چنگیز خان: منگول قبائل کا سردار جس نے دنیا کی سب سے بڑی زمینی سلطنت کی بنیاد رکھی
بارھویں صدی عیسوی کے آخر میں منگولیا کے وسیع گھاس کے میدانوں میں درجنوں خانہ بدوش قبائل آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ انہی میں ایک لڑکا تیموجن (Temujin) پیدا ہوا جو آگے چل کر چنگیز خان (Genghis Khan) کہلایا۔ اس…

بارھویں صدی عیسوی کے آخر میں منگولیا کے وسیع گھاس کے میدانوں میں درجنوں خانہ بدوش قبائل آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ انہی میں ایک لڑکا تیموجن (Temujin) پیدا ہوا جو آگے چل کر چنگیز خان (Genghis Khan) کہلایا۔ اس نے 1206ء سے 1227ء میں اپنی وفات تک حکومت کی اور ان قبائل کو متحد کر کے ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جسے اس کے جانشینوں نے تاریخ کی سب سے بڑی متصل زمینی سلطنت بنا دیا۔ اس کی فتوحات کے ساتھ وسیع پیمانے پر تباہی اور قتل عام بھی جڑا ہے، اور اس کا ایک باب دریائے سندھ کے کنارے، آج کے پاکستان میں بھی لکھا گیا۔
ابتدائی زندگی
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق چنگیز خان کی زندگی کا بڑا ماخذ "منگولوں کی خفیہ تاریخ" (Secret History of the Mongols) ہے جس کے بعض حصے تیرھویں صدی کے پہلے نصف کے ہیں، اور جس میں کئی افسانوی باتیں بھی شامل ہیں۔ اس کی پیدائش کا سال یقینی نہیں؛ بعض محققین 1162ء اور بعض 1167ء بتاتے ہیں۔ اس کا باپ یسوگئی ایک قبائلی سردار تھا جسے ایک مخالف قبیلے نے زہر دے دیا۔ اس وقت تیموجن کی عمر نو سے بارہ برس کے درمیان تھی۔
باپ کی موت کے بعد قبیلے نے اس خاندان کو تنہا چھوڑ دیا۔ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق تیموجن کو ایک موقع پر ایک قبیلے نے قید بھی کیا، مگر وہ فرار ہو گیا۔ رفتہ رفتہ اس نے اتحاد بنائے، کیرائت قبیلے کے سردار طغرل سے تعلق جوڑا اور جنگجو کے طور پر شہرت حاصل کی۔
خانِ اعظم
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق تقریباً دس برس میں تیموجن نے تاتاریوں، کیرائتوں، نائمانوں اور مرکتوں جیسے حریفوں کو شکست دی۔ 1206ء میں دریائے اونون کے منبع کے قریب منگول سرداروں کی مجلس "قورلتائی" نے اسے اپنا سربراہ تسلیم کیا اور "چنگیز خان" کا لقب دیا، جس کا مطلب غالباً "عالمگیر حکمران" ہے۔
ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق اس نے روایت سے ہٹ کر رشتہ داروں کے بجائے قابل ساتھیوں کو اہم عہدے دیے اور سپاہیوں کو قبیلے کی بنیاد کے بجائے دس دس کی ٹولیوں میں منظم کیا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس نے منگول زبان کو، جو اس وقت تک صرف بولی جاتی تھی، ایغور رسم الخط میں لکھنے کا حکم دیا، "یاسا" کے نام سے قوانین کا مجموعہ مرتب کرایا اور گھڑ سوار قاصدوں کا ڈاک کا نظام قائم کیا۔ دونوں ماخذ کے مطابق اس کی سلطنت میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے عقیدے پر چلنے کی آزادی تھی اور تجارت اور تاجروں کو تحفظ دیا جاتا تھا۔
چین کی طرف مہمات
چنگیز خان کی پہلی بڑی بیرونی مہم شمال مغربی چین کی شی شیا (Xi Xia) ریاست کے خلاف تھی، جس کے حکمران نے 1209ء کی مہم کے بعد خراج دینا قبول کیا۔ پھر شمالی چین کی جن (Jin) سلطنت کی باری آئی۔ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق 1211ء سے 1214ء تک منگولوں نے اس کے دیہی علاقوں کو تاخت و تاراج کیا اور 1215ء میں جن دارالحکومت ژونگدو، یعنی آج کا بیجنگ، تباہ کر دیا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 1212ء اور 1213ء میں ہی تقریباً نوے شہر تباہ ہوئے، اور ایک حربہ یہ تھا کہ ایک شہر کو تباہ کر کے دوسرے شہروں کو خبردار کیا جاتا کہ ہتھیار نہ ڈالنے کی صورت میں ان کا انجام بھی یہی ہو گا۔
خوارزم کی جنگ اور دریائے سندھ کا معرکہ
مغرب میں چنگیز خان کا سامنا خوارزم شاہی سلطنت سے ہوا جو آج کے ترکمانستان، ازبکستان، افغانستان اور ایران پر پھیلی ہوئی تھی۔ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق خوارزم کے سلطان نے ایک تجارتی معاہدہ کیا، مگر جب پہلا منگول تجارتی قافلہ پہنچا تو اس کا مال لوٹ لیا گیا اور تاجر قتل کر دیے گئے، پھر چنگیز خان کے سفیر بھی مارے گئے۔ 1219ء میں مہم شروع ہوئی اور 1220ء–1221ء میں منگول فوج نے بخارا، سمرقند اور گرگانج جیسے شہر ایک ایک کر کے فتح کیے۔ ہنرمندوں کو عموماً بچا لیا جاتا، جبکہ مزاحمت کرنے والے سپاہی اور امرا قتل کیے جاتے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس مہم میں بے شمار شہر تباہ ہوئے اور اس خطے کا آبپاشی کا نظام بھی برباد کر دیا گیا۔
خوارزم شاہ کا بیٹا جلال الدین (Jalal al-Din) مزاحمت کرتا ہوا مشرق کی طرف بڑھا۔ ایرانی مؤرخ جوینی کی تاریخ کے اقتباسات، جو ایلیٹ اور ڈاؤسن کی کتاب میں شامل ہیں، کے مطابق دریائے سندھ کے کنارے لڑی جانے والی جنگ میں جب شکست یقینی ہو گئی تو جلال الدین نے گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور تیر کر دوسرے کنارے پہنچ گیا۔ اسی کتاب میں شامل ایک بیان کے مطابق دریا کا کنارہ پانی سے تیس فٹ سے زیادہ بلند تھا، اور چنگیز خان نے کنارے پر کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھا اور جلال الدین کی جرأت کی تعریف کی۔ جوینی اس واقعے کو 618 ہجری (1221ء) کا بتاتا ہے۔ اسی ماخذ کے مطابق بعد میں ایک منگول دستہ تعاقب میں دریا پار کر کے ملتان تک آیا اور شہر کا محاصرہ کیا، مگر شدید گرمی کی وجہ سے واپس چلا گیا۔
تباہی کا پیمانہ: مؤرخین کے اندازے
چنگیز خان اور اس کے جانشینوں کی جنگوں میں کتنے لوگ مارے گئے، اس کا کوئی قابلِ اعتماد عدد موجود نہیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق قرونِ وسطیٰ کے وقائع نگار لاکھوں ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق ہلاکتوں کی صحیح تعداد جاننا ناممکن ہے، جزوی طور پر اس لیے کہ منگول خود دہشت پھیلانے کے لیے اپنی بے رحمی کی شہرت عام کرتے تھے؛ اسی ادارے کی ایک اور تحریر کے مطابق بہت سے مؤرخین منگول فتوحات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً چار کروڑ بتاتے ہیں۔ یوں دستیاب اندازے "لاکھوں" سے لے کر تقریباً چار کروڑ تک ہیں، اور یہ صرف چنگیز خان نہیں بلکہ اس کے جانشینوں کی جنگوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔
وفات اور ورثہ
ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق 1227ء کے آغاز میں شی شیا کے خلاف ایک نئی مہم کے دوران چنگیز خان گھوڑے سے گر کر زخمی ہوا اور اس کی صحت پھر نہ سنبھل سکی۔ 18 اگست 1227ء کو اس کا انتقال ہوا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس کی میت منگولیا لے جائی گئی مگر قبر کا مقام خفیہ رکھا گیا، اور آج تک معلوم نہیں۔
اس نے سلطنت اپنے بیٹوں جوجی، چغتائی، تولی اور اوگدائی میں تقسیم کر دی تھی، اور 1229ء میں اوگدائی خانِ اعظم بنا۔ بعد میں اس کے پوتے قبلائی خان نے پورا چین فتح کر کے یوآن خاندان کی بنیاد رکھی۔ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق اپنے عروج پر منگول سلطنت ایک کروڑ دس لاکھ مربع میل سے زیادہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ آج منگولیا میں چنگیز خان کو قوم کے بانی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
مؤرخین چنگیز خان کے بارے میں دونوں پہلو بیان کرتے ہیں: ایک طرف اس کی جنگوں میں شہروں کی تباہی اور لاکھوں جانوں کا ضیاع، دوسری طرف تحریر، قانون، ڈاک کے نظام اور تجارتی راستوں کا تحفظ، جس نے مشرق اور مغرب کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ اس کی کہانی ان دونوں حقیقتوں کو ساتھ رکھ کر ہی سمجھی جا سکتی ہے۔
ماخذ
- Mark Cartwright, "Genghis Khan", World History Encyclopedia, 16 September 2019. https://www.worldhistory.org/Genghis_Khan/
- HISTORY.com Editors, "Genghis Khan", HISTORY.com. https://www.history.com/articles/genghis-khan
- HISTORY.com Editors, "10 Things You May Not Know About Genghis Khan", HISTORY.com. https://www.history.com/articles/10-things-you-may-not-know-about-genghis-khan
- H. M. Elliot and John Dowson (eds.), The History of India as Told by Its Own Historians, Vol. II, London: Trübner, 1869: extracts from Juwaini's Tarikh-i Jahan-gusha and Appendix (Jalalu-d din at the Indus; Mongol siege of Multan). https://archive.org/details/historyofindiaas02elli
- Wikipedia, "Destruction under the Mongol Empire" (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Destruction_under_the_Mongol_Empire
- Wikipedia, "Battle of the Indus" (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Battle_of_the_Indus
- "Genghis Khan", Encyclopaedia Britannica (fact-check 20 Oct 2026: 1206 assembly at the source of the Onon River; Bukhara and Samarkand fell in 1220, Gurganj in 1221). https://www.britannica.com/biography/Genghis-Khan


