امیر تیمور: سمرقند کی عمارتیں اور تیموری دور کی ابتدا
وسطی ایشیا کے شہر سمرقند (Samarkand) میں فیروزی رنگ کے پسلیوں والے گنبد کے نیچے ایک مقبرہ ہے جسے گورِ امیر (Gur-e Amir) کہا جاتا ہے۔ برٹانیکا کے مطابق یہ اسلامی فن کے نگینوں میں سے ہے، اور اس میں…

وسطی ایشیا کے شہر سمرقند (Samarkand) میں فیروزی رنگ کے پسلیوں والے گنبد کے نیچے ایک مقبرہ ہے جسے گورِ امیر (Gur-e Amir) کہا جاتا ہے۔ برٹانیکا کے مطابق یہ اسلامی فن کے نگینوں میں سے ہے، اور اس میں امیر تیمور (Timur) دفن ہیں، جنہوں نے 1370ء کے لگ بھگ سے 1405ء تک حکومت کی۔ تیمور کی زندگی کا بڑا حصہ جنگی مہمات میں گزرا، اور برٹانیکا کے مطابق انہیں سب سے زیادہ ان مہمات کی تباہ کاریوں کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے؛ مگر برٹانیکا یہ بھی لکھتا ہے کہ ان کی سب سے دیرپا یادگار سمرقند کی تیموری عمارتیں ہیں۔ یہ مضمون انہی پہلوؤں تک محدود ہے۔
ابتدائی زندگی
برٹانیکا کے مطابق تیمور 1336ء میں سمرقند کے قریب کش (Kesh) میں پیدا ہوئے، جو آج ازبکستان کا شہر شہرِ سبز ہے۔ ان کا تعلق برلاس قبیلے سے تھا، جو منگول نسل کا ایک گروہ تھا جو ترک تہذیب میں ڈھل چکا تھا اور چنگیز خان کے بیٹے چغتائی کی مہمات کے بعد ماوراء النہر میں آباد ہو گیا تھا۔ یوں تیمور کی پرورش چغتائی خانیت میں ہوئی۔
برٹانیکا کے مطابق ابتدا میں تیمور خانہ بدوشوں کے ایک چھوٹے گروہ کے سردار تھے۔ 1366ء کے لگ بھگ ماوراء النہر پر ان کی گرفت مضبوط ہو گئی، اور تقریباً 1370ء میں انہوں نے سمرقند میں اپنی حکمرانی کا اعلان کیا۔
وسعت
برٹانیکا کے مطابق اگلی تین دہائیوں میں تیمور کی فوجیں منگولیا کی سرحدوں سے بحیرۂ روم تک اور ہندوستان سے روس تک کے علاقوں میں پہنچیں۔ ان مہمات میں کئی شہر برباد ہوئے۔
خیمے کا دربار
تیمور کی زندگی کا انداز خانہ بدوش روایت پر قائم رہا۔ برٹانیکا کے مطابق انہوں نے کبھی کوئی مستقل رہائش اختیار نہیں کی۔ جب وہ کسی مہم پر نہ ہوتے تو موسم اور چراگاہوں کے حساب سے اپنی فوج کے ساتھ جگہ بدلتے رہتے تھے، اور ان کا دربار بھی ان کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ برٹانیکا کے مطابق ان کی کوشش تھی کہ ان کا دارالحکومت سمرقند ایشیا کا سب سے شاندار شہر بنے، مگر جب وہ سمرقند آتے تو چند دن ہی شہر میں رہتے اور پھر شہر سے باہر میدانوں میں اپنے خیموں میں لوٹ جاتے۔
سمرقند کی تعمیرات
برٹانیکا کے مطابق تیمور کی سب سے دیرپا یادگاریں سمرقند کی تیموری عمارتیں ہیں، جو نیلے، فیروزی، سنہرے اور سنگِ مرمر جیسے رنگوں کے موزیک سے سجی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی عمارت شہر کی جامع مسجد ہے، جو بی بی خانم مسجد کہلاتی ہے۔ برٹانیکا کے مطابق یہ زلزلے سے تباہ ہو گئی، مگر اس کے عظیم گنبد کا باقی حصہ آج بھی بلند کھڑا ہے۔ برٹانیکا ہسپانوی سفیر کلاویخو کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سمرقند میں ایک مسجد کی تعمیر کے لیے کانوں سے پتھر لانے میں نوے ہاتھی استعمال ہوئے۔
یونیسکو کے مطابق سمرقند، جس کی تاریخ ڈھائی ہزار برس سے زیادہ پرانی ہے، کا سب سے اہم ترقیاتی دور چودھویں اور پندرہویں صدی کا تیموری دور تھا، جب یہ ایک طاقتور سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ یونیسکو کے مطابق بی بی خانم مسجد اور ریگستان چوک جیسی عمارتوں نے بحیرۂ روم سے برصغیر تک پورے خطے کے اسلامی فنِ تعمیر پر گہرا اثر ڈالا۔ سمرقند کو یونیسکو نے "ثقافتوں کا سنگم" کے نام سے عالمی ورثے میں شامل کیا ہے۔
شہرِ سبز کا آق سرائے
تیمور کے آبائی شہر میں بھی ایک بڑی عمارت بنی۔ یونیسکو کے مطابق شہرِ سبز میں آق سرائے (سفید محل) کی تعمیر 1380ء میں شروع ہوئی، اور اس کی آرائش کے لیے خوارزم کے کاریگر لائے گئے۔ یونیسکو کے مطابق سمرقند میں تیموری دور کی بہت سی یادگاریں ہیں، مگر کوئی بھی آق سرائے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ آج اس محل کے عظیم الشان دروازے کی بنیادیں باقی ہیں، اور شہرِ سبز کا تاریخی مرکز بھی عالمی ورثے میں شامل ہے۔
کلاویخو کی سفارت
تیمور کے دور کے سمرقند کا ایک قیمتی آنکھوں دیکھا حال ایک یورپی سفیر نے لکھا۔ برٹانیکا کے مطابق قشتالہ (اسپین) کے بادشاہ ہنری سوم کے درباری روئی گونزالیز دے کلاویخو (Ruy González de Clavijo) مئی 1403ء میں اسپین سے روانہ ہوئے اور قسطنطنیہ، طرابزون اور ایران سے ہوتے ہوئے سمرقند پہنچے، جہاں سفارت کا اچھا استقبال ہوا۔ وہ 1406ء میں اسپین واپس پہنچے۔ ان کا سفرنامہ، جس میں سمرقند کا بہت جاندار بیان ہے، میڈرڈ کی قومی لائبریری میں دو قلمی نسخوں کی صورت میں محفوظ ہے۔
وفات
برٹانیکا کے مطابق 1404ء میں تیمور سمرقند لوٹے اور چین کی مہم کی تیاری شروع کی۔ دسمبر میں وہ روانہ ہوئے مگر دریائے سیحون کے کنارے اترار (Otrar) کے مقام پر بیمار پڑ گئے اور 19 فروری 1405ء کو انتقال کر گئے۔ ان کی میت سمرقند لائی گئی اور گورِ امیر میں دفن کی گئی۔ برٹانیکا کے مطابق ان کی قبر پر یشب (جیڈ) کی ایک بڑی ٹوٹی ہوئی سل ہے۔ 1941ء میں سوویت ماہرینِ آثار نے قبر کھولی تو معلوم ہوا کہ تیمور کی دائیں ٹانگ اور بازو میں معذوری تھی؛ اسی وجہ سے ان کے ایرانی مخالفین انہیں "تیمور لنگ" کہتے تھے، جو یورپ میں "ٹیمرلین" (Tamerlane) بن گیا۔
ورثہ
برٹانیکا کے مطابق تیمور کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں اور پوتوں میں جانشینی کی کشمکش ہوئی، جس کے بعد ان کے سب سے چھوٹے بیٹے شاہ رخ نے علاقے دوبارہ یکجا کیے۔ تیموری خاندان وسطی ایشیا میں ایک صدی تک قائم رہا۔ اس دور میں سمرقند علم اور سائنس کا مرکز بنا، جہاں تیمور کے پوتے الغ بیگ نے رصدگاہ قائم کی، اور ہرات فارسی مصوری کے ایک شاندار مکتب کا مرکز بنا۔ برٹانیکا کے مطابق سولہویں صدی کے آغاز میں تیمور کی نسل کے ظہیر الدین بابر نے کابل اور پھر دہلی پہنچ کر مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی (ان پر اس سلسلے کی پہلی قسط دیکھیے)۔
ماخذ
- Encyclopaedia Britannica, "Timur". https://www.britannica.com/biography/Timur
- Encyclopaedia Britannica, "Ruy González de Clavijo". https://www.britannica.com/biography/Ruy-Gonzalez-de-Clavijo
- UNESCO World Heritage Centre, "Samarkand – Crossroad of Cultures". https://whc.unesco.org/en/list/603/
- UNESCO World Heritage Centre, "Historic Centre of Shakhrisyabz". https://whc.unesco.org/en/list/885/

