احمد بن طولون: مصر کا منتظم اور قاہرہ کی سرخ اینٹوں والی مسجد کا معمار
قاہرہ کے پرانے حصے میں سرخ اینٹوں کی ایک وسیع عمارت ہے جس کا مینار باہر کی طرف گھومتی ہوئی سیڑھی کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ مسجدِ ابنِ طولون ہے، جو نویں صدی میں مصر کے…

قاہرہ کے پرانے حصے میں سرخ اینٹوں کی ایک وسیع عمارت ہے جس کا مینار باہر کی طرف گھومتی ہوئی سیڑھی کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ مسجدِ ابنِ طولون ہے، جو نویں صدی میں مصر کے حکمران احمد بن طولون (Ahmad ibn Tulun) نے بنوائی۔ احمد بن طولون نے 868ء سے 884ء تک مصر پر اور بعد میں شام پر بھی حکومت کی، اور برٹانیکا کے مطابق وہ طولونی خاندان کے بانی اور مصر کے پہلے ایسے مسلم حکمران تھے جنہوں نے شام کو بھی اپنی عملداری میں شامل کیا۔
ابتدائی زندگی
برٹانیکا کے مطابق احمد بن طولون ستمبر 835ء میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان ترک نسل سے تھا۔ بچپن میں وہ غلام بنا کر عباسی خلیفہ کی ذاتی خدمت میں نئے عباسی دارالحکومت سامرا (Samarra) پہنچے۔ بعد میں انہوں نے موجودہ ترکی کے شہر طرسوس (Tarsus) میں تعلیم حاصل کی، اور پھر عباسی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں ترقی کرتے گئے۔
سامرا میں گزرا ہوا وقت ان کی بعد کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ مصر میں ان کی بنوائی ہوئی عمارتوں میں سامرا کے طرزِ تعمیر کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔
مصر آمد اور انتظام
868ء میں احمد بن طولون مصر کے گورنر کے نائب کی حیثیت سے وہاں پہنچے۔ برٹانیکا کے مطابق انہوں نے جلد اندازہ لگا لیا کہ صوبے میں اصل اختیار مالیات کے منتظم کے پاس ہے، اور اگلے چند برسوں میں انہوں نے محکمۂ مالیات کو اپنے انتظام میں لے لیا۔ برٹانیکا کی طولونی خاندان سے متعلق تحریر کے مطابق 868ء سے 872ء تک انہوں نے مصر میں اپنی الگ فوج منظم کی اور مصر و شام کے خزانوں کا انتظام سنبھالا۔
878ء میں شام بھی ان کے انتظام میں آ گیا۔ برٹانیکا کے مطابق انہوں نے خلیفہ سے رسمی طور پر کبھی علیحدگی کا اعلان نہیں کیا، لیکن عملاً وہ ایک خودمختار حکمران تھے اور ایک وقت کے بعد انہوں نے بغداد کو خراج بھیجنا بند کر دیا۔ ان کے دور کے سونے کے دیناروں پر خلیفہ کے نام کے ساتھ ان کا اپنا نام بھی کندہ ہونے لگا۔
معیشت اور زراعت
احمد بن طولون کو ان کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ برٹانیکا کے مطابق انہوں نے زرعی پیداوار بڑھائی جس سے ٹیکس کی آمدنی میں اضافہ ہوا، اور اس کامیابی کا ثبوت وہ فاضل رقم تھی جو ان کی وفات کے وقت خزانے میں موجود تھی۔ برٹانیکا یہ بھی لکھتا ہے کہ ان کے دور میں مصر اور شام کے صوبوں میں زراعت ترقی کرتی رہی اور تجارت اور صنعت کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
نیا دارالحکومت: القطائع
مصر کا پرانا مرکز فسطاط (Fustat) تھا۔ احمد بن طولون نے اس کے شمال مشرق میں ایک نیا شاہی شہر القطائع (al-Qata'i) بسایا، جس کی بنیاد عام طور پر 870ء میں بتائی جاتی ہے۔ "قطائع" کا مطلب ہے حصے یا قطعات: شہر کو مختلف محلوں میں بانٹا گیا تھا اور فوج کے ہر دستے کو ایک الگ حصہ دیا گیا، جس کا نام اسی دستے پر پڑا۔ یہ منصوبہ عباسی دارالحکومت سامرا کے نمونے پر بنایا گیا تھا۔
برٹانیکا کے مطابق طولونیوں نے سرکاری تعمیرات کا ایک پورا پروگرام شروع کیا، جس میں القطائع اور اس کی عظیم مسجد شامل تھی۔ القطائع کا زیادہ تر حصہ بعد کی صدیوں میں ختم ہو گیا اور آج یہ علاقہ قاہرہ شہر کا حصہ ہے؛ اس شہر کی سب سے بڑی باقی نشانی یہی مسجد ہے۔
مسجدِ ابنِ طولون
برٹانیکا کے مطابق یہ مسجد 876ء میں بنائی گئی، اور یونیسکو اس کی تعمیر کا زمانہ 876ء سے 879ء بتاتا ہے۔ برٹانیکا اسے سرخ اینٹوں کی ایک "عظیم اور شاندار" عمارت قرار دیتا ہے، جس کے مرکزی حصے کو تین طرف سے بیرونی احاطے گھیرے ہوئے ہیں، جنہیں عربی میں "زیادہ" کہا جاتا ہے۔
یہ عمارت اینٹ اور گچ سے بنی ہے۔ برٹانیکا کے مطابق یہ دونوں مواد اس سے پہلے مصر کے فنِ تعمیر میں بہت کم استعمال ہوتے تھے مگر عراق میں عام تھے، اور مسجد کا نمونہ سامرا میں خلیفہ المتوکل کی بنوائی ہوئی جامع مسجد تھی۔ مسجد کی بیرونی دیواروں کے اوپر کنگورے ہیں جنہیں آرائشی شکل دے کر جالی دار بنایا گیا ہے۔ صحن کے گرد چوڑی محرابوں اور بھاری ستونوں کے برآمدے ہیں، اور محرابوں پر گچ میں کندہ نفیس نقش و نگار ہیں۔ چھت والا اندرونی حصہ ستونوں کے ذریعے پانچ لمبی قطاروں میں تقسیم ہے، جن پر اصل میں لکڑی کے کندہ تختے لگے ہوئے تھے۔
مینار اور بعد کی تاریخ
مسجد کا موجودہ مینار اس کی سب سے مشہور خصوصیت ہے۔ برٹانیکا کے مطابق 1296ء اور 1299ء کے درمیان مسجد کی بڑی مرمت ہوئی اور اسی دوران مینار دوبارہ بنایا گیا۔ اس کی تین منزلیں ہیں اور ہر منزل کی شکل الگ ہے: پہلی چوکور، دوسری گول جس کے گرد سیڑھی گھومتی ہے، اور تیسری ہشت پہلو۔ یونیسکو بھی اس کے گھومتے ہوئے مینار کا ذکر کرتا ہے۔
صدیوں میں اس عمارت نے کئی رنگ دیکھے۔ برٹانیکا کے مطابق اٹھارہویں صدی میں یہاں پیٹیاں بنانے کا کارخانہ رہا اور 1814ء میں اسے دکانوں میں بانٹ دیا گیا۔ 1890ء میں اسے تاریخی یادگار قرار دیا گیا اور اس کے بعد اس کی مکمل بحالی ہوئی۔ آج یہ یونیسکو کے عالمی ورثے "تاریخی قاہرہ" کا حصہ ہے۔
وفات اور جانشین
احمد بن طولون کا انتقال 884ء میں ہوا؛ برٹانیکا ان کی وفات کا مہینہ مارچ بتاتا ہے جبکہ بعض دوسرے ماخذ مئی لکھتے ہیں۔ ان کے بعد ان کے بیٹے خمارویہ حکمران بنے۔ برٹانیکا کے مطابق احمد کا دور طولونی تاریخ کا سب سے اہم دور تھا؛ ان کے جانشینوں کے زمانے میں مالی اور فوجی استحکام کمزور پڑ گیا اور 905ء میں مصر دوبارہ براہِ راست عباسی انتظام میں آ گیا۔
ورثہ
برٹانیکا کے مطابق طولونیوں کے دور میں بغداد اور سامرا کی عباسی فنی روایات پہلی بار مغربی اسلامی دنیا میں آئیں، اور بعد میں مصر پر حکومت کرنے والوں کے فن پر بھی ان کا اثر پڑا۔ احمد بن طولون کا شہر القطائع تو مٹ گیا، مگر اینٹ اور گچ کی ان کی مسجد گیارہ صدیوں سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی قاہرہ میں کھڑی ہے۔
ماخذ
- Encyclopaedia Britannica, "Aḥmad ibn Ṭūlūn". https://www.britannica.com/biography/Ahmad-ibn-Tulun
- Encyclopaedia Britannica, "Ṭūlūnid dynasty". https://www.britannica.com/topic/Tulunid-dynasty
- Encyclopaedia Britannica, "Mosque of Aḥmad ibn Ṭūlūn". https://www.britannica.com/topic/Mosque-of-Ahmad-ibn-Tulun
- UNESCO World Heritage Centre, "Historic Cairo". https://whc.unesco.org/en/list/89/
- Wikipedia, "Ahmad ibn Tulun" (pointer only: founding of al-Qata'i in 870 and its ward plan, his name on coins, death in May 884). https://en.wikipedia.org/wiki/Ahmad_ibn_Tulun







