کرنے میں گزارے۔
انتظامی ڈھانچہ
طغرل کی حکومت میں انتظامی امور ان کے وزیر عمید الملک کندری (al-Kunduri) کے سپرد تھے۔ برٹانیکا کے مطابق سلجوق دور میں فارسی تہذیب کو خودمختاری اور فروغ ملا؛ چونکہ ترکمان سلجوقوں کی اپنی کوئی مضبوط ادبی روایت نہیں تھی، انہوں نے اپنے ایرانی اساتذہ کی ثقافتی زبان اپنا لی، اور ادبی فارسی پورے ایران میں پھیل گئی۔
وفات
برٹانیکا کے مطابق طغرل بیگ کا انتقال ستمبر 1063ء میں رے میں ہوا؛ بعض ماخذ اکتوبر 1063ء لکھتے ہیں۔ ان کے بعد ان کے بھتیجے، چغری بیگ کے بیٹے، الپ ارسلان سلطان بنے۔
رے میں اینٹوں کا ایک بلند، کنگورے دار مینار روایتی طور پر "برجِ طغرل" کہلاتا ہے اور اسے ان کے مقبرے سے منسوب کیا جاتا ہے، اگرچہ اس نسبت پر محققین متفق نہیں۔
ورثہ
طغرل نے قبائلی سرداروں کے ایک گروہ کو ایک باقاعدہ سلطنت میں بدل دیا۔ برٹانیکا کے مطابق ان کے جانشین الپ ارسلان اور ملک شاہ کے دور میں یہ سلطنت پورے ایران، عراق اور شام تک پھیل گئی، اور وزیر نظام الملک نے اس کے انتظامی ڈھانچے کو منظم کیا۔ اسی دور میں اصفہان کی جامع مسجد جیسی عمارتیں بنیں اور فارسی زبان اس پورے خطے کی ادبی اور سرکاری زبان کے طور پر مستحکم ہوئی۔ یہ سب اس بنیاد پر کھڑا تھا جو طغرل بیگ نے رکھی تھی۔
ماخذ
- Encyclopaedia Britannica, "Toghrïl Beg". https://www.britannica.com/biography/Toghril-Beg
- Encyclopaedia Britannica, "Seljuq". https://www.britannica.com/topic/Seljuq
- Wikipedia, "Tughril" (pointer only: proclamation in 1037, Nishapur in 1038, titles Rukn al-Dawla and Malik al-Mashriq wa l-Maghrib, vizier al-Kunduri, death on 4 October 1063, the Tughril Tower). https://en.wikipedia.org/wiki/Tughril

