میر نصیر خان نوری: قلات کی ریاست کا منتظم اور سپہ سالار
اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط میں جب ایران میں نادر شاہ کی سلطنت بکھر رہی تھی اور افغانستان میں احمد شاہ درانی ایک نئی طاقت بن کر ابھر رہا تھا، بلوچستان کے پہاڑی شہر قلات میں ایک حکمران تخت پر…

اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط میں جب ایران میں نادر شاہ کی سلطنت بکھر رہی تھی اور افغانستان میں احمد شاہ درانی ایک نئی طاقت بن کر ابھر رہا تھا، بلوچستان کے پہاڑی شہر قلات میں ایک حکمران تخت پر بیٹھا جس نے اس خطے کے قبائل کو ایک منظم ریاست کی شکل دی۔ یہ میر محمد نصیر خان اول (Mir Nasir Khan I) تھے، جو احمد زئی خاندان کے ساتویں خان تھے اور تقریباً 1750ء سے 1790ء کی دہائی کے وسط تک حکمران رہے۔ 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر کے مطابق براہوی انہیں "عظیم" کے لقب سے یاد کرتے ہیں اور وہ ان کی تاریخ کے ہیرو ہیں۔
پس منظر: احمد زئی خاندان
امپیریل گزیٹیئر آف انڈیا (بلوچستان) کے مطابق قلات کے احمد زئی خان میرواڑی قبیلے سے تھے، اور خاندان کا نام میر احمد کے نام پر پڑا جو 1666ء کے لگ بھگ برسرِ اقتدار آئے۔ ان کے جانشینوں نے سبی، ژوب اور مکران کی طرف مہمات کیں۔ میر عبداللہ خان، جنہیں گزیٹیئر اس خاندان کا سب سے بڑا فاتح کہتا ہے، کچھی میں کلہوڑوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔
ان کے جانشین میر محبت خان کے دور میں نادر شاہ ایران کا حکمران بنا۔ گزیٹیئر کے مطابق 1740ء میں نادر شاہ نے میر عبداللہ کے خون کے معاوضے کے طور پر کچھی کا زرخیز علاقہ قلات کو دے دیا۔ محبت خان اور ان کے بھائی نصیر خان نے یہاں کی زمینیں قبائل میں اس شرط پر تقسیم کیں کہ وہ خان کی فوج کے لیے مقررہ تعداد میں مسلح آدمی فراہم کریں گے۔
اقتدار تک رسائی
برطانوی افسر ہنری پوٹنجر (Henry Pottinger) نے 1810ء میں قلات کا سفر کیا اور 1816ء میں اپنی کتاب میں وہاں کی تاریخ مقامی روایات کی بنیاد پر لکھی۔ ان کے مطابق نصیر خان نادر شاہ کے ساتھ دہلی کی مہم پر گئے تھے اور اپنی بہادری اور سمجھ بوجھ سے نادر شاہ کو متاثر کیا۔ قلات واپسی پر انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی جگہ اقتدار سنبھالا، جن کی سخت گیر حکومت سے پوٹنجر کے بقول لوگ تنگ آ چکے تھے۔
امپیریل گزیٹیئر کے مطابق نصیر خان پہلے حکمران تھے جنہیں افغان بادشاہوں کی طرف سے "بیگلر بیگی" (سرداروں کا سردار) اور "والیِ قلات" کے خطابات ملے۔
ریاست کی تنظیم
گزیٹیئر ان کے 44 سالہ دور کو "سخت محنت والے انتظام اور تنظیم" کا زمانہ قرار دیتا ہے۔ براہوی قبائل دو بڑے حصوں میں بٹے ہوئے تھے: قلات کے شمال میں سراوان اور جنوب میں جھالاوان۔ گزیٹیئر کے مطابق ان قبائل کو ایک وفاق کی شکل نصیر خان نے دی: ہر قبیلہ مقررہ تعداد میں مسلح آدمی فراہم کرنے کا پابند تھا، اور قبیلوں کے آپس کے تنازعات حکمران کے سامنے پیش کیے جاتے تھے۔
پوٹنجر کے مطابق نصیر خان نے تخت سنبھالتے ہی تجارتی سامان پر محصول کم کیے اور گھوڑوں اور مویشیوں پر چنگی ختم کر دی۔ انہوں نے شکارپور اور دوسرے تجارتی شہروں کے ہندو تاجروں کو قلات میں آباد ہونے کی دعوت دی اور انہیں اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے کی اجازت دی۔ پھر انہوں نے قبائلی دستے جمع کر کے خضدار، پنجگور، کیچ، قصرقند، دزک اور خاران کا دورہ کیا اور راستے میں ہر صوبے کا انتظام درست کیا۔ قلات واپس آ کر انہوں نے شہر کی موجودہ فصیل تعمیر کرائی اور وادی میں اپنے خرچ پر باغ لگوائے جن کے لیے پھلدار درخت کابل اور ایران سے منگوائے گئے۔ وہ ہر سال سردیوں کا کچھ حصہ کچھی میں گزارتے تھے، اور یہ روایت ان کے بیٹے کے دور تک جاری رہی۔
گزیٹیئر کے مطابق ان کا دور ان اندرونی خانہ جنگیوں سے پاک رہا جن سے قلات کی بعد کی تاریخ بھری ہوئی ہے۔
مکران اور گوادر
نصیر خان کی سب سے طویل مہمات مکران میں تھیں، جہاں اس وقت گچکی خاندان کا اثر تھا۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق انہوں نے مکران کی طرف نو مہمات کیں۔ 1907ء کے مکران گزیٹیئر کے مطابق یہ مہمات کامیابی اور ناکامی دونوں سے دوچار رہیں، اور آخرکار ایک سمجھوتا ہوا جس کے تحت علاقے کا انتظام گچکیوں کے پاس رہا اور آدھا محصول ہر سال قلات کو جانے لگا۔ گزیٹیئر کے مطابق یہ سمجھوتا غالباً 1778ء سے پہلے طے پایا۔
اسی دور میں مسقط کے حکمران کے بھائی سید سلطان اپنے خاندان سے اختلاف کے بعد مکران آئے اور نصیر خان سے رابطہ کیا۔ مکران گزیٹیئر کے مطابق نصیر خان نے گوادر کے محصول میں سے قلات کا حصہ ان کے گزارے کے لیے دے دیا۔
افغان بادشاہ سے تعلقات
پوٹنجر کے مطابق 1747ء میں نادر شاہ کے قتل کے بعد نصیر خان نے احمد شاہ درانی کو بادشاہ تسلیم کیا۔ 1758ء میں دونوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ پہلے نصیر خان نے احمد شاہ کی بھیجی ہوئی فوج کو شکست دی، مگر جب بادشاہ خود آیا تو مستونگ کی لڑائی میں نصیر خان کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق اس کے بعد قلات نے احمد شاہ کے تین حملے پسپا کیے۔
پوٹنجر کے مطابق آخرکار ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت خان کوئی خراج نہیں دے گا، مگر طلب کیے جانے پر اپنی فوج بادشاہ کے لشکر میں بھیجے گا، اور افغانستان کی کسی خانہ جنگی میں حصہ نہیں لے گا۔
بعد کے برسوں میں نصیر خان احمد شاہ کی مہمات میں شریک رہے۔ پوٹنجر کے مطابق 1761ء-1762ء میں وہ لاہور کے قریب ایک لڑائی میں موجود تھے، اور 1769ء کے لگ بھگ خراسان میں مشہد اور طبس کی لڑائیوں میں ان کے بلوچ سواروں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے صلے میں احمد شاہ نے شال (موجودہ کوئٹہ) اور مستونگ کے اضلاع اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر ہڑند داجل کا علاقہ انہیں دے دیا۔
آخری ایام اور ورثہ
پوٹنجر کے مطابق نصیر خان کا انتقال جون 1795ء میں بہت بڑی عمر میں ہوا۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں، اور ان کے بڑے بیٹے محمود خان، جن کی عمر اس وقت تقریباً چودہ برس تھی، خان بنے۔ گزیٹیئر کے مطابق محمود خان کا دور بغاوتوں کی نذر ہو گیا، اور پوٹنجر لکھتے ہیں کہ نصیر خان کی وفات کے بعد سندھ کے امرا نے کراچی کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا اور کئی دور دراز صوبے خان کی اطاعت سے نکل گئے۔
پوٹنجر کے مطابق ان کا نام بلوچستان کے لوگوں میں انصاف کی ایک ضرب المثل بن چکا تھا۔ امپیریل گزیٹیئر انہیں "دانا اور قابل منتظم" کہتا ہے جو بنیادی طور پر ایک سپاہی اور فاتح تھے۔
میر نصیر خان کا دور قلات کی ریاست کے عروج کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے قبائل کو ایک نظام میں جوڑا، تجارت کو فروغ دیا اور مکران سے کچھی تک اپنا اثر قائم کیا، اور ان کے بعد آنے والے خانوں کے دور میں ریاست کا یہ پھیلاؤ برقرار نہ رہ سکا۔
ماخذ
- R. Hughes-Buller (compiler), Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908 (history of the Ahmadzai Khans, pp. 14–16; Brahuis, p. 89; Sarawan, p. 159; Kalat town, p. 164; Makran, pp. 182–185). Internet Archive: https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan
- Baluchistan District Gazetteer Series, Vols. VII and VII-A: Makran and Kharan, Times Press, Bombay, 1907 (History of Makran; article on Gwadar). Internet Archive: https://archive.org/details/bub_gb_jb61AAAAIAAJ
- Henry Pottinger, Travels in Beloochistan and Sinde; Accompanied by a Geographical and Historical Account of Those Countries, Longman, Hurst, Rees, Orme and Brown, London, 1816 (History of Beloochistan, pp. 280–287). Internet Archive: https://archive.org/details/travelsinbelooc00pottgoog
- "Khanate of Kalat", Wikipedia (pointer: reign dates and the differing views of the 1758 settlement). https://en.wikipedia.org/wiki/Khanate_of_Kalat







