سلطان زین العابدین (بڈشاہ): کشمیر کے پُل، نہریں اور دستکاریاں
سری نگر میں دریائے جہلم پر بنے پرانے پُلوں میں سے ایک کو آج بھی "زینہ کدل" کہا جاتا ہے، یعنی زین کا پُل۔ یہ نام پندرہویں صدی کے کشمیری سلطان زین العابدین (Zain-ul-Abidin) کی یاد دلاتا ہے، جنہیں کشمیری…

سری نگر میں دریائے جہلم پر بنے پرانے پُلوں میں سے ایک کو آج بھی "زینہ کدل" کہا جاتا ہے، یعنی زین کا پُل۔ یہ نام پندرہویں صدی کے کشمیری سلطان زین العابدین (Zain-ul-Abidin) کی یاد دلاتا ہے، جنہیں کشمیری "بڈشاہ" یعنی "بڑا بادشاہ" کہتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً پچاس برس، 1418ء/1420ء سے 1470ء تک، کشمیر پر حکومت کی۔ انیسویں صدی کے برطانوی منتظم والٹر لارنس (Walter Lawrence) کے مطابق کشمیری اس طویل دور کو اپنی تاریخ کا سب سے خوشحال زمانہ قرار دیتے تھے۔
تخت نشینی
زین العابدین کشمیر کے شاہ میری خاندان کے سلطان سکندر کے بیٹے تھے۔ عام طور پر ان کی پیدائش 1401ء کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ لارنس 1417ء کو ان کی تخت نشینی کا سال لکھتے ہیں، جبکہ بعد کی تحقیق کے مطابق وہ 1418ء میں مختصر عرصے کے لیے اور پھر 1420ء سے مستقل طور پر حکمران رہے۔
لارنس کے مطابق تخت سنبھالتے ہی انہوں نے پچھلے حکمرانوں کے قید کیے ہوئے لوگوں کو رہا کیا اور درمیانی تاجروں (مڈل مین) کے منافع کو قواعد کا پابند بنایا۔ حکومت کی روزمرہ تفصیلات انہوں نے اپنے بھائی محمد خان کے سپرد کیں، اور خود بڑی پالیسیوں پر توجہ دی۔
سادہ زندگی
لارنس کے مطابق زین العابدین ذاتی زندگی میں بااصول، ضبطِ نفس رکھنے والے اور کفایت شعار تھے۔ وہ اپنے شاہی گھرانے کے تمام اخراجات تانبے کی ایک کان کی آمدنی سے پورے کرتے تھے جو انہوں نے خود دریافت کرائی تھی۔ لارنس لکھتے ہیں کہ پرانی تاریخوں میں یہ بات درج ہے، اور لدر وادی کے ایک پہاڑ سے کبھی تانبا نکالے جانے کی روایت بھی موجود ہے۔
نہریں، پُل اور بند
زین العابدین کا سب سے نمایاں کام پانی اور راستوں کا انتظام تھا۔ لارنس کے مطابق وہ کسانوں کے پکے دوست تھے اور انہوں نے بہت سے پُل اور بہت سی نہریں بنوائیں۔ ان کے دور میں ڈل جھیل کا پانی ایک راستے سے جہلم میں گرتا تھا؛ سلطان نے یہ راستہ بند کر کے پانی "نالہ مار" کی طرف موڑا اور اس پر پتھر کے سات پُل بنوائے۔ انہوں نے اندرکوٹ سے سوپور تک ایک بڑی پختہ سڑک (بند) بھی تعمیر کرائی۔ کشمیر کی سندھ ندی سے پانی لا کر ان کے محل "زینہ ڈب" کو سیراب کیا جاتا تھا۔
وُلر جھیل کا جزیرہ
لارنس کے مطابق سلطان کا پسندیدہ مشغلہ وُلر جھیل میں کشتی رانی تھا، اور انہوں نے اس جھیل میں ایک جزیرہ بنوا کر اس پر ایک محل اور دوسری عمارتیں تعمیر کرائیں۔ لارنس، جنہوں نے 1890ء کی دہائی میں یہ جزیرہ دیکھا، لکھتے ہیں کہ اس کے کھنڈرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کبھی بہت خوبصورت جگہ تھی۔ لارنس کے مطابق جب یہ جزیرہ بنایا گیا تو یہ جھیل کے بیچ میں تھا، مگر صدیوں میں مٹی بھرنے سے جھیل سکڑ گئی اور اب جزیرہ ایک کونے میں رہ گیا ہے۔ لارنس کے مطابق سلطان جہاں جاتے، وہاں باغ لگواتے تھے۔
دستکاریاں اور ہنر
کشمیر کی کئی مشہور دستکاریوں کی ابتدا زین العابدین کے دور سے جوڑی جاتی ہے۔ لارنس کے مطابق سلطان نے بیرونی ممالک سے کئی فنون اور صنعتیں کشمیر میں متعارف کرائیں۔ کاغذ سازی کے بارے میں لارنس لکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ یہ ہنر، اور جلد سازی بھی، سلطان سمرقند سے لائے، اور کاغذ بنانے والوں کو سری نگر کے نوشہر محلے میں بسایا گیا۔ لارنس کے زمانے میں بھی وہاں چھتیس خاندان یہ کام کرتے تھے، اور کشمیری ہاتھ کا بنا کاغذ کبھی بہت مشہور تھا۔
لارنس کے مطابق کشمیری یہ بھی بتاتے ہیں کہ ریشم کے کیڑے پالنے کا کام زین العابدین کے دور میں موجود تھا، بعد میں ختم ہو گیا اور پھر دوبارہ شروع ہوا۔
علم، موسیقی اور ترجمے
لارنس کے مطابق سلطان ادب، فنونِ لطیفہ اور آتش بازی کے سرپرست تھے، اور ان کا دربار شاعروں، موسیقاروں اور گویّوں سے بھرا رہتا تھا۔ ان کے دور میں سرکاری کام کی زبان کے طور پر فارسی کا استعمال بڑھا۔ عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ ان کے حکم سے سنسکرت کی مشہور کتابوں مہابھارت اور کلہن کی "راج ترنگنی" کے فارسی ترجمے کیے گئے۔
ان کے دور کی تاریخ بھی محفوظ ہے۔ لارنس کے مطابق کشمیر کی سنسکرت تاریخ "راج ترنگنی" کو پنڈت جونراج نے زین العابدین کے دور تک آگے بڑھایا، اور شری ور نے سلطان کے باقی دور اور ان کی اولاد کی تاریخ لکھی۔
وسعت
لارنس کے مطابق ان کا دور مکمل طور پر پُرامن نہیں تھا؛ ان کی حکومت تبت اور پنجاب کے کچھ حصوں تک پھیلی، اور کشمیر کے اندر بھی بعض گروہوں سے انہیں مشکلات کا سامنا رہا۔
وفات
لارنس کے مطابق زین العابدین کا انتقال انہتر برس کی عمر میں ہوا، اور انہوں نے کشمیر پر طویل عرصے تک اچھی حکومت کی۔ عام طور پر ان کی وفات مئی 1470ء میں بتائی جاتی ہے۔ ان کا مقبرہ سری نگر میں زینہ کدل کے نیچے دریا کے کنارے ہے۔ لارنس کے مطابق وہ ایک نرم دل، فیاض اور باکمال حکمران کی شہرت چھوڑ گئے، مگر اپنے جانشینوں کے لیے کوئی پائیدار نظامِ حکومت نہیں چھوڑ سکے۔
ورثہ
پانچ صدیوں بعد بھی زین العابدین کا نام سری نگر کے زینہ کدل، وُلر جھیل کے جزیرے، اور کشمیر کے کاغذ، جلد سازی اور دوسری دستکاریوں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کشمیری انہیں آج بھی "بڈشاہ" کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔
ماخذ
- Walter R. Lawrence, The Valley of Kashmír, Henry Frowde, London, 1895 (ch. VII "Political History", and the sections on lakes, minerals and industries). https://archive.org/details/valleyofkashmir00lawr
- Wikipedia, "Zayn al-Abidin the Great" (pointer only: birth c. 1401, reign 1418–1419 and 1420–1470, death on 12 May 1470, Persian translations of the Mahabharata and Rajatarangini). https://en.wikipedia.org/wiki/Zayn_al-Abidin_the_Great

