الظاہر بیبرس: عین جالوت کا سپہ سالار اور مملوک سلطنت کا معمار
تیرہویں صدی کے وسط میں منگول طوفان مغربی ایشیا پر چھایا ہوا تھا۔ 1258ء میں منگولوں نے بغداد فتح کر کے عباسی خلافت کا خاتمہ کر دیا اور 1260ء میں حلب اور دمشق بھی ان کے قبضے میں آ گئے۔…

تیرہویں صدی کے وسط میں منگول طوفان مغربی ایشیا پر چھایا ہوا تھا۔ 1258ء میں منگولوں نے بغداد فتح کر کے عباسی خلافت کا خاتمہ کر دیا اور 1260ء میں حلب اور دمشق بھی ان کے قبضے میں آ گئے۔ اب مصر ان کا اگلا ہدف تھا۔ اسی موقع پر ستمبر 1260ء میں بیسان کے قریب عین جالوت کے مقام پر مصر کی مملوک فوج نے منگولوں کو شکست دی۔ اس جنگ کے نمایاں سالاروں میں ایک غلام سپاہی بھی تھا جو چند ہفتے بعد مصر کا سلطان بنا اور سترہ برس حکومت کی۔ اس کا نام رکن الدین بیبرس البندقداری (Baybars) تھا، جو الملک الظاہر کے لقب سے مشہور ہوا۔
غلامی سے فوج تک
بیبرس تیرہویں صدی کی تیسری دہائی میں بحیرۂ کیسپین اور کوہِ یورال کے درمیان قپچاق ترکوں کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ مورخ اسٹینلے لین پول (Stanley Lane-Poole) کے مطابق وہ دراز قد اور نیلی آنکھوں والے تھے، اور ایک آنکھ میں نقص کی وجہ سے غلاموں کے بازار میں ان کی قیمت کم لگی۔ ولیم میور (William Muir) لکھتے ہیں کہ انہیں پہلے دمشق میں بیچا گیا مگر آنکھ کے نقص کی وجہ سے واپس کر دیا گیا۔
وہ پہلے ایک امیر ایدکین البندقدار کی ملکیت میں رہے، اسی نسبت سے "البندقداری" کہلائے۔ بعد میں وہ ایوبی سلطان الصالح ایوب کی خدمت میں آئے اور ان کے تربیت یافتہ مملوک دستوں میں شامل ہو گئے جو "بحری مملوک" کہلاتے تھے۔
1250ء میں فرانس کے بادشاہ لوئی نہم (Louis IX) کی قیادت میں ساتویں صلیبی جنگ کے دوران منصورہ کی لڑائی ہوئی۔ لین پول کے مطابق جب مصری فوج کے عام دستے بکھر چکے تھے تو بیبرس کی قیادت میں مملوکوں کے حملے نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ اسی سال مصر میں ایوبی اقتدار ختم ہوا اور مملوک امراء نے حکومت سنبھال لی۔ اگلے چند برس امراء کی باہمی کشمکش میں گزرے، جس دوران بیبرس کچھ عرصہ مصر سے باہر بھی رہے۔
عین جالوت
1260ء میں منگول حکمران ہلاکو خان نے مصر کے سلطان سیف الدین قطز (Qutuz) کو دھمکی آمیز خط بھیجا اور اطاعت کا مطالبہ کیا۔ لین پول کے مطابق قطز نے منگول سفیروں کو قتل کروا دیا اور جنگ کا فیصلہ کیا۔ بیبرس ہراول دستے کے سالار تھے اور انہوں نے غزہ سے منگول دستے کو نکالا۔ پھر مصری فوج ساحل کے ساتھ شمال کی طرف بڑھی۔
3 ستمبر 1260ء کو بیسان کے قریب عین جالوت کے مقام پر دونوں فوجوں کا ٹکراؤ ہوا۔ لین پول لکھتے ہیں کہ منگولوں کے پہلے زوردار حملے نے مصری فوج کے ایک حصے کو منتشر کر دیا، مگر تعاقب میں منگولوں کی صفیں بکھر گئیں اور مملوکوں نے جم کر جوابی حملہ کیا۔ منگول سالار کتبغا (Kitbuqa) مارا گیا اور منگول فوج پسپا ہو گئی۔ میور کے مطابق یہ فتح بیبرس اور قطز دونوں کی بہادری کا نتیجہ تھی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس کے بعد مملوکوں نے منگولوں کو دریائے فرات تک پیچھے دھکیل دیا۔
واپسی کے سفر میں اقتدار کا سوال کھڑا ہوا۔ مورخین کے مطابق قطز نے بیبرس کو حلب کی گورنری دینے کا وعدہ پورا نہ کیا، جس کے بعد بیبرس نے دوسرے امراء کے ساتھ مل کر سازش کی اور قطز کو شکار کے دوران قتل کر دیا گیا۔ امراء نے بیبرس کو سلطان چن لیا اور اکتوبر 1260ء میں وہ قاہرہ میں داخل ہوئے۔
سلطنت کا انتظام
لین پول بیبرس کو مملوک سلطنت کا "اصل بانی" قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بیبرس نے مملوک فوج کو منظم کیا، بحری بیڑہ دوبارہ بنایا، امراء اور سپاہیوں میں جاگیریں تقسیم کیں، مصر میں پل اور نہریں بنوائیں اور شام کے قلعے مضبوط کیے۔ میور کے مطابق انہوں نے ٹیکسوں میں کمی کی، مساجد کی تزئین کی اور مذہبی اوقاف قائم کیے۔
ان کا ایک نمایاں کارنامہ ڈاک کا نظام تھا۔ لین پول کے مطابق سلطنت کے ہر حصے کو دارالحکومت سے جوڑنے کے لیے چوکیاں قائم کی گئیں جہاں تازہ دم گھوڑے تیار رہتے تھے، اور سلطان ہفتے میں دو بار سلطنت بھر سے آنے والی رپورٹیں دیکھتے اور ان کا جواب دیتے تھے۔ ساتھ ہی کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی کا باقاعدہ نظام بھی موجود تھا۔ میور لکھتے ہیں کہ دمشق سے قاہرہ تک ڈاک ساٹھ گھنٹوں میں پہنچ جاتی تھی۔ قاہرہ میں 1267ء سے 1269ء کے دوران ان کے نام سے ایک بڑی مسجد تعمیر ہوئی۔
1261ء میں بیبرس نے عباسی خاندان کے ایک فرد کو، جو بغداد کی تباہی سے بچ نکلا تھا، قاہرہ بلا کر خلیفہ کے طور پر بٹھایا، اور خلیفہ نے انہیں سلطنت کی سند عطا کی۔ میور کے مطابق اس سے سلطان کے اقتدار کو قانونی جواز ملا۔ یہ خلیفہ بغداد واپس جانے کی کوشش میں مارا گیا تو 1262ء میں ایک اور عباسی کو خلیفہ بنایا گیا، مگر مورخین کے مطابق مملوک دور میں یہ منصب زیادہ تر رسمی رہا۔
صلیبی ریاستوں اور منگولوں سے جنگیں
منگولوں کے مقابلے کے لیے بیبرس نے منگولوں ہی کی ایک شاخ، طلائی اردو (Golden Horde) کے حکمران برکہ خان سے اتحاد کیا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ اتحاد اس وقت ہوا جب برکہ اور ہلاکو کے درمیان جنگ چھڑ چکی تھی۔
ساحلی شام میں باقی رہ جانے والی صلیبی ریاستوں کے خلاف بیبرس نے کئی مہمات کیں۔ 1265ء میں قیساریہ اور ارسوف، 1266ء میں صفد اور 1268ء میں انطاکیہ ان کے ہاتھ آئے۔ میور کے مطابق صفد میں امان دیے جانے کے باوجود محافظوں کو قتل کیا گیا اور انطاکیہ میں بھی بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے یا غلام بنائے گئے؛ میور نے ان واقعات پر سخت تنقید کی ہے۔ 1271ء میں شام کا مشہور قلعہ کراک دے شوالیے (Krak des Chevaliers) طویل محاصرے کے بعد فتح ہوا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بیبرس نے قلعے کی مرمت کروا کے اسے شام میں اپنا فوجی مرکز بنا لیا۔
ان کی آخری بڑی مہم 1277ء میں اناطولیہ کی طرف تھی، جہاں ابلستان (Elbistan) کے قریب انہوں نے منگول فوج کو شکست دی۔
آخری ایام اور ورثہ
اسی مہم سے واپسی پر بیبرس دمشق میں ٹھہرے اور جون 1277ء کے اواخر یا جولائی کے آغاز میں وہیں انتقال کر گئے۔ میور کے مطابق ایک روایت یہ ہے کہ گھوڑی کا خمیر شدہ دودھ (قمیز) پینے کے بعد انہیں بخار ہوا، جبکہ دوسری روایت زہر کا ذکر کرتی ہے۔ انہیں دمشق میں دفن کیا گیا اور ان کی موت کی خبر تقریباً ایک ماہ تک چھپائی گئی، جس کے بعد ان کے بیٹے السعید تخت پر بیٹھے۔
مورخین نے بیبرس کی شخصیت کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔ لین پول ان کے ہم عصر ولیم آف ٹریپولی کا قول نقل کرتے ہیں کہ بیبرس "سپاہی کے طور پر جولیس سیزر سے کم نہ تھے اور بدطینتی میں نیرو سے"، مگر وہی مصنف انہیں اپنے لوگوں کے ساتھ منصف بھی قرار دیتا ہے۔ میور ان کی سخت گیری پر تنقید کرتے ہیں، مگر یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کی سرگرمی، عوامی کاموں اور اوقاف کی وجہ سے ان کا نام انیسویں صدی کے آخر تک قاہرہ کے قہوہ خانوں میں مصر کے عظیم ترین سلاطین میں لیا جاتا تھا۔
بیبرس نے جس مملوک ریاست کی بنیادیں مضبوط کیں، وہ 1517ء میں عثمانی فتح تک مصر اور شام پر حکمران رہی۔
ماخذ
- Stanley Lane-Poole, A History of Egypt in the Middle Ages, Methuen & Co., London, 1901 (Mansura, Ain Jalut, Baybars' reign and the postal system). Internet Archive: https://archive.org/details/historyofegyptin00lane
- Sir William Muir, The Mameluke or Slave Dynasty of Egypt, 1260–1517 A.D., Smith, Elder & Co., London, 1896, ch. II–III. Internet Archive: https://archive.org/details/mamelukeofslaved00muir
- Mark Cartwright, "Krak des Chevaliers", World History Encyclopedia, 7 September 2018. https://www.worldhistory.org/Krak_Des_Chevaliers/
- Mark Cartwright, "Eighth Crusade", World History Encyclopedia, 13 September 2018. https://www.worldhistory.org/Eighth_Crusade/
- Mark Cartwright, "Seventh Crusade", World History Encyclopedia, 12 September 2018. https://www.worldhistory.org/Seventh_Crusade/
- Michael Goodyear, "Golden Horde", World History Encyclopedia, 14 October 2019. https://www.worldhistory.org/Golden_Horde/
- "Baybars", Wikipedia (pointer only: birth year, Elbistan, burial). https://en.wikipedia.org/wiki/Baybars
- Mustafa Banister, on the Abbasid caliphate of Cairo, Mamluk Studies Review XVIII (2014–15) (fact-check 20 Oct 2026: al-Hakim I proclaimed Muharram 661 AH / November 1262); "Al-Hakim I", Wikipedia (pointer). https://knowledge.uchicago.edu/record/1223/files/MSR_XVIII_2014-15_Banister.pdf ; https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Hakim_I

